Columnfarrukh basir

پنجاب میں اقتدار کی رسہ کشی .. فرخ بصیر

فرخ بصیر

پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں پھر سے نئی سیاسی تبدیلی کے آثار پیدا ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ حمزہ شہباز بھی طویل لندن یاترا کے بعد لاہور واپس پہنچ چکے ہیں جبکہ ان کے سابق وزیر ملک احمد خان کی وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی سے خفیہ ملاقات کی افواہیں زبان زد عام ہیں ،خود عمران خان حالیہ دنوں میں اپنی زبان سے کہہ چکے ہیں کہ پنجاب میں تبدیلی کی سازش کی جا رہی ہے اور مسٹر ایکس اور وائی اس میں ملوث ہیں۔پنجاب میں یہ تبدیلی کب رونما ہوتی ہے، سیاسی شعبدہ باز ایک ماہ کےاندر وقوع پذیر ہونے کی پیش گوئیاں کر رہے ہیں تاہم جو سیاسی جماعتیں تبدیلی کی اصل سٹیک ہولڈر ہیں ان کی قیادت سے ابھی تک میڈیا نے اس حوالے سے کوئی سوال جواب نہیں کیا اور وہ قیادت اس وقت سیلاب زدگان کے ریلیف ورک میں مصروف نظر آتی ہے تاہم پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کی سیکنڈ کلاس قیادت ضرور کہیں نہ کہیں اس تبدیلی کے حوالے سے بات کرتی نظر آتی ہے۔
گذشتہ سے پیوستہ روز پیپلز پارٹی کے پنجاب اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر سید حسن مرتضی میڈیا سے یہ کہتے دکھائی دئیے کہ پنجاب حکومت کاجانا طے ہوچکا ہے۔ فارمولا بھی جلد سامنے آجائے گا ۔وزیر اعلیٰ کا امیدوار ضروری نہیں نون لیگ سےہو، کوئی بھی ہوسکتا ہے۔ میں بھی ہوسکتاہوںمیری اہلیت بھی پوری ہےقاف لیگ سے رابطوں پر انکا کہنا تھا کہ یہ قبل از وقت ہوگا لیکن تبدیلی ناگزیرہے ۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کی طرف سے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے توہین عدالت کیس کی سماعت کے بعد ان پر دو ہفتے (22ستمبر) بعد فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہےجس پر سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں کہ پہلے خان صاحب کو جواب دینے کے لیے ایک ہفتے کی مہلت اور پھر اب فرد جرم لگانے کے لیے مزید دو ہفتے کی مہلت سے انصاف کے نظام پر انگلیاں اٹھیں گی لیکن جس طرح اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کو روسٹرم پر آنے کی اجازت دینے سے انکار کیا ہے، اس سے تو لگتا ہے کہ عدلیہ کم از کم توہین عدالت پر خان صاحب کو کوئی ریلیف دینے کے موڈ میں نہیں ۔اگر عمران خان سے عدالت سے
غیر مشروط معافی بھی مانگ لیتے ہیں تو اسے قبول کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ بھی عدلیہ کے ہاتھ میں ہے ،جس سے لگتا ہے کہ سابق وزیر اعظم کے گرد قانونی گھیرا تنگ ہوتا جا رہا ہے تاہم فرد جرم کی تاریخ اور پنجاب میں سیاسی تبدیلی کی خبروں اور سرگرمیوں پر نظر دوڑائی جائے تو دال میں کچھ کالا دکھائی دیتا ہے۔اگر فرد جرم کی صورت میں عمران خان نا اہل ہوتے ہیں تو وہ ملتوی ہونے والے قومی اسمبلی کے 9 حلقوں سے بھی ضمنی الیکشن نہیں لڑ پائیں گے ۔اس پہلی اینٹ کے گرنے کی دیر ہے ،پی ٹی آئی کی ساری سیاسی عمارت دھڑام سے نیچے آ گرے گی ۔