چھوٹی سی غلطی!!

چھوٹی سی غلطی!!
تحریر : محمد مبشر انوار (ریاض )
مشرق وسطی کا بحران وقتی طور پر ٹل چکا ہے، اور تاحال اسرائیل اس کی سنگینی کو ختم کرنے کے لئے تیار دکھائی نہیں دیتا، دیکھتے ہیں کہ صدر ٹرمپ نیتن یاہو کو کیسے کنٹرول کرتے ہیں کہ اس سے قبل تک یہ بحران امن عالم کے لئے شدید خطرہ بنا ہوا تھا بالخصوص جب امریکی صدر کی جانب سے ایسے بیانات سامنے آئے جس میں ان کی فرسٹریشن کا اظہار ہورہا تھا کہ امریکی صدر کی جانب سے ایسے خیالات کا اظہار کسی بھی طور مناسب دکھائی نہیں دیتا۔ جنگ کے حوالے سے امریکی رویہ انتہائی غیر یقینی دکھائی دیتا ہے کہ اگر ایک طرف امریکی صدر دعوے کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ امریکہ یہ جنگ جیت چکا ہے، ایران میں رجیم تبدیل ہو چکا ہے اور جن سے مذاکرات جاری ہیں، وہ سمجھدار لوگ ہیں اور جلد کسی معاہدے تک پہنچ جائیں گے جبکہ امریکہ کی جانب سے ہی مسلسل یہ بیانات بھی داغے جارہے ہیں کہ ایران ایک دن میں ختم کر سکتے ہیں، ایران کو تباہی سے بچنے کے لئے جلد کسی معاہدے پر پہنچنا ہوگا، آبنائے ہرمز کھلوائے بغیر جنگ سے نکل سکتے ہیں، شہری تنصیبات پر حملوں میں تاخیر پر توسیع بھی امریکہ کی جانب سے یکطرفہ طور پر دی گئی ہے اور یہ سب بیانات ریکارڈ پر ہیں اور امریکی انتظامیہ کی جانب سے جاری کئے گئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ ، اسرائیل کی جنگ لڑتے ہوئے یایوں سمجھ لیں کہ امریکی صدر ایپسٹین فائلز میں موجود ان کے خلاف مواد کی وجہ سے اسرائیل کے ہاتھوں بری طرح بلیک میل ہو رہے ہیں اور انہیں سمجھ نہیں آ رہی کہ اس سے چھٹکارا کیسے حاصل کیا جائے، امریکہ کی جانب سے اس آبنائے ہرمز کھلوائے بغیر اس جنگ سے نکلنے کی باتیں تو ہوتی ہیں لیکن اسی دوران اسرائیل اپنے حملے نہ صرف ایران بلکہ خلیجی ممالک میں فالس فلیگ آپریشن کرکے، خلیجی ریاستوں کو بھی اس جنگ میں دھکیلنے کی پوری کوشش کر رہا ہے لیکن تاحال اسرائیل اپنے ان مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہو پایا کہ خلیجی ریاستیں ان تمام معاملات کو انتہائی باریک بینی سے دیکھ رہی ہیں اور کسی بھی صورت اسرائیلی چالوں میں آنے کی لئے تیار دکھائی نہیں دیتی۔ البتہ ایک خلیجی ریاست ایسی ہے، جس کا قبلہ بہرطور بدل چکا ہے اور وہ کھلم کھلا نہ صرف امریکی و اسرائیلی عزائم کے ساتھ کھڑی دکھائی دیتی ہے بلکہ اس کی بھی یہ خواہش ہے کہ کسی طرح ایران کو شدید زک پہنچائی جائے جبکہ اس ساتھ ہی ایک اور خلیجی ریاست نے واضح اور دوٹوک الفاظ میں امریکی جارحیت کی مذمت کردی ہے اور اپنی سرزمین کو ایران پر حملوں کے لئے نہ دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس سب کے باوجود ابھی تک چونکہ خلیجی ریاستیں دفاعی اعتبار سے امریکہ کی مرہون منت ہیں اس لئے بظاہر مجبور دکھائی دے رہی ہیں لیکن موجودہ حالات کے تناظر میں اب وہ وقت دور دکھائی نہیں دیتا جب خلیجی ریاستیں، امریکی انحصار سے چھٹکارا حاصل کر لیں گی میرا ذاتی خیال ہے کہ جو زبان امریکی صدر اس وقت خلیجی ریاستوں کے حکمرانوں کے لئے استعمال کر رہے ہیں، اس کے بعد یہ امر محال ہے کہ وہ خلیج میں اپنے قدم جمائے رکھیں اور نہ ہی خلیجی حکمران ایسی زبان استعمال کرنے والے کسی شخص سے روابط رکھنے کے روادار ہوتے ہیں، صرف وقت کا انتظار ہے اور وہ وقت قریب ہی دکھائی دیتا ہے۔
دوسری طرف ایران ہے، جس نے اس جنگ سے بچنے کی اپنی پوری کوشش کی لیکن ایران کی اس کوشش کو ایران کی کمزوری سمجھا گیا اور حسب سابق دوران مذاکرات ہی ،ایران پر جارحیت کا ارتکاب کرکے ،ایرانی اہلیت و صلاحیت کو جانچنے و پرکھنے کا ایسا موقع فراہم کر دیا گیا کہ ایران اس وقت تک پوری طرح جنگ میں حاوی دکھائی دیتا ہے۔ جنگ کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ سمجھنا یا گمان کرنا کہ ایران پر دبائو ڈال کر اس سے اپنی من مرضی کی شرائط منوائی جا سکتی ہیں، دیوانے کا خواب ہی ہو سکتا ہے کہ اتنی قربانیاں دینے کے بعد اور جنگ میں واضح برتری لینے کے بعد ،ایران کس طرح امریکی شرائط پر جنگ بندی کرسکتا ہے؟گو کہ امریکہ کی جانب سے ایران کو بذریعہ پاکستان پندرہ نکاتی تجاویز دی گئی تھی ،جنہیں ایران نے یکسر مسترد کرتے ہوئے،اپنی پانچ شرائط امریکہ و دنیا کے سامنے رکھی تھی کہ جنگ بندی ان شرائط پر ہو گی،جو اس امر کا واضح اظہار تھا کہ ایران کسی بھی قسم کے دباؤ میں نہیں آرہا اور نہ آئے گا۔ ایران کے اس سخت موقف کے پیچھے ،کون سا راز ہے یا ایران کس برتے پر یوں ڈٹ کر کھڑا ہے،تو یہ ایک اوپن سیکرٹ کی مانند ہے کہ ایران اکیلا ممکنہ طور پر امریکہ و اسرائیل کی اس جارحیت کا مقابلہ نہ کر پاتا اگر ایران کے پیچھے چین و روس کی طاقتیں نہ کھڑی ہوتی، گو کہ چین و روس براہ راست اس جنگ میں تاحال نہیں کودے لیکن ان کا تعاون بہرحال ایران کے ساتھ ضرور موجود ہے۔ جس کا ثبوت یہ ہے کہ ایرانی فضائی دفاعی سسٹم کسی بھی صورت اس قدر موثر نہیں تھا کہ وہ امریکی جدید ترین فائیٹر جیٹ طیاروں کو مارگراتا، شنید ہے کہ ایک طرف روس کا ایس 400تو دوسری طرف چین کا BIDOیا بائیڈو سسٹم ایران کو میسر ہے، جس کی مدد سے ایران مسلسل امریکی طیاروں کا قبرستان بن رہا ہے اور ساری دنیا میں امریکی ٹیکنالوجی کا جنازہ نکال رہا ہے۔ امریکی ٹیکنالوجی کی برتری کا جنازہ انتہائی دھوم دھام سے ایرانی سرزمین پر نکلتا ہوا دکھائی دے رہا ہے جس نے امریکہ کو انتہائی سے زیادہ سیخ پا کر رکھا ہے، امریکہ کا بس نہیں چل رہا کہ کسی طرح وہ ایران کو جلد از جلد گھٹنوں پر لے آئے لیکن بدقسمتی سے معاملات اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں اور جس طرح امریکہ کا نقصان مسلسل ہورہا ہے، امریکہ کا گھٹنوں پر آنا بعید دکھائی نہیں دیتا۔ البتہ یہاں اس امر کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ بہرطور امریکہ ایک سپر پاور ہے اور اس صورتحال میں ، اس کی جانب سے دی جانیوالی دھمکیوں کو کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ امریکہ کی جانب سے انتہائی اقدام اٹھانے کا اختیار بہرحال صدر امریکہ کے پاس ہے اور صدر امریکہ کے متعلق ساری دنیا جانتی ہے کہ وہ کس قدر غیر یقینی اور ناقابل اعتبار ہیں،کسی بھی وقت کوئی بھی انتہائی اقدام اٹھانا ان کے لئے ناممکن نہیں ہے۔
ایسی صورتحال میں ،اگر امریکہ کوئی انتہائی قدم اٹھاتا ہے، جس کے متعلق بہرطور دعا اور خواہش یہی ہے کہ اس سے محفوظ رہیں،لیکن اس کا امکان بہرطور دکھائی دیتا ہے کہ گذشتہ دنوں یہ خبریں بھی زیر گردش رہی ہیں کہ امریکہ ایران میں محدود قوت والے وار ہیڈز کا حملہ کر سکتا ہے لیکن ابھی تک ایسا کوئی اقدام سامنے نہیں آیا ۔ علاوہ ازیں!! امریکہ ہر صورت ایک طرف رجیم چینج کے درپے ہے تو دوسری طرف ایران سے افزودہ یورینیم کا حصول یا ایران کو اپنے اس اثاثے سے محروم کرنا چاہتا ہے،ایران کو سول ضروریات کے لئے بھی جوہری پلانٹس بنانے کی اجازت دینے کے لئے تیار نہیں جبکہ ایران کے سابق سپریم لیڈر کا ایٹمی ہتھیار سے متعلق فتویٰ بھی موجود ہے کہ وہ جوہری ہتھیاروں کو غیر اسلامی سمجھتے تھے لیکن موجودہ صورتحال کسی اور امر کی غماز دکھائی دیتی ہے کہ اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوتا تو ممکنہ طور پر امریکہ و اسرائیل اس طرح ایران کی اینٹ سے اینٹ نہ بجاتے۔ ممکنہ طور پر ایران کو نظر ثانی اور سابق سپریم لیڈر کے فتویٰ سے رجوع کرنے کی ضرورت ،جلدیا بدیر،محسوس ہو گی کہ جوہری ہتھیار کی موجودگی میں امریکہ و اسرائیل اس پر جارحیت کے ارتکاب سے مستقل طور پر باز رہیں گے وگرنہ ایران پر یہ تلوار مسلسل لٹکتی رہے گی۔ گو کہ ایران کی دس نکاتی شرائط پر جنگ بندی ہو چکی ہے اور اس میں پاکستان کی سفارتی کوششوں برائے امن کا کردار اپنی جگہ لیکن دوسری طرف صدر ٹرمپ جس بری طرح سے چاروں اطراف سے گھر چکے تھے،ان کے پاس ان شرائط کو تسلیم کرتے ہوئے، جنگ بندی کے علاوہ کوئی اور راستہ بچا نہیں تھا البتہ ایران نے امریکہ کو فیس سیونگ ضرور دی ہے اور آبنائے ہرمز پندرہ دنوں کی اس جنگ بندی میں ساری دنیا کے لئے کھول دیا ہے۔ابھی تک ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز پر ٹول ٹیکس کے نفاذ کا دوران جنگ بندی ،واضح اعلان نہیں ہے کہ آیا ایران جنگ بندی کے دوران آبنائے ہرمز سے ٹول ٹیکس کی مد میں جہازوں سے ٹیکس وصول کرے گا یا مستقل جنگ ختم ہونے کے بعد،ایسا نظام وضع کیا جائیگا کہ اس جنگ میں ایران نے آبنائے ہرمز پر بلا شرکت غیرے اپنا حق حکمرانی ثابت کر دیا ہے۔ دس اپریل کواس جنگ بندی کو حتمی شکل دینے کے لئے ، امریکی و ایرانی عہدیداروں کے درمیان باضابطہ ملاقات بھی متوقع ہے،جس میں امن معاہدے کو واضح شکل دے کر مستقل جنگ بندی اور امن کی راہ ہموار کی جائیگی( البتہ اسرائیل کو لگام ڈالنے کا کام امریکہ کے سر رہے گا بصورت دیگر امریکہ کو اسرائیل کی پشت پناہی سے ہٹنا ہو گا جس کے بعد خطے کے ممالک اسرائیل کو خود لگام ڈال لیں گے ) جس کے بعد کم ازکم امریکہ کی جانب سے یہ خوف ختم ہو جائیگا کہ امریکہ کی جوش میں کی گئی ایک چھوٹی سی غلطی امن عالم کو غارت کر سکتی ہے ،دنیا اس چھوٹی سی غلطی کے خوف سے فی الوقت نکل چکی ہے۔





