ColumnHabib Ullah Qamar

بھارتی مسلمانوں کی نسل کشی کاخوفناک منصوبہ .. حبیب اللہ قمر

حبیب اللہ قمر

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم جینوسائیڈ واچ نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کروڑوں مسلمانوں کی نسل کشی کی تیاری کر رہا ہے۔ تنظیم کے بانی صدر ڈاکٹر گریگوری اسٹینٹن نے یہ انکشاف شکاگو میںایک پینل مباحثہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اسلامک سوسائٹی آف نارتھ امریکہ کے سالانہ59ویں کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ آر ایس ایس اب اپنے بالادستی کے پر تشدد نظریے کو پورے بھارت میں سکولوں، تجارتی انجمنوں ، کلچرل سوسائٹیز اورمذہبی گروپوںمیں آگے بڑھا رہی ہے۔ آر ایس ایس بجرنگ دل کے کیمپ چلاتی ہے، جہاں نوجوان ہندو لڑکوں کو ہندوتوا کا نظریہ سکھایا جاتا ہے اور مسلمانوں سے نفرت اور خوف کی کھلے عام وکالت کی جاتی ہے۔ آر ایس ایس کے کیمپوں کو بیرون ملک ہندوستانیوں سے خاص طور پر انڈیا ڈویلپمنٹ اینڈ ریلیف فنڈ کے ذریعے بڑی مالی امدادبھی ملتی ہے۔ڈاکٹر اسٹینٹن نے متنبہ کیا کہ بی جے پی ماضی میں پرتشددفسادات اور نسل کشی کو بھڑکانے میں کردار ادا کر چکی ہے، خاص طور پر 2002ء میں گجرات میں مسلم کش فسادات کے دوران بدترین قتل عام کیا گیا۔اس وقت بھی بھارتی حکومت کی سربراہی میں مسلمانوں کے وسیع پیمانے پر قتل عام کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔
بھارت میں ہندوانتہاپسندوں کے مسلمانوں پر حملوں کی ایک طویل تاریخ ہے۔کبھی گائے ذبیحہ، لو جہاد یا کوئی اور الزام لگا کر مسلمانوں کی بستیوں پر حملے کر کے بے گناہوں کا خون بہایا جاتا ہے، ان کی جائیدادیں اور املاک برباد کی جاتی ہیں تو کبھی بابری مسجد سمیت دوسری مساجد شہید کر کے فسادات کی آگ بھڑکائی جاتی ہے۔ ہندوانتہاپسند بھارت میں مسلمانوں کا وجود ہی سرے سے برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں۔ تعلیم اور صحت کی طرح ہر میدان میںمسلمانوں کو سازش کے تحت پیچھے رکھا گیا ہے۔ پولیس اور دوسرے قانون نافذ کرنے والے اداروں میں تو خاص طور پر مسلم نوجوانوں کو آگے بڑھنے سے روکا جاتا ہے اور ان پر جھوٹے الزامات لگا کر کئی کئی سال کیلئے جیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے تاکہ وہ اچھے عہدے پر پہنچ کر مسلمانوں کو کوئی فائدہ نہ پہنچا سکیں۔اترپردیش کی طرح کئی ریاستیں ایسی ہیں جہاں لاکھوں کی تعداد میں مسلمان جھونپڑیوں میں رہ رہے ہیں، ان کی نسلیں وہیںجوان ہو کر بڑھاپے میں پہنچ گئیں لیکن بھارت سرکار انہیں اپنے ملک کا شہری تسلیم کرنے کیلئے تیا رنہیں اور بہت بڑی تعداد میں مسلمان ایسے ہیں جنہیں بنگالی اورپاکستانی کا طعنہ دے کر ملکی شناخت سے ابھی تک محروم رکھا گیا ہے۔ بھارت میں جب سے نریندر مودی کی حکومت آئی ہے ملک میں ہندوانتہاپسندی ، مسلم کش فسادات پروان چڑھائے جانے، مساجدومدارس اورعیسائیوں کے چرچوں پر حملوں کے علاوہ کسی چیز نے نمایاں ترقی نہیں کی۔ ہندو انتہا پسندوں کے بے لگام جتھے ہر جگہ مسلمانوں اور دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں پر حملے کر کے ان کی جان و مال سے کھیل رہے ہیں۔