ابھی تو خیبر پختونخوا سے پی ٹی آئی کے ایک رکن صوبائی اسمبلی فہیم احمد نے اپنی جماعت سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے 20ارکان صوبائی اسمبلی کے ساتھ رابطوں کا دعویٰ کیا ہے جبکہ پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی شکور شاد کی رٹ پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے ان کی رکنیت ختم کرنے سے متعلق سپیکر قومی اسمبلی کے حکم کو معطل کرتے ہوئے انہیں قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں شرکت کرنے کی ہدایت کی ہے۔
سابق وزیر دفاع پرویز خٹک اور پیپلز پارٹی
پارلیمنٹرینز کے صدر آصف علی زرداری کے درمیان خیبر پختونخوا میں بھی سیاسی تبدیلی کے حوالے سے رابطوں کی خبریں میڈیا میں گردش سے کر رہی ہیں۔خود عمران خان کے وکیل حامد خان ، شیخ رشید اور صدر عارف علوی سابق وزیر اعظم کو کسی نہ کسی شکل میں مطعون کرتے نظر آ تے ہیں۔خان صاحب بھی روز کسی نہ کسی ادارے یا اس کے سربراہ پر گرجتے برستے نظر آتے ہیں اور یہ سلسلہ اگلے 14دنوں کے دوران اور تیز ہوتا دکھائی دیتا ہے کیونکہ اس عرصے میں ان کی کوشش ہو گی کہ اداروں بالخصوص عدلیہ کو دباؤ میں لا کر اپنی پسند کا فیصلہ کرنے پر مجبور کر دیں مگر سوائے عدالتی معاونین کے اسلام آباد ہائیکورٹ کا کوئی جج بظاہر انہیں ریلیف دیتا دکھائی نہیں دیتا اس صورتحال میں اگر خان صاحب عدالت اور انتخابی میدان میں ناکام ہوتے ہیں تو وہ سڑکوں پر احتجاج کو اور تیز کریں گے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اس دوران اسلام آباد مارچ کی کال دیدیں ۔رہی بات پنجاب میں سیاسی تبدیلی کی تو اس وقت چودھری پرویز الٰہی کا ستارہ عروج پر ہے ،یہاں مجھے منظور وٹو یاد آرہے ہیں جنہوں نے بے نظیر بھٹو دور میں اقلیت کے باوجود پنجاب کی وزارت اعلیٰ پر موجود تھے، ٹھیک اسی طرح چودھری پرویز الٰہی اور ان کے صاحبزادے مونس الٰہی نے بہترین پتے کھیلتے ہوئے پی ٹی آئی کو خوف میں مبتلا کرکے وزارت اعلیٰ حاصل کرلی اور شنید ہے کہ پی ٹی آئی کے دس سے15ارکان کو توڑنے کے لیے ان سے رابطے کیے گئے ہیں،یہ ٹاسک مکمل ہوتے ہی گورنر پنجاب وزیر اعلیٰ چودھری پرویز الٰہی کو ایوان سے اعتماد کا ووٹ لینے کو کہیں گے جہاں فی الوقت پی ٹی آئی اور قاف لیگ کے پاس 186اور اپوزیشن اتحاد کے پاس 179ممبران ہیں۔ اگر پنجاب میں کوئی سیاسی تبدیلی آتی ہے تو قاف لیگ اور پیپلز پارٹی کے تعاون سے آئے گی۔نون لیگ کی عددی اکثریت کے باوجود چودھری صاحب ہی وزارت اعلیٰ پر فائز دکھائی دیتے ہیں کیونکہ حمزہ شہباز کے حوالے سے ان کی اپنی جماعت میں تحفظات پائے جاتے ہیں، وہ پنجاب میں نہ صرف اپنی حکومت چلانے بلکہ نون لیگ کو ضمنی الیکشن جتوانے میں بھی ناکام رہے ۔ سپیکر شپ اور سینئر وزارت پر پیپلز پارٹی اور نون لیگ میں جوڑ پڑ سکتا ہے لیکن یہ طے ہے کہ اس مرتبہ پیپلز پارٹی اپنا رائٹ شیئر لیتے وقت پہلے والی مفاہمت کا مظاہرہ نہیں کرے گی۔نئی سیاسی تبدیلی چودھری برادران کے پھر سے ایک ہو جانے کی نوید بھی ثابت ہو گی تاہم اس کے لیے ہم سب کو 22 ستمبر کا انتظار کرنا ہو گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button