Columnمحمد مبشر انوار

مکمل کامیابی

مکمل کامیابی

محمد مبشر انوار

مشرق وسطیٰ کا بحران بظاہر مذاکرات کی میز پر حل کرنے کے لئے سج چکا ہے، لیکن زمینی حقائق اس کے خلاف دکھائی دے رہے ہیں اور ان مذاکرات کی کامیابی کا امکان مخدوش نظر آتا ہے۔ گو کہ میں ذاتی طور پر اس کو اپنی۔ بد گمانی ہی کہہ سکتا ہوں کہ بالعموم مذاکرات کی میز پر بیٹھنے والے کسی نہ کسی حل کو تلاش کر ہی لیتے ہیں بشرطیکہ نیت ٹھیک ہو اور واقعتا مسئلے کا حل نکالا جانا مقصود ہو جبکہ مجوزہ مذاکرات کی صورتحال اعلان جنگ بندی کے فورا بعد ہی مشکوک ہو چکی ہے۔ بات صرف مذاکرات سے قبل کیے جانے والی اقدامات تک محدود ہوتی تو بھی توقع کی جا سکتی تھی کہ ان مذاکرات سے کچھ بہتری کی امید ہو سکتی تھی لیکن بد قسمتی۔ یہ ہے ماضی قریب میں بھی امریکہ کی جانب سے ایسے مذاکرات کے دوران ہی، ان مذاکرات کو سبوتاژ کیا جا چکا ہے۔ گزشتہ برس بھی امریکہ و ایران کے درمیان مذاکرات کی سجی میز کے دوران امریکہ نیلے نتائج کا انتظار کئے بغیر ہی، ایران پر جارحیت کا ارتکاب کیا تھا اور رواں برس یہی مشق دوبارہ دہرائی تھی، جس کے بعد یہ توقع کرنا کہ امریکہ مجوزہ مذاکرات میں سنجیدہ و مخلص ہو گا، ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ بالخصوص ایسی صورتحال میں جب امریکہ کو اس جنگ میں جبرا اتارا گیا ہو جس کا اظہار نہ صرف صدر امریکہ کہیں کھلے الفاظ تو کہیں بین السطور کرتے نظر آتے ہیں، حالانکہ ایسی صورتحال میں امریکی سنجیدگی و خلوص زیادہ ہونا چاہئے لیکن اس کے باوجود اس کا امکان کم دکھائی دے رہا ہے، جس کی وجہ یہ ہے امریکہ کو اس جنگ میں جن مجبوریوں کے باعث اترنا پڑا ہے، وہ مجبوریاں پس پردہ ابھی بھی موجود ہیں لہذا یہ سمجھنا کہ امریکہ ان مذاکرات میں سنجیدگی و خلوص دکھائے، ممکن نظر نہیں آتا۔ ان مجبوریوں میں امریکہ کی سب سے بڑی مجبوری اس کا اپنا لے پالک، سرزمین فلسطین میں قائم کردہ ناجائز بچہ اسرائیل ہے، جس کے تحفظ کے لئے امریکہ کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے اور کسی بھی صورت اس کی پشت پناہی سے ہٹنے کو تیار دکھائی نہیں دیتا۔ اسی اسرائیل نے صرف امریکہ کو ایبسٹین فائلز کے مواد پر بلیک میل کر رکھا ہے اور نہ صرف امریکی صدر بلکہ امریکہ کانگریس و انتظامیہ کے کئی اہم کل پرزے، اس بلیک میلنگ مواد کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں، اسرائیلی خواہشات کے سامنے سرنگوں ہیں اور صرف خطے ہی نہیں بلکہ امن عالم کو دائو پر لگانے سے بھی گریز نہیں کر رہے۔ ذاتی تشخص، و کردار ( جو اس مواد کے قسطوں پر سامنے آنے پر، انتہائی گھنائونا دکھائی دے رہا)، بچانے کے لئے اسرائیل کی انگلیوں پر ناچتے نظر آتے ہیں اور کل تک جو شخص جنگیں رکوانے کا دعویدار تھا، آج دنیا کو جنگ کے شعلوں میں دھکیلتا دکھائی دے رہا ہے، اس کے باوجود وہ امن کے نوبل انعام کا طلبگار بھی ہے اور اس کے قصیدہ خوان، مستفید افراد اس کو اس انعام کے لئے ڈھٹائی کے ساتھ نامزد کرنے سے کتراتے بھی نہیں۔ گو کہ گزشتہ چند برسوں میں، امن کا نوبل انعام اپنی حیثیت بھی کھو چکا ہے لیکن اس کے باوجود کیا ایسے شخص کو امن کے نوبل پرائز کے لئے نامزد بھی کیا جا سکتا ہے، جس کے ہاتھوں پر ہزاروں بے گناہ و نہتے لوگوں کا خون ہو؟

