Column

توانائی بچت: بازار 8بجے بند کرنے کا راست فیصلہ

توانائی بچت: بازار 8بجے بند کرنے کا راست فیصلہ
وفاقی حکومت نے ملک بھر میں توانائی کی بچت کے لیے ایک موثر اور قابل تعریف قدم اٹھاتے ہوئے بازار، شاپنگ مالز اور دیگر تجارتی مقامات کے اوقات کار محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا اطلاق 7اپریل سے شروع ہوچکا ہے۔ یہ اقدام نہ صرف توانائی کے وسائل کے موثر استعمال کے لیے ضروری ہے بلکہ ایک قومی ذمے داری اور مستقبل کی منصوبہ بندی کے لیے بھی اشارہ ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں پٹرولیم مصنوعات، توانائی کی بچت اور کفایت شعاری کے اقدامات پر غور کیا گیا، جس میں صوبوں اور آزاد علاقوں کے نمائندگان نے بھرپور شمولیت دی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان، اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں مارکیٹس، بازار اور شاپنگ مالز رات 8بجے بند ہوں گے۔ تاہم خیبر پختونخوا کے ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں ان اوقات کار کو رات 9بجے تک بڑھانے کی استثناء رکھی گئی ہے، تاکہ مقامی ضروریات اور کاروباری ماحول کو بھی مدنظر رکھا جاسکے۔ یہ اقدام محض تجارتی پابندی نہیں بلکہ توانائی کے وسائل کے موثر استعمال کی طرف ایک عملی قدم ہے۔ ایران جنگ کے باعث ناصرف تیل و گیس کی قلت ہے بلکہ ان کی قیمتیں بھی کئی گنا بڑھ چکی ہیں۔ توانائی کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے اور غیر ضروری استعمال کے باعث بجلی کی قلت اور لوڈشیڈنگ کے مسائل پیدا ہورہے ہیں۔ اس پس منظر میں وفاقی حکومت کا یہ فیصلہ ایک متوازن اور قومی مفاد پر مبنی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔اجلاس میں واضح کیا گیا کہ روزمرہ کی اشیاء کی دکانیں، ڈیپارٹمنٹل اسٹورز اور ہر قسم کے مالز رات 8بجے بند ہوں گے جب کہ بیکریاں، ریسٹورنٹس اور کھانے پینے کی دکانیں رات 10بجے تک کھلی رہیں گی۔ شادی ہالز، مارکیز اور دیگر کمرشل جگہیں جہاں شادی بیاہ کی تقریبات منعقد ہوتی ہیں، رات 10بجے کے بعد بند رہیں گی، اور گھروں یا نجی پراپرٹیز میں بھی شادیوں کی سرگرمیوں کو 10بجے کے بعد محدود رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس فیصلہ میں شفافیت اور مقامی حکومتوں کی مشاورت کو خاص اہمیت دی گئی ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ سندھ میں مشاورت کا عمل جاری ہے اور وزیراعلیٰ سندھ کے تعاون کے بعد یہ اقدام تمام صوبوں میں یکساں طور پر نافذ کیا جائے گا۔ یہ رویہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ وفاقی حکومت نے توانائی کی بچت اور قومی وسائل کے تحفظ کے فیصلوں میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو شامل کرنے کی مکمل کوشش کی ہے، جو ایک جمہوری اور مربوط حکمت عملی کی علامت ہے۔ خصوصی طور پر اسلام آباد میں انتظامیہ نے تمام مارکیٹس اور شاپنگ مالز کو رات 8بجے بند کرنے کا حکم جاری کیا ہے، جبکہ میڈیکل اسٹورز، اسپتالوں، لیبارٹریز اور پٹرول پمپس کو استثنیٰ دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ تنور، بیکری اور دودھ کی دکانیں بھی پابندی سے مستثنیٰ ہیں۔ ہوٹلز اور ریسٹورنٹس رات 10بجے بند ہوں گے اور ٹیک اوے اور ہوم ڈیلیوری سروس پر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نے نہ صرف توانائی کی بچت کے ہر پہلو پر توجہ دی بلکہ شہری سہولتوں، صحت اور ضروری خدمات کو بھی نظرانداز نہیں کیا۔ اس موقع پر وزیر اعظم نے گلگت شہر اور مظفرآباد میں انٹراسٹی پبلک ٹرانسپورٹ کو ایک ماہ کے لیے مفت کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کا تمام اخراجات وفاقی حکومت برداشت کرے گی۔ یہ اقدام صرف توانائی کی بچت کے لیی نہیں بلکہ عوامی مفاد، ٹرانسپورٹ کی سہولت اور شہریوں کی سہولت کو یقینی بنانے کے لیے بھی اہم ہے۔ اجلاس میں شرکت کرنے والے وزرائے اعلیٰ اور وفاقی افسران نے اس بات پر اتفاق کیا کہ توانائی کے شعبے میں کفایت شعاری اور وسائل کے مثر استعمال کے بغیر ملک میں ترقی کی رفتار کو برقرار رکھنا ممکن نہیں۔ وزیراعظم نے صوبوں کی معاونت پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ قومی اہمیت کے معاملات میں اتفاق رائے کا بہترین مظہر ہے۔ یہ فیصلے پاکستان کے لیے ایک واضح پیغام ہیں کہ توانائی کے وسائل لامحدود نہیں ہیں اور ان کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ مارکیٹس اور شاپنگ مالز کے اوقات کار محدود کرنے سے توانائی کے استعمال میں نمایاں کمی متوقع ہے، جس سے نہ صرف بجلی کی بچت ہوگی بلکہ لوڈشیڈنگ کے اثرات بھی کم ہوں گے۔ اس کے ساتھ، یہ اقدام معاشرتی رویوں میں تبدیلی اور توانائی کے استعمال میں شعور پیدا کرنے کی بھی کوشش ہے، جو طویل المدتی فوائد کا باعث بنے گا۔ یہ فیصلہ کفایت شعاری اور ذمے داری کی ایک روشن مثال ہے۔ پاکستان کی معاشی ترقی اور عوام کی بھلائی کے لیے ایسے اقدامات ناگزیر ہیں۔ توانائی کی بچت اور قومی وسائل کے تحفظ کے لیے حکومت کی یہ حکمت عملی نہ صرف وقت کی ضرورت ہے بلکہ ایک وعن کی عکاسی بھی کرتی ہے، جو مستقبل میں ملک کی پائیدار ترقی کی بنیاد رکھے گی۔ آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ وفاقی حکومت کے یہ اقدامات ایک مثبت قدم ہیں، جو ملکی وسائل کی بچت، عوام کی سہولت اور معاشرتی شعور کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہوں گے۔ یہ فیصلہ ایک مثال ہے کہ کس طرح حکومت، صوبوں اور عوام کے تعاون سے محدود وسائل کو موثر انداز میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اگرچہ بعض پابندیاں ابتدا میں مشکلات پیدا کر سکتی ہیں، مگر طویل المدتی فوائد قومی سطح پر اس سے کہیں زیادہ اہم اور ضروری ہیں۔
شذرہ۔۔۔
بجلی قیمتوں میں بڑے اضافوں کا انکشاف
پاکستان میں گزشتہ تین سال کے دوران بجلی کی قیمت میں 155فیصد اضافے نے نہ صرف صارفین کی زندگی مشکل بنادی ہے بلکہ ملکی معیشت پر بھی شدید دبا ڈالا ہے۔ مسابقتی کمیشن آف پاکستان کی حالیہ رپورٹ کے مطابق مہنگی بجلی کے باعث صارفین اب سولر پینلز کی جانب منتقل ہورہے ہیں اور پاکستان پچھلے پانچ سال میں سولر پینلز کی انسٹالڈ کپیسٹی اور مارکیٹ میں نمایاں اضافہ کر کے لیڈنگ مارکیٹس میں شامل ہو چکا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انسٹالڈ کپیسٹی 35گیگا واٹ سے تجاوز کر گئی اور درآمدات 50گیگا واٹ سے زیادہ ہیں، تاہم لاکھوں صارفین اب بھی بجلی کی بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔ رپورٹ میں بجلی کے ترسیلی نظام کی کمزوری، نیٹ میٹرنگ کی محدودیت، گرڈ آٹومیشن کی کمی اور غیر معیاری سولر آلات کو اہم مسائل کے طور پر اجاگر کیا گیا ہے۔ کمیشن نے سفارش کی ہے کہ جدید میٹرنگ، دو طرفہ بجلی کے بہا کے نظام اور گرڈ کی خودکار نگرانی متعارف کرائی جائے تاکہ نقصانات کم ہوں، بجلی کی ترسیل