Aqeel Anjam AwanColumn

دنیا محو حیرت، پاکستان نے یہ کیسے کر دکھایا

دنیا محو حیرت، پاکستان نے یہ کیسے کر دکھایا

عقیل انجم اعوان

عالمی سیاست کے افق پر بعض اوقات ایسے غیر متوقع مناظر ابھرتے ہیں جو برسوں سے قائم تصورات کو یکسر بدل دیتے ہیں۔ طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے بڑے ممالک خود کو فیصلہ ساز سمجھتے ہیں اور درمیانی طاقتوں کو ہمیشہ حاشیے پر رکھتے ہیں۔ مگر تاریخ بارہا یہ ثابت کر چکی ہے کہ اصل قوت صرف عسکری یا معاشی برتری کا نام نہیں بلکہ حکمت، وقت شناسی اور درست فیصلوں کا مجموعہ ہوتی ہے۔ حالیہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے خاتمے اور مذاکرات کی بحالی نے اسی حقیقت کو ایک بار پھر آشکار کر دیا ہے اور اس پوری پیش رفت میں پاکستان کا کردار ایک حیران کن مگر قابل فخر مثال بن کر سامنے آیا ہے۔

یہ وہی پاکستان ہے جسے کل تک عالمی منظرنامے میں ایک کمزور اور مسائل میں گھرا ہوا ملک سمجھا جاتا تھا۔ معاشی دبا، سیاسی انتشار اور داخلی چیلنجز کے باعث اسے اکثر نظر انداز کیا جاتا رہا۔ لیکن حالات نے ایسا رخ بدلا کہ آج یہی پاکستان عالمی سفارت کاری کے مرکز میں کھڑا نظر آ رہا ہے۔ دنیا حیران ہے کہ وہ ملک جسے کل تک پس منظر میں رکھا جاتا تھا آج کس طرح ایک موثر ثالث اور رہنما کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔

اس کامیابی کے پیچھے صرف اتفاق نہیں بلکہ ایک مربوط اور دانشمندانہ حکمت عملی کارفرما ہے۔ پاکستان نے نہایت خاموشی مگر موثر انداز میں وہ سفارتی پل تعمیر کیا جس کی ضرورت امریکہ اور ایران جیسے حریف ممالک کو تھی۔ ایک طرف واشنگٹن کی طاقت اور دوسری طرف تہران کی خودمختاری، دونوں کے درمیان براہ راست مکالمہ ممکن نہیں تھا۔ ایسے میں پاکستان نے اپنی منفرد پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دونوں کے درمیان اعتماد کی فضا قائم کی اور مذاکرات کی راہ ہموار کی۔

اس تاریخی پیش رفت میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت ایک اہم ستون کے طور پر سامنے آئی۔ ان کی حکمت عملی دور اندیشی اور عالمی معاملات پر گہری نظر نے پاکستان کو ایک مضبوط اور قابل اعتماد فریق کے طور پر پیش کیا۔ عسکری سطح پر رابطوں کو موثر انداز میں استعمال کرتے ہوئے انہوں نے ایسے دروازے کھولے جو برسوں سے بند تھے۔ ان کا کردار اس بات کی علامت ہے کہ جدید دنیا میں فوجی قیادت صرف میدان جنگ تک محدود نہیں رہی بلکہ سفارت کاری میں بھی کلیدی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔

اسی طرح وزیراعظم شہباز شریف نے سیاسی محاذ پر بھرپور کردار ادا کیا۔ انہوں نے عالمی دارالحکومتوں کے ساتھ مسلسل رابطے رکھے، اعتماد سازی کی فضا پیدا کی اور پاکستان کے موقف کو نہایت متوازن انداز میں پیش کیا۔ ان کی قیادت میں حکومت نے یہ ثابت کیا کہ اگر نیت واضح ہو اور حکمت عملی درست ہو تو محدود وسائل کے باوجود بڑے اہداف حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی اس عمل میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے سفارتی محاذ پر نہایت مہارت کے ساتھ دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کو برقرار رکھا اور ایسے مواقع پیدا کیے جہاں بات چیت ممکن ہو سکی۔ ان کی کوششوں نے اس پورے عمل کو ایک منظم شکل دی اور پاکستان کو ایک سنجیدہ اور قابل اعتماد ثالث کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا۔یہ تمام کوششیں اس وقت رنگ لائیں جب امریکہ اور ایران مذاکرات کی میز پر آنے پر آمادہ ہوئے۔ یہ کوئی معمولی کامیابی نہیں بلکہ ایک ایسا سنگ میل ہے جس نے عالمی سیاست میں پاکستان کے مقام کو نئی جہت دی ہے۔ آج دنیا یہ سوال کر رہی ہے کہ آخر پاکستان نے یہ کیسے کر دکھایا۔ اس سوال کا جواب شاید اسی حقیقت میں پوشیدہ ہے کہ عزت اور ذلت اللہ کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ جب اللہ کسی قوم کو سربلند کرنا چاہے تو وہ ناممکن کو ممکن بنا دیتا ہے اور دنیا کی نظریں خود بخود اس کی طرف اٹھ جاتی ہیں۔

یہ پیش رفت صرف ایک سفارتی کامیابی نہیں بلکہ ایک پیغام بھی ہے۔ یہ پیغام ہے کہ اگر کوئی ملک اپنی جغرافیائی اہمیت، سفارتی صلاحیت اور قیادت کی بصیرت کو یکجا کر لے تو وہ عالمی سطح پر اپنا مقام خود بنا سکتا ہے۔ پاکستان نے یہی کیا ہے۔ اس نے اپنی کمزوریوں کو پس پشت ڈال کر اپنی طاقت کو پہچانا اور اسے درست سمت میں استعمال کیا۔

تاہم یہ کامیابی ایک آغاز ہے اختتام نہیں۔ اصل امتحان اب شروع ہوتا ہے کہ پاکستان اس کردار کو کس حد تک برقرار رکھ سکتا ہے۔ کیا یہ وقتی کامیابی ایک مستقل حیثیت میں تبدیل ہو سکے گی یا یہ صرف ایک روشن لمحہ ثابت ہوگا جو وقت کے ساتھ مدھم پڑ جائے گا۔ اس کا انحصار آئندہ فیصلوں، تسلسل اور عالمی حالات پر ہوگا۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ پاکستان نے دنیا کو چونکا دیا ہے۔ اس نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ صرف ایک علاقائی کھلاڑی نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ آج جب دنیا حیرت سے پاکستان کی طرف دیکھ رہی ہے تو یہ لمحہ صرف فخر کا نہیں بلکہ ذمہ داری کا بھی ہے۔ کیونکہ جو قومیں تاریخ کے ایسے موڑ پر درست فیصلے کر لیتی ہیں وہی آنے والے وقتوں میں اپنا مقام مستحکم کر پاتی ہیں۔

جواب دیں

Back to top button