امریکہ و اسرائیل کا، خلیج میں کشت و خون پھیلانے کا خواب، میری نظر میں تاحال، ختم نہیں ہو لا، گو کہ اسرائیل کی تمام تر کوششوں اور فالس فلیگ آپریشنز کے باوجود، خلیجی مسلم ریاستوں نے عالمی قوانین کو بخوبی سمجھتے ہوئے نہ صرف کمال ضبط ، تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کیا ہے بلکہ ان مسلم دشمن عناصر کی سازشوں کو بھانپتے ہوئے، کسی جلد بازی یا جوش میں کوئی بھی قدم اٹھانے سے مکمل گریز کیا ہے،جو دانشمندی کا مظہر اور انتہائی قابل ستائش ہے۔ خلیجی ریاستوں کی خاموشی، نے امریکہ و اسرائیل کو شدید سیخ پا کیا ہے کہ بقول امریکہ و اسرائیل، ان خلیجی ریاستوں کو ہمیشہ ایران کا خوف دلا کر، ان ریاستوں کے مالی وسائل کو امریکہ جونک کی طرح چوستا رہا ہے اور اس جنگ میں بھی، جب دفاعی ساز و سامان بے دریغ استعمال کرنے کے بعد کمی ہوئی، جنگ کو جاری رکھنے کے لئے پینٹاگون نے دو سو ارب ڈالر کا مطالبہ کیا، تب بھی نظریں ان متمول ریاستوں کی جانب اٹھی اور ان سے کہا گیا کہ جنگ بندی کے اڑھائی کھرب ڈالر اور جنگ جاری رکھنے کے لئے پانچ کھرب ڈالر خلیجی ریاستیں ادا کریں تا کہ ان ریاستوں کو تحفظ ایران سے کیا جائے۔ کس قدر دروغ گوئی ہے کہ ان ریاستوں میں فالس فلیگ آپریشنز اسرائیل کر رہا ہے اور عدم تحفظ کا ذمہ دار ایران کو ٹھہرا کر ان ریاستوں کے مالی وسائل کو نچوڑنے کی کوشش بھی ہو رہی ہے، بیک وقت مسلم ریاستوں کے وسائل کو دوسری مسلم ریاست کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش بھی ہے اور ان ریاستوں کی ترقی و خوشحالی کا جنازہ بھی انہی کے وسائل سے نکالنے کی سازش بھی ہے۔ ان تمام کوششوں میں ناکامی کے بعد، نیٹو ممالک کے عدم تعاون اور اس جنگ کو ایران پر مسلط کرنے کے موقف پر، کسی بھی نیٹو ملک نے امریکہ کا ساتھ نہیں دیا بلکہ الٹا امریکہ کو اسرائیلی خواہشات کی تکمیل اور تحفظ کے لئے بلاجواز جنگ شروع کرنے پر انکار کیا، تو امریکہ نہ صرف اپنی ساکھ گنوا بیٹھا بلکہ نیٹو ممالک کی غیر مشروط حمایت، جو اس سے قبل کئی ایک ممالک کے خلاف اسے میسر رہی، وہ بھی کھو چکا ہے، اس وقت شدید تنہائی کا شکار ہے۔ دوسری طرف چین و روس، ایران کے سٹریٹجک پارٹنرز نے بھی امریکہ کی اس بلاجواز جنگ کی مذمت کی اور ہر صورت ایران کا ساتھ دیتے نظر آئے، روسی سیٹلائیٹ معلومات نے ایران کو تاک تاک کر خطے میں موجود امریکی اثاثوں کو تباہ کرنے میں کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا۔ علاوہ ازیں! روس اور چین نے ایران کی ہر طرح سے دفاعی ساز و سامان سے کے ساتھ مدد بھی فراہم کی کہ اس کے بغیر ایران کے لئے یہ ممکن نہیں تھا کہ امریکی طیاروں کو ہوا میں تباہ کر سکتا، امریکہ کے جدید ترین طیاروں کو ایک طرف ایران نے ہینگرز میں کھڑے کھڑے، درست معلومات کی بنیاد پر تباہ کیا تو دوسری طرف چین و روس کے جیمرز کی بدولت، انفراریڈ ٹیکنالوجی کی بدولت، ایرانی فضائوں کو امریکہ طیاروں کا مدفن، قبرستان بنایا۔ سمندروں میں، امریکی بحری بیڑوں کو، ایرانی پانیوں کے قریب پھٹکنے نہیں دیا اور جو ہیبت و خوف امریکہ نے اپنے بحری بیڑوں کا قائم کر رکھا تھا، اسے ایرانی میزائلوں نے چکنا چور کر دیا، آبنائے ہرمز، دنیا کے بیس فیصد تیل اور تیس فیصد گیس کی گزرگاہ، بلا شرکت غیرے ایران کے کنٹرول میں رہی، کسی بھی تیل بردار جہاز کی جرات نہ تھی کہ وہ ایران کی اجازت کے بغیر آبنائے ہرمز سے گزر سکتا۔ آبنائے ہرمز کھلوانے کے لئے امریکہ و اسرائیل نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا، امریکہ نے خلیجی ممالک اور نیٹو کو حتی المقدور اکسا کر اس جنگ میں دھکیلنے کی پوری کوشش کی مگر ان خلیجی ممالک نے اپنا تجارتی نقصان برداشت کیا تو نیٹو ممالک نے اپنی صنعت کا نقصان برداشت کیا لیکن جنگ کا حصہ بننے سے انکار کیا۔ تیسری جانب اسرائیلی مفادات کے تحفظ میں امریکہ ٹیکس ادا کرنے والی عوام، سڑکوں پر صدر ٹرمپ کے خلاف احتجاج کرتی دکھائی دی، جس میں پہلی لہر تین ملین، دوسری پانچ ملین، تیسری سات ملین اور آخری احتجاج تقریباً نو ملین کے قریب ریکارڈ کیا گیا، امریکہ عوام کی اتنی بڑی تعداد کا کسی بھی صدر کے خلاف سڑکوں پر آنا بذات خود ایک تاریخ بن چکا، جس نے صدر ٹرمپ کو تاریخ کا سب سے غیر مقبول حکمران بنا ڈالا۔ اسی پر اکتفا نہیں، اطلاعات اور سروے یہ ہیں کہ مجوزہ مڈ ٹرم انتخابات میں صدر ٹرمپ کی شکست نوشتہ دیوار ہے ، ٹرمپ جو بنیادی طور پر اوبامہ کی نقل کرتے ہوئے، ایران کا کھیل کھیل کر اپنی مقبولیت میں اضافہ کرنا چاہتا تھا، بری طرح ناکام ہو چکا اور کانگریس میں اس کے خلاف مواخذے کی باتیں شدت کے ساتھ شروع ہیں، جس کا اظہار خود ٹرمپ کر چکا ہے۔