گائے ذبیحہ کے نام پر ہجومی تشدد سے اب تک کتنے ہی مسلمانوں کو شہید کیا جاچکا ہے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ہندوانتہاپسندوں نے ایسے واٹس ایپ گروپ بنا رکھے ہیں جہاں اپنے اہلکاروںسے باقاعدہ مسلمانوں کے خلاف کارروائیوں کی رپورٹیں طلب کی جاتی ہیں اور
مسلمانوں کے خلاف کارروائیوں کے طریقے بتائے جاتے ہیں۔بھارت میں ہندوانتہا پسندوں کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈے، جھوٹی خبروں اور غلط معلومات کی بنیاد پر ہتھیاروں سے لیس بھگوا دہشت گردوں کو بے گناہ مسلمانوں کے قتل کیلئے اکسایا جاتا ہے۔اس مقصد کیلئے سوشل میڈیا کو ایک بڑے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔ ابھی کچھ عرصہ قبل ہری دوار شہر میں ہندوانتہاپسندوں کا ایک بڑا اجتماع ہوا جسے ’’دھرم سنسد‘‘ کا نام دیا گیا ۔ اس اجتماع میں ہندوانتہاپسندوں کی طرف سے کھلے عام مسلمانوں کی نسل کشی کی باتیں کی گئیں۔ ہندو انتہا پسندوں کی ایک خاتون لیڈر نے تو مسلم دشمنی کا ثبوت دیتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ چندسو ہندو اگراپنے مذہب کے سپاہی بن کر20کروڑ مسلمانوں کو ہلاک کر دیں تو وہ فاتح بن کر ابھریں گے اور ایسا کرنے سے ہندومت کی اصل شکل سناتن دھرم کو تحفظ حاصل ہو گا۔مذکورہ خاتون لیڈر نے کہاکہ اگر چند ایک لاکھ مسلمانوں کا قتل کر دیا جائے تو باقی سب مسلمان بلا چوں چراں بھارت کو ایک ہندو راشٹرکے طور پر تسلیم کر لیں گے ۔ ہندو انتہاپسندوں کی طرف سے یہ ساری باتیں اعلانیہ طو رپر کی گئیں اور اس اجتماع میں بی جے پی کے اعلیٰ عہدیداران بھی شریک ہوئے جو مسلمانوں کے خلاف اب تک کی کارکردگی کی رپورٹیں پیش کرتے رہے ۔ دنیا بھر کے میڈیا نے ہندوئوں کے اس اجتماع میں مسلمانوں کی نسل کشی کرنے کے حوالے سے کی گئی تقاریر کی کوریج کی لیکن کسی ملک اور بین الاقوامی ادارے کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی اور بھارت سرکار پر کسی قسم کا دبائو نہیں بڑھایا گیا کہ وہ مسلمانوں کے خلاف
کارروائیوں سے باز رہے ۔
بھارتی بحریہ کے سابق سربراہ ایڈمرل رام داس سمیت ریٹائرڈ جرنیلوں اوردفاعی ماہرین نے مسلمانوں کی نسل کشی کی دھمکیوں پر شدید احتجاج کرتے ہوئے اسے انڈیا کی تباہی کی طرف سے قدم قرار دیا لیکن ان کی بھی سن ان سنی کر دی گئی۔ بی جے پی سرکار کی طرف سے ہندو انتہا پسندوں کی کھلے عام سرپرستی کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف تشدد اور انتہاپسندی نے اور زیادہ شدت اختیار کر لی ہے۔ اس کی خوفناک مثال حال ہی میں ہندوئوں کے مذہبی جلوسوں کومساجد کے سامنے سے گزارنے کا ایک نیا سلسلہ شروع کر نا ہے۔ یہ جلوس گزارے جانے کے موقع پر مسلمانوں کے گھروں اور مساجد پر خاص طور پر حملوں کے واقعات پیش آئے ہیں جن میں مساجد کے بے حرمتی کے ساتھ ساتھ کئی مسلمانوں کو بھی شہید و زخمی کیا جا چکا ہے۔ بھگوا دہشتگرد ان دنوں پورے ہندوستان میں دندناتے پھرتے ہیں اور جہاں دل چاہتا ہے کسی ڈاڑھی اور پگڑی والے کو پکڑ کر وحشیانہ تشدد شروع کر دیا جاتا ہے۔ بھارت کی انتہاپسند حکومت مذموم پروپیگنڈا کے ذریعے ہندوستانی مسلمانوں کو ملکی سطح پر ایک بوجھ قرار دیتی ہے اور منظم منصوبہ بندی کے تحت انہیں تعلیم، صحت اور معیشت کے میدان میں اس قدر نیچے گرانا چاہتی ہے کہ وہ برسراقتدار انتہا پسند طبقہ کے رحم و کرم پر زندگی گزارنے کیلئے مجبور ہو جائیں۔ ماضی میں جب کبھی مکہ مسجد، مالیگائوں، ممبئی کی لوکل ٹرینوں اور اکشردہم مندر میں دھماکوں کے واقعات پیش آئے، ان کا الزام ہمیشہ مسلمانوں پر لگایا گیا او ربغیر کسی تحقیق اورتفتیش کے نوجوانوں کو گرفتار کر کے جیلوں میں ڈالا جاتا رہامگر کسی ایک واقعہ میں بھی مسلمانوں کے ملوث ہونے کا ثبوت نہیں مل سکا۔ان دنوں بھی ہندوستانی مسلمانوں پر دہشت گردی کے الزامات لگا کر کبھی پاکستان بھیجنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں تو کبھی ان کی نسل کشی کی باتیں کی جاتی ہیں۔
حال ہی میں انسانی حقوق کی عالمی تنظیم جینوسائیڈ واچ کی طرف سے بھارتی مسلمانوں کی نسل کشی کے خوفناک منصوبہ کے متعلق جو رپورٹ جاری کی وہ مکمل طور پر درست ہے۔تنظیم کے بانی صدر ڈاکٹر اسٹینٹن کا یہ کہنا بھی ٹھیک ہے کہ مودی کی زیرقیادت بی جے پی آر ایس ایس کے نظریے پر عمل پیرا ہے۔حقیقت ہے کہ بی جے پی آئندہ الیکشن سے قبل پورے بھارت میں ایک مرتبہ پھر فسادات کی آگ بھڑکانا چاہتی ہے تاکہ ہندوئوں کے مذہبی جذبات بھڑکائے جائیں اور عام آدمی پارٹی جو مختلف ریاستوں میں تیزی سے آگے آرہی ہے، اسے سیاسی طور پر نقصانات سے دوچار کیا جائے۔بھارتی مسلمانوں کی نسل کشی کے حوالے سے بی جے پی جس طرح کا ماحول بنا رہی ہے اس پر بھارتی اداکار نصیرالدین شاہ بھی خاموش نہ رہ سکے اور انہوںنے بھی نریندر مودی پر کھل کر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی حکمران مسلمانوں کو تمام شعبہ جات میں بیکار بنانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اگر ان کے ساتھ ناروا سلوک بند نہ کیا گیاتو مسلمان اپنی نسل کشی کی کوششوں پر دفاع کی جنگ لڑ سکتے ہیں اور ملک میں خانہ جنگی کا آغاز بھی ہو سکتا ہے۔ بھارتی حکومت ہندوانتہاپسندوں کو شہ دے کر پورے بھارت میں سخت تعصب ، نفرت اور شدت والا ماحول پیدا کر رہی ہے۔ ان حالات میں بھارتی مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ باہم متحد ہو کر بی جے پی کی دہشت گردی کے خلاف بھرپور تحریک چلائیں اور پاکستان سمیت دنیا بھر کے مسلمان، انصاف پسند حلقے اور انسانی حقوق کے عالمی ادارے بھی انڈیا کی ریاستی دہشت گردی کے خلاف مضبوط آواز بلند کریں تاکہ اسے نہتے مسلمانوں کی نسل کشی اور ان کی قتل و غارت گری سے روکا جاسکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button