
لاہور: شانو بابا گول چکر کی بندش سے شہری مشکلات کا شکار، ٹریفک پولیس کا فیصلہ تنقید کی زد میں
رپورٹ: میاں عمران ارشد
لاہور کے ڈیفنس روڈ پر واقع شانو بابا گول چکر پر ٹریفک پولیس کی جانب سے دونوں اطراف بیریئر لگا کر دوطرفہ آمدورفت بند کیے جانے کے فیصلے نے شہریوں، طلبہ، ملازمت پیشہ افراد اور قریبی اسپتالوں میں آنے والے مریضوں کے لواحقین کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔
متاثرہ شہریوں کے مطابق اس انتظامی اقدام کے بعد روزانہ ہزاروں افراد کو محض چند سو میٹر کا فاصلہ طے کرنے کے لیے ایک سے چار کلومیٹر تک اضافی سفر کرنا پڑ رہا ہے، جس کے باعث نہ صرف قیمتی وقت ضائع ہو رہا ہے بلکہ بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں کے تناظر میں اضافی مالی بوجھ بھی برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر گول چکر کھلا رکھنے سے ٹریفک کی روانی برقرار رہ سکتی ہے تو اسے بند رکھنے کا جواز کیا ہے؟ ان کے مطابق کسی بھی فیصلے سے قبل اس کے عوام پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لینا ضروری تھا، تاہم موجودہ صورتحال سے محسوس ہوتا ہے کہ زمینی حقائق کو خاطر میں نہیں لایا گیا۔
علاقہ مکینوں کے مطابق گول چکر کی بندش کے بعد متبادل راستوں پر ٹریفک کا دباؤ کئی گنا بڑھ گیا ہے، جس کے باعث مختلف مقامات پر روزانہ طویل قطاریں معمول بن چکی ہیں۔ بعض ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ٹریفک کو مخصوص راستوں پر منتقل کیے جانے سے چالانوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے اور اسی مقصد کے تحت یہ بندش برقرار رکھی گئی ہے، تاہم اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
اس معاملے پر جب چیف ٹریفک افسر عبد الرحیم شیرازی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے **جہان پاکستان** سے گفتگو کرتے ہوئے اس تاثر کو مسترد کیا کہ گول چکر کی بندش کا مقصد چالانوں میں اضافہ یا ریونیو حاصل کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ صرف ٹریفک کی بہتر روانی برقرار رکھنے اور ممکنہ حادثات کی روک تھام کے لیے کیا گیا ہے۔
چیف ٹریفک افسر نے مزید کہا کہ اگر شہریوں کو واقعی اس فیصلے کے باعث مشکلات کا سامنا ہے تو متعلقہ افسران سے رپورٹ طلب کرکے ٹریفک پلان کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے گا، اور عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب فیصلہ کیا جائے گا۔
دوسری جانب متاثرہ شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر جائزے کے بعد یہ فیصلہ عوامی مفاد کے خلاف ثابت ہو تو شانو بابا گول چکر کو فوری طور پر ٹریفک کے لیے کھولنے کے احکامات جاری کیے جائیں تاکہ شہریوں کو غیر ضروری مشکلات اور اضافی سفری بوجھ سے نجات مل سکے۔







