پاکستان کو درپیش گلوبل چیلنج اور پنجاب حکومت کے ریلیف اقدامات

پاکستان کو درپیش گلوبل چیلنج اور پنجاب حکومت کے ریلیف اقدامات
محمد نورالہدیٰ
دنیا اس وقت ایران، امریکہ اور اسرائیل کے مابین جاری کشمکش کی وجہ سے شدید عالمی بحران کی لپیٹ میں ہے۔ یہ کشیدگی نہ صرف خطے کے امن کو متاثر کر رہی ہے بلکہ عالمی معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب کر کے اسے غیر یقینی کی صورتحال سے دوچار کر چکی ہے۔ ریاستیں اپنے وقت کے بدترین معاشی چیلنج سے گزر رہی ہیں۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافے، سپلائی چین کی رکاوٹوں اور مالیاتی دبا نے دنیا بھر کی حکومتوں کو مشکل ترین معاشی فیصلے کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جس کا تمام تر بوجھ عوام پر منتقل ہو رہا ہے۔ بالخصوص ترقی پذیر ممالک اس کشمکش سے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔
ہماری معیشت کا پہیہ گھمانے کیلئے تیل اور توانائی کا بنیادی کردار ہے۔ تیل ہے تو پہیہ چلتا رہے گا، نہیں ہے تو ترقی کے سفر کو دھکا لگا کر چلانا پڑتا ہے۔ جب دھکا لگا کر معیشت چلانا پڑے گی تو وسائل بھی زیادہ درکار ہوں گے اور محنت بھی زیادہ چاہئے ہوتی ہے۔ ایسی صورتحال میں اضافی بوجھ ظاہر ہے صارفین پر منتقل ہو گا۔ صارف، جو کہ عوام ہے، پہلے ہی دبا کا شکار ہونے کی وجہ سے ہیجانی کیفیت سے دوچار ہے۔ یہاں ریاستوں اور قیادت کا امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ کس طرح اس چیلنج سے عہدہ برآء ہوتے ہوئے اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔ ترقی پذیر ممالک کی عوام اپنی قیادت کی طرف دیکھتے ہیں تو انہیں بے بسی ہی دکھائی دیتی ہے۔ ’’ جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے‘‘ کے مصداق ریاستیں مشکل وقت میں اکثر عوام کے دکھوں کا مداوا کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہیں، اور معاشی دبائو کا بوجھ بتدریج عوام پر منتقل ہوتا رہتا ہے، تاہم پاکستان میں صورتحال کچھ مختلف دکھائی دے رہی ہے۔
مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کی کوششوں کیلئے پاکستان کی سفارتی ڈپلومیسی کی اس وقت پوری دنیا قائل ہو رہی ہے۔ تاہم درپیش عالمی چیلنج میں فقط سفارتی کامیابی ہی کافی نہیں ہوتی بلکہ اپنی عوام کو بحران کے اثرات سے محفوظ رکھنا اور ریلیف فراہم کرنا بھی ریاست کی اولین ذمہ داریوں میں شامل ہوتا ہے۔ پاکستان سفارتی محاذ کے ساتھ ساتھ اس محاذ پر بھی موثر انداز میں کام کرنا نظر آتا ہے۔ پاکستان کی حکومت بالخصوص صوبائی حکومتوں نے عوام کو تنہا چھوڑنے کی بجائے ریلیف پیکجز کی صورت میں معاشی بوجھ بانٹنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔ اس ضمن میں جہاں وفاقی سطح پر ریلیف کیلئے اہم اقدامات کئے جا رہے ہیں، وہیں صوبائی حکومتیں بھی اپنے اپنے تئیں عوام کا بوجھ تقسیم کرنے کیلئے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھ رہیں۔