اس پس منظر میں، موجودہ مذاکرات ایک طرف ٹرمپ کو اس سنگین صورتحال سے نکالنے کے لئے ضروری ہیں تو دوسری طرف ٹرمپ کے وزراء کی جانب سے اس جنگ کو کھلے بندوں کروسیڈ وار بنا کر بھی پیش کیا جا رہا ہے اور امریکی فوجیوں کو لڑائی کے لئے از سر نو تیار بھی کیا جا رہا ہے۔ پندرہ روزہ جنگ بندی میں اگر نیت ٹھیک ہوتی تو ایسی باتوں سے گریز کیا جاتا اور جنگ بندی کی دس ایرانی شرائط پر عمل درآمد کیا جاتا لیکن بدقسمتی سے پاکستانی وزیر اعظم کے جنگ بندی کا اعلان کرتے ہی، اسرائیل نے لبنان میں اپنے حملے مزید شدت سے کرنے شروع کر دئیے اور اعلان جنگ بندی کی سیاہی خشک ہونے سے قبل ہی، پاکستانی وزیر اعظم کی جانب سے اس امر کا اظہار کیا گیا کہ جنگ بندی ایران کے علاوہ دیگر اتحادیوں کے خلاف بھی ہے اور بالخصوص لبنان بھی اس میں شامل ہے جبکہ ایران کی جانب سے لبنان پر اسرائیلی درندگی کو واضح طور پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کہا گیا لیکن ہوا کیا؟ امریکہ جس نے اس جنگ بندی کی خواہش کا اظہار کیا تھا، وقت ملتے ہی، فوری طور پر پینترا بدلا اور ایران پر دبا بڑھاتے ہوئے کہا کہ ایران اس موقع سے فائدہ اٹھائے اور کسی حتمی معاہدے پر پہنچے وگرنہ ایران پر پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ بمباری ہوگی، اپنی بد نیتی کہیں یا اسرائیل کے ہاتھوں مجبوری کہیں، جنگ بندی کی شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے اتحادی اسرائیل کو لگام ڈالنے کی بجائے، لبنان کو ہی شرائط سے نکال دیا۔ دوسری طرف ایران، جو یہ جنگ واضح طور پر جیت چکا ہے، ایسی خلاف ورزی اور دھمکی پر کیسے اور کیونکر خاموش رہ سکتا ہے؟ ایران نے بھی اپنے فوجیوں کو مسلسل حالت جنگ میں رکھنے کا حکم جاری کر دیا ہے اور کسی بھی حملے کو صورت پوری شدت سے جواب دینے کے لئے تیار ہے۔ اب یہ تو ممکن نہیں کہ ایک طرف امریکہ جنگ بندی کی خواہش کرے لیکن دوسری طرف اپنے اتحادی کو ایران کے اتحادی کے خلاف میدان میں اتارے رکھے اور خود کو اس سے مبرا رکھے، ایران کسی صورت اس کو قبول نہیں کرے گا اور لازمی طور پر اپنے اتحادی کی مدد کے لئے اسرائیل کے خلاف بروے کار آئیگا، جس کے بعد جنگ بندی کا کوئی امکان باقی نہیں رہے گا یا دوسری صورت یہ ہے کہ امریکہ، اسرائیل کا ساتھ چھوڑ دے اور اسے ایران اور خلیجی ریاستوں کے لیے چھوڑ دے، وہ خود اسرائیل کا بندوبست کر لیں گے۔ ایسا ہونے کا امکان بھی نہیں اور امریکہ وزیر دفاع ؍ جنگ کا اس جنگ کو کروسیڈ جنگ بنانے کی خواہش کے بعد، مجھے ذاتی طور پر ان مذاکرات کا انجام بخیر دکھائی نہیں دیتا اور اس جنگ کا اختتام کسی ایک فریق کا واضح کامیابی یا سرنڈر پر ہی دکھائی دیتا ہے۔ واللہ عالم بالصواب

جواب دیں

Back to top button