ColumnImtiaz Aasi

ایران نے تاریخ رقم کر دی

ایران نے تاریخ رقم کر دی
تحریر : امتیاز عاصی
چار ہفتوں سے زیادہ جاری رہنے والی امریکہ اسرائیل اور ایران جنگ میں ایران کے پاسدران انقلاب نے نئی تاریخ رقم کر دی۔ ایران کے مذہبی پیشوا حضرت آیت اللہ خمینی کی وفات کے بعد ایران مخالف قوتوں کا خیال تھا ایران میں اسلامی حکومت کا اقتدار دیرپا نہیں رہے گا لیکن آیت اللہ خمینی کے پیروکاروں نے نہ صرف اسلامی انقلاب کی حفاظت کی بلکہ دنیا کے نقشے پر ایک نئی قوت بن کر ابھرے ہیں۔ امریکہ جسے اپنے سپر پاور ہونے پر بڑا گھمنڈ تھا پاسدران انقلاب نے خاک میں ملا دیا۔ امریکہ اسرائیل نے بڑی چالبازی سے ایران پر اچانک حملہ کرکے دیکھ لیا۔ ایک طرف عمان میں مذاکرات ہو رہے تھے اور دوسری طرف اسلام دشمن طاقتیں ایران پر حملہ آور ہو گئیں۔ صدر ٹرمپ کا خیال تھا ایران پر حملے کے بعد پاسدران انقلاب مخالف عوام حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئیں گے اس مقصد کے لئے کردوں کو اسلحہ بھی مہیا کیا گیا لیکن قربان جائیں ایرانی عوام پر جو متحد ہو کر الٹا امریکہ کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔ چالیس لاکھ سے زیادہ لوگ بے گھر ہونے کے باوجود جس جذبے اور عزم کے ساتھ وہ اپنی حکومت کے ساتھ کھڑے رہے وہ بھی ایک نئی تاریخ ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر اور عسکری قیادت کی شہادتوں کے بعد صدر ٹرمپ کو قوی امید تھی ایرانی پسپائی اختیار کر لیں گے جب کہ اس کے برعکس ایرانی عوام پہلے سے زیادہ پرعزم ہو کر امریکہ اسرائیل کے خلاف کھڑے ہوگئے۔ حالیہ جنگ کے دوران خلیجی ملکوں نے امریکہ کو اڈے فراہم کرکے جو کردار ادا کیا وہ امت مسلمہ کی تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے۔ امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات جمعہ کے روز اسلام آباد میں ہوں گے جس میں امریکی نائب صدر اور ایران کے وزیر خارجہ شریک ہوں گے۔ پاکستان کی حکومت اور خصوصا ہماری عسکری قیادت کو اس بات کو کریڈٹ جاتا ہے جس نے دنیا کو تیسری عالمی جنگ سے بچا لیا۔ گو امریکی صدر ٹرمپ اپنی طرف سے اخلاقی طور پر جنگ ہار چکا تھا کیونکہ امریکہ اسرائیل ایران کے ساتھ جنگ کرکے جن مقاصد کا خواہاں تھا وہ پورے ہونے کی بجائے خواب بن گیا۔ صدر ٹرمپ ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لئے دو مرتبہ الٹی میٹم دینے کے باوجود آبنائے ہرمز کھلوانے میں ناکام رہا۔ درحقیقت امریکہ اب خود جنگ سے جان چھڑانے کا خواہاں تھا گویا اس لحاظ سے امریکی صدر کو پاکستان، چین اور ترکیہ کو شکر گزار ہونا چاہیے جن کی کاوشوں سے جنگ رک گئی۔ جنگ روکنے کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے امریکی صدر نے چین کی کاوشوں کا خاص طور پر ذکر کیا۔ جمعہ کو اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں امریکہ اور ایران دونوں نے اپنے اپنے مطالبات پیش کرنے ہیں۔ ایران کاسب سے بڑا مطالبہ جنگ میں ہونے والے نقصانات کا مالی طور پر ازالہ اور آبنائے ہرمز پر ایران کو بدستور کنٹرول رہنے کے مطالبات ہیں۔ دنیا کی ایک سپر پاور کے لئے اس سے زیادہ سبکی اور کیا ہو سکتی تھی امریکی صدر کی طرف سے آبنائے ہرمز کھولنے کے لئے الٹی میٹم دینے کے باوجود وہ کچھ کر نہیں پائے، جو اس امر کا غماز ہے ایران دنیا میں ایک بڑی قوت بن کر ابھرا ہے ورنہ امریکہ کے سامنے مسلم دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں جو امریکہ صدر کے سامنے آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کر سکے۔ اس موقع پر ہمیں یہ بات بھی فراموش نہیں کرنی چاہیے ایرانیوں نے امریکہ اسرائیل کے خلاف جنگ کرتے ہوئے فلسفہ کربلا کو سامنے رکھتے ہوئے اسلام دشمن طاقتوں کے خواب چکنا چور کر دیئے۔ آج پوری مسلم امہ کو ایران کے پاسدران انقلاب کی حکومت اور عوام کا شکر گزار ہو نا چاہیے جنہوں نے دنیا پر حکمرانی کرنے والے امریکیوں پر کاری ضرب لگا کر امت مسلمہ کا سر فخر سے بلند کر دیا۔ افسوسناک پہلو یہ ہے دنیا کے ستاون اسلامی ملک اس جنگ میں تماشائی بنے رہے۔ اس میں شک نہیں چین اور روس نے ایران کی یقینی طور پر مدد کی ہوگی۔ امریکہ اسرائیل کے خلاف جنگ میں غزہ کے مسلمانوں کو بھی بڑا حوصلہ ملا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ بہت جلد دنیا میں اسلامی ملکوں کا ایک بلاک وجود میں آئے گا جس سے صیہونی طاقتوں کے خاتمے کا باعث بنے گا۔ جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات نے پاکستان سے قرض کی رقم کی واپسی کا جو مطالبہ کیا وہ بات کا عکاس ہے کہ امارات کو امید تھی پاکستان عرب امارات پر ایرانی میزائلوں کے گرنے پر ایران کے خلاف کھڑا ہو جائے گا مگر عرب امارات کی یہ امید بر نہ لا سکی اور پاکستان نے ایران امریکہ جنگ کے دوران جس تحمل ، بردباری اور اعلیٰ سفارت کاری کا مظاہرہ کیا جس نے دنیا میں ریاست پاکستان کا سر بلند کر دیا۔ امریکہ نے ایران پر ہر طرح سے حملہ آور ہوکر دیکھ لیا پاسداران انقلاب نے پایہ استقلال میں لغزش نہیں آئی ۔ یہ علیحدہ بات ہے امریکی صدر اپنے طور پر ایران میں رجیم چینج کی امید لگائے بیٹھے تھے لیکن انہیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ ایران نے پاکستان کے ساتھ مشکلات کے باوجود اسلامی بھائی چارے کا مظاہرہ کرتے ہوئے تیل بردار جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے کر مملکت پاکستان کی مشکلات کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ امریکہ ایران کے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں اس بات کا قومی امکان ہے ایران پر گزشتہ کئی عشروں سے لگائی گئی امریکی اقتصادی پابندیوں کا بھی خاتمہ کرنے میں مدد ملے گی۔ ایران پر اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کے بعد پاکستان ایران سے گیس لے سکے گا جس کے لئے ایران اپنے حصے کی پائپ لائن پہلے ہی بچھا چکا ہے ۔ اگر ایسا ممکن ہوا تو ان شاء اللہ پاکستان میں صنعتی انقلاب کی امید کی جا سکتی ہے۔ اس موقع پر اگر ہم فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کاوشوں کی ستائش نہ کریں تو زیادتی ہوگی۔ امریکی صدر اسلام آباد میں مذاکرات کے لئے اگر رضامند ہوا ہے تو اس کا سارا کریڈٹ ہماری عسکری قیادت کو جاتا ہے۔ اقوام متحدہ میں چین اور روس نے آبنائے ہرمز کھولنے کے خلاف ویٹو کرکے ایران کے ساتھ دوستی کا حق ادا کر دیا ہے ۔ آخر میں حق تعالیٰ سے دعا ہے کہ خطے میں امن کی فضا قائم ہو اور مسلم امہ یکجا ہوکر اسلام کی سر بلندی کے لئے سرگرم ہو سکے۔

جواب دیں

Back to top button