پنجاب حکومت نے بھی پٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی، مفت پبلک ٹرانسپورٹ، گڈز ٹرانسپورٹرز اور کاشتکاروں کیلئے مالی معاونت، بائیکرز کیلئے فیول سبسڈی اور ایسے ہی دیگر متعدد اقدامات کے ذریعے اپنا مثبت کردار ادا کیا ہے۔ ایران، امریکہ، اسرائیل جنگ کی وجہ سے مختلف صورتوں میں پیدا ہونے والے عالمی بحران اور چیلنجز سے پیدا ہونے والا یہ اضافی بوجھ خود برداشت کرنا صوبائی حکومت کا بلاشبہ ایک مشکل فیصلہ ہے۔ اس کے باوجود وزیر اعلیٰ مریم نواز نے عوام کی داد رسی کرتے ہوئے ریلیف فراہم کرنے کیلئے بھرپور اقدامات کر رہی ہیں۔
وزیر اعلیٰ پنجاب نے عوام کو ماہانہ ٹارگٹڈ سبسڈی دینے کا اعلان کرتے ہوئے ٹرانسپورٹرز سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ عوام کا ساتھ دیں اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ مسافروں اور صارفین پر منتقل نہ کریں۔ ٹرانسپورٹ سیکٹر کی مالی معاونت کے تناظر میں وزیر اعلیٰ پنجاب کی طرف سے گڈز ٹرانسپورٹ کیلئے 70ہزار روپے، بڑی گاڑیوں کیلئے 80ہزار روپے، پبلک سروس بسوں کیلئے 1لاکھ روپے سبسڈی دینے کا بھی اعلان کیا گیا ہے، جبکہ کسانوں کی پشت پر کھڑے ہوتے ہوئے مریم نواز نے پنجاب میں گندم کاشت کرنیوالے 25ایکڑ تک اراضی کے مالک کاشتکاروں کی مالی معاونت کے ضمن میں ایک ایکڑ کیلئے 10لٹر ڈیزل پر 150روپے فی لٹر کی سبسڈی دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔ کسان دوست وزیر اعلیٰ مریم نواز اس امر کو بھی یقینی بنا رہی ہیں کہ یہ مالی فائدہ ہر کسان تک پہنچے۔ اس ضمن میں وہ ذاتی طور پر سبسڈی کے نظام کی نگرانی کر رہی ہیں۔
دوسری جانب پنجاب بھر میں موٹر بائیک رجسٹریشن فیس چارجز ختم جبکہ ٹرانسفر فیس معاف کرنے کے احکامات بھی وزیر اعلیٰ پنجاب کا ایک بڑا قدم ہیں۔ ہیلپ لائن 1000یا موبائل ایپ ’’ مریم کو بتائیں‘‘ پر رجسٹرڈ ہونے والی بائیک کو 2000 روپے ماہانہ سبسڈی دی جائیگی۔ یعنی ہر رجسٹرڈ بائیک کو 20لٹر پٹرول پر فی لٹر 100روپے سبسڈی ملے گی، فیول سبسڈی کی رجسٹریشن کیلئے موٹر بائیک مالکان ویپ پورٹل mkb.punjab.gov.pkپر بھی اپلائی کر سکتے ہیں۔ عوام کیلئے سبسڈی کے عمل کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے پنجاب بھر میں مفت پبلک ٹرانسپورٹ کے منصوبے کا بھی آغاز ہوا ہے، جس کے تحت میٹرو بس، اورنج ٹرین، سپیڈو بس، الیکٹرک بسوں اور دیگر پبلک ذرائع پر عوام کو بغیر ٹکٹ سفر کی سہولت دی جا رہی ہے۔
غرض پنجاب حکومت کی ہر ممکن کوشش ہے کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے اور جاری عالمی بحران کے اثرات سے عوام کو جس حد تک محفوظ رکھا جا سکتا ہے، اس کی کوشش کی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب عام آدمی کا معاشی بوجھ کم کرنے کیلئے شب و روز کوشاں ہیں۔ بلاشبہ یہی وہ طرز حکمرانی ہے جو مشکل حالات میں عوام کا اعتماد بحال کرتی ہے اور ایک ذمہ دار فلاحی ریاست کی بنیاد رکھتی ہے۔





