تازہ ترینخبریںپاکستان سے

بدعنوان اور نااہل چینی کمپنی کو ٹرانسمیشن لائن کا ٹھیکہ، جی ایم این ٹی ڈی سی کا کردار مشکوک

عالمی بینک چینی کمپنی سینو ہائیڈرو کارپوریشن کو بچانے میدان میں آگیا، شفافیت کے علمبردار عالمی بینک نے بڑی طاقتوں کی دوغلی پالیسی بے نقاب کردی

لاہور (رپورٹ: ضیاءتنولی) پاکستان میں بجلی کی پہلی سب سے بڑی ترسیلی لائن کا ٹھیکہ چین کی ناتجربہ کار کمپنی سینو ہائیڈرو کارپوریشن کو دینے سے قبل ہی کمپنی کی نااہلی اور کرپشن کے الزامات سامنے آگئے۔

حقیقت آشکار ہونے پر سوال اٹھے تو عالمی بینک چینی کمپنی سینو ہائیڈرو کارپوریشن کو بچانے میدان میں آگیا، شفافیت کے علمبردار عالمی بینک نے بڑی طاقتوں کی دوغلی پالیسی بے نقاب کردی ہے۔

روزنامہ جہان پاکستان کے انویسٹی گیشن سیل کو موصولہ دستاویزات کے مطابق ملک کی پہلی 765میگا واٹ کی داسو ٹومانسہرہ ٹرانسمیشن لائن بچھانے کے لیے ٹھیکہ حاصل کرنے والی چینی کمپنی سینو ہائیڈرو کارپوریشن کے متعلق حقائق سامنے آئے ہیں کہ منصوبے کی تعمیر کیلئے طلب پیشکش میں دنیا بھر سے پانچ کمپنیوں نے حصہ لیا لیکن قرعہ سینو ہائیڈرو کارپوریشن کے نام نکل آیا اور سینو ہائیڈرو کارپوریشن کو منصوبے کی کنسلٹنٹ جرمنی کی کمپنی ”گوپا“ اور عالمی بینک کے نو آبجیکشن لیٹرز(NOL)بھی حاصل تھے، ابھی سینو ہائیڈرو کارپوریشن کو منصوبے کا باقاعدہ ٹھیکہ سونپا بھی نہیں گیا ،

اسی دوران یہ حقائق سامنے آئے کہ پاکستان کے اِس سب سے بڑے منصوبے کا ٹھیکہ حاصل کرنے والی چینی کمپنی سینو ہائیڈرو کارپوریشن تمام تر تکنیکی کاموں سے ناواقف ہے اورصرف سول ورکس کا ہی تجربہ رکھتی ہے مگر اسے عالمی بینک اور جرمن کمپنی ”گوپا“ کے سپورٹنگ ڈاکیومنٹ بھی حاصل ہیں اس کے فوراً بعد جرمنی کی کنسلٹنٹ کمپنی ”گوپا“ کے متعلق کرپشن اور نااہلی جیسے الزامات بھی سامنے آگئے اوراس کے بعد وزارت توانائی حکومت پاکستان نے نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی( این ٹی ڈی سی) کو تحریری طور پراِس سارے معاملے خصوصاً جنرل منیجر این ٹی ڈی سی اشعر علی کیخلاف تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہاہے کہ سارے معاملے اور جی ایم این ٹی ڈی سی کی تحقیقات ، این ٹی ڈی سی کا بورڈ آف ڈائریکٹر ہی کرے گا اور اس معاملے کی صاف و شفاف تحقیقات کرکے رپورٹ کووزارت توانائی حکومت پاکستان کو جمع کرائی جائے۔

ذرائع کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں اِس بڑے منصوبے سے متعلق حیران کن انکشافات سامنے آنا شروع ہوئے تو اسی دوران عالمی بینک نے حکومت پاکستان پر اِس منصوبے سے متعلق سامنے آنے والے انکشافات اور چینی کمپنی سینو ہائیڈرو کارپوریشن سے متعلق تمام تر معاملات کو صاف و شفاف قراردینے کے لیے دباﺅ ڈالنا شروع کردیاہے جس کے بعد عالمی اداروں کاکرپشن اور شفافیت پر دوہرے معیارکھل کر سامنے آگیا ہے۔

ذرائع کے مطابق عالمی بینک کے زبردست دباﺅ کے باوجود آج سے اعلیٰ سطحی ماہرین کی ٹیم اس منصوبے پر ابتک سامنے آنے والے الزامات اور شواہد کی روشنی میں تحقیقات کی آغاز کررہی ہے اور شک ظاہر کیا جارہاہے کہ سینو ہائیڈرو کارپوریشن کو ٹھیکہ دلوانے میں جی ایم این ٹی ڈی سی اشعر علی کا اہم کردار ہے اور تحقیقات میں اس پہلو کو بھی خصوصی طور پر فوکس کیا جارہا ہے۔

جہان پاکستان انویسٹی گیشن سیل کو موصول ہونے والی دستاویزات کے مطابق وزارت توانائی نے رواں سال مئی میں این ٹی ڈی سی کو ہدایات دیتے ہوئے کہاگیا تھا کہ وہ امر کی تحقیقات کرکے وزارت توانائی کو پیش کرے تاہم این ٹی ڈی سی حکام کی جانب سے یہ رپورٹ تاحال پیش نہیں کی گئی ،

علاوہ ازیں وزارت توانائی نے روزنامہ جہان پاکستان کو بتایا ہے کہ اس حوالے سے این ٹی ڈی سی حکام کو ریمائنڈر لیٹر بھی لکھاگیا لیکن اس اہم ترین انکوائری کو تاحال سرد خانے کی نذررکھاگیاہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑے بجلی کے ترسیلی منصوبے پر کام کرنے خواہش مند چینی کمپنی سینو ہائیڈرو کارپوریشن تکنیکی کاموں سے ناواقف ہونے کے باوجود اِس منصوبے پر کام کرنے کی خواہاں ہے اوراسے جرمن کنسلٹنٹ کمپنی اور عالمی بینک کے( No objection certificate)بھی حاصل ہے یہی نہیں حکومت پاکستان پر اِس کمپنی کی نااہلی اور کرپشن کی شکایات کو دبانے کے لیے دباﺅ بڑھایا جارہا ہے تاکہ تمام تر الزامات اور حقائق کے باوجود یہی چینی کمپنی سینو ہائیڈرو کارپوریشن منصوبے پر کام شروع کرسکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button