ColumnImtiaz Aasi

پنجاب پولیس میں غیر قانونی بھرتیوں کی تحقیقات

پنجاب پولیس میں غیر قانونی بھرتیوں کی تحقیقات

نقارہ خلق

امتیاز عاصی

بدقسمتی سے مملکت کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جس میں شفافیت کو اولین ترجیح دی جائے، اس کے برعکس غیر قانونی اقدامات کو روزمرہ کا وتیرہ بنا لیا گیا ہے۔ ریاست پاکستان کو اس وقت سب سے بڑے جس چیلنج کا سامنا ہے وہ کرپشن ہے جس پر کوئی حکومت قابو پانے میں ناکام رہی ہے۔ دراصل کرپشن کا خاتمہ اسی صورت ممکن ہے جب ملک کے تمام اداروں میں میرٹ اور شفافیت کو فوقیت دی جائے۔ ایک اردو معاصر میں پنجاب پولیس میں غیرقانونی بھرتیوں کی خبر نظر سے گزری تو خیال آیا آج اسی موضوع پر چند سطور لکھی جائیں۔ سرکاری محکموں میں بھرتیوں کے مروجہ طریقہ کار کے مطابق میرٹ پر آنے والے امیدواروں کی فہرست مرتب کی جاتی ہے، جس کے ساتھ ایک انتظاری فہرست بنائی جاتی ہے۔ اگر میرٹ پر آنے والا کوئی امیدوار ملازمت اختیار نہیں کرتا تو انتظاری فہرست کی میرٹ لسٹ کے مطابق پہلے نمبر پر آنے والے امیدوار کو ملازمت کی آفر دی جاتی ہے، لیکن پنجاب پولیس میں انتظاری فہرست سے ہٹ کر بھرتیوں کی شکایات کا علم ہونے پر صوبائی حکومت نے انکوائری کے احکامات جاری کئے ہیں۔ اس سلسلے میں متعلقہ حکام کو دو روز میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ غیر قانونی بھرتیوں میں محکمہ پولیس کے علاوہ محکمہ خزانہ کے ملازمین بھی یقینی طور پر ملوث ہوں گے کیونکہ غیر قانونی ملازمت اختیار کرنے والوں کو تنخواہوں کی ادائیگی محکمہ خزانہ کرتا ہے۔ مجھے یاد ہے جن دنوں میاں نواز شریف وزیراعلیٰ پنجاب تھے، ارکان اسمبلی اور سیاسی وابستگیاں رکھنے والوں کو میرٹ سے ہٹ کر بہت بڑی تعداد میں ملازمتیں دی گئیں۔ محکمہ پولیس اور ریونیو ڈیپارٹمنٹ میں اسٹنٹ سب انسپکٹر، سب انسپکٹر، انسپکٹر اور تحصیلدار، نائب تحصیلداروں کی ایک لمبی فہرست منظر عام پر آئی تھی۔ ان دنوں جن لوگوں کو انسپکٹر بھرتی کیا گیا وہ چند سال پہلے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے عہدے سے ریٹائر ہوئے تھے۔ ایک مرحوم صحافی کے بیٹے کو براہ راست انسپکٹر کے عہدے پر بھرتی کیا گیا جو ایس پی بن کر ریٹائر ہوا۔ اس سلسلے میں میاں صاحب نے ارکان اسمبلی کو دو، دو پوسٹوں کو کوٹہ الاٹ کیا تھا، وہ دو، دو افراد کو میرٹ سے ہٹ کر بھرتی کرا سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر پنجاب کے ایک سابق آئی جی کے حوالے سے خبر نظر سے گزری، جس میں سابق آئی جی سے کہا گیا تھا وہ خالی پوسٹوں سے متعلق چند روز میں رپورٹ دے، لیکن اس مرد قلندر نے رپورٹ دینے سے قبل صوبے کے ضلعی پولیس افسروں کو خالی پوسٹوں کو پر کرنے کے احکامات جاری کئے، جس کے بعد آئی جی صاحب کو اپنا عہدہ چھوڑنا پڑا تھا۔ قارئین کی توجہ کے لئے عرض کروں ملک میں کرپشن کے خاتمے کے لئے کتنے ادارے وجود میں آئے، لیکن کرپشن کے خاتمے میں ناکام رہے۔ ریاست پاکستان کا المیہ ہے جہاں اگر کوئی بڑا جرم کرے اسے چھوڑ دیا جاتا ہے اور اگر کوئی چھوٹا جرم کرے اسے سزا دے دی جاتی ہے۔ ہم یہاں کسی سیاست دان کا نام تو نہیں لیتے، مگر عوام جانتے ہیں جن جن سیاست دانوں کے خلاف کرپشن کے مقدمات قائم ہوئے یا تو انہوں نے مبینہ طور پر عدلیہ کی ملی بھگت سے ختم کرا لئے یا پھر قوانین میں ترامیم کرانے کے بعد ختم کرا لئے۔ ہم جنہیں غیر مسلم کہتے ہیں یا ان کے ملکوں میں بھی اسی طرح ہوتا ہے بڑا جرم کرے چھوڑ دیا جاتا ہے اور چھوٹے کو سزا ملتی ہے ہرگز ایسا نہیں ہوتا، بلکہ چھوٹے اور بڑے سبھی کو ایک ہی آنکھ سے دیکھا جاتا ہے۔ قومی احتساب بیورو کر دیکھ لیں ایسے ایسے قوانین بنائے گئے ہیں جن میں ملزمان اگر کھربوں کا فراڈ کرتے ہیں پلی بارگین کے قانون کے تحت کچھ رقم واپس کرنے کے بعد سزائوں کی بجائے آزاد فضائوں میں پھرتے ہیں۔ قرون اولی کی اقوام کی تباہی میں حصول انصاف میں امتیاز ہی تو برتا جاتا تھا اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ان اقوام کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔ مملکت میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے سپیکر اور چیئرمین کو بھرتی کا کلی اختیار ہوتا ہے۔ اگر ہم ماضی کی طرف جائیں تو ایوان اور ایوان بالا میں سیاسی بنیادوں پر بھرتی ہونے والوں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ قومی اسمبلی کے موجودہ سپیکر سردار ایاز صادق نے اپنے گزشتہ دور میں ایوان میں خالی ہونے والی تمام اسامیوں پر بھرتی کے لئے فیڈرل پبلک سروس کمیشن سے درخواست کی، جس کے نتیجے میں اس وقت سے ایوان میں خالی ہونے والی اسامیوں پر پبلک سروس کمیشن بھرتی کرتا ہے۔ کسی معاشرے کی درستی کے لئے جب تک چیک اینڈ بیلنس اور مواخذے کا نظام درست نہیں ہوگا وہ ملک کبھی ترقی نہیں کر سکتا۔ آج ہماری ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ کرپشن ہے، جس کے بین الاقوامی سطح پر چرچے ہیں۔ جن محکموں میں میرٹ کے برعکس لوگ ملازمت اختیار کریں گے، ایسے محکموں کے حالات درست نہیں ہو سکتے۔ محکمہ پولیس اور جیل خانہ جات میں افسروں کی پوسٹنگ کو دیکھ لیں، اگر کسی افسر کو تبدیل کیا جاتا ہے تو اوپر سے سفارش آنے کے بعد اگلے روز اس کا تبادلہ منسوخ ہو جاتا ہے۔ جب تک افسروں اور ملازمین کو میرٹ پر پوسٹنگ نہیں دی جائے گی سرکاری محکموں کے حالات درست نہیں ہوں گے۔ کئی عشرے پہلے کی بات ہے میرے ایک مہربان وفاقی سیکرٹری جو سی ڈی اے کے چیئرمین تھے، انہیں ایک موٹل کے لئے جگہ کا تعین کرنا تھا، اس مقصد کے لئے کابینہ نے کمیٹی قائم کی، جس کے وہ سیکرٹری تھے۔ سی ڈی اے بائی لاز کے مطابق جتنی جگہ مل سکتی تھی انہوں نے سمری میں لکھ دی۔ انہیں سمری تبدیل کرنے کو کہا گیا، جب انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا تو انہیں اگلے روز او ایس ڈی لگا دیا گیا۔ جن معاشروں کرپشن سریت کر جائے ایسے معاشرے کبھی ترقی نہیں کر سکتے، نہ انہیں تباہی سے کوئی روک سکتا ہے۔ چلیں محکمہ پولیس میں غیر قانونی بھرتیوں کی انکوائری کرنے کو کہا گیا ہے، دیکھتے ہیں ذمہ داروں کے خلاف کیا کارروائی ہوتی ہے، یا پھر غیر قانونی بھرتیوں کا معاملہ سرد خانے کی نظر ہو جاتا ہے۔ لہذا انتظار کیجئے۔

جواب دیں

Back to top button