تازہ ترینخبریںدنیاسیاسیاتپاکستان

جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کھلولنے پر اتفاق: ‘ہرمز کوئی سوئچ نہیں وقت لگے گا’

ایران امریکا اسرائیل جنگ میں عارضی جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کھلنے کے اعلان کے بعد اب سوال پیدا ہو رہا ہے کہ آیا اس اہم ترین سمدری تجارتی راستے سے بحری جہاز دوبارہ گزر سکیں گے؟ یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ دو ہفتے کی جنگ بندی کی ایک شرط یہ ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولے گا۔

تاہم مختلف نشریاتی اداروں سے بات کرتے ہوئے جہاز رانی کے ماہرین نے کہا ہے کہ ہرمز سے دوبارہ جہاز رانی کا معاملہ کو کسی سوئچ کی طرح نہیں دیکھنا چاہیے جسے جب چاہیں آن یا آف کیا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ جہاز رانی کے معروف تجزیہ کار لارس جینسن نے بی بی سی ریڈیو 4 کے ٹوڈے پروگرام کو بتایا ہے کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال میں ’تاحال کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے‘۔

ان کا کہنا ہے کہ اعتماد بحال ہونے ہونے میں ’وقت لگے گا۔‘

لارس جینسن ان کا کہنا ہے کہ انھیں توقع ہے کہ اگلے چند دنوں میں خلیج سے بہت سے بحری جہازوں کو نکلیں گے تاہم ان میں سے کچھ ہی آبنائے ہرمز میں داخل ہوں گے کیونکہ جنگ بندی ختم ہونے کی صورت میں جہازوں کے وہاں پھنس جانے کا امکان ہے۔ اسی طرح الجزیرہ سے گفتگو میں بنگلہ دیش کے ماہر جہاز رانی گ
غلام محمد نے بھی اسے صبر آزما مرحلہ قرار دیا جس کی مکمل فعالیت طویل مدتی امن سے ہی جڑی ہے۔

جواب دیں

Back to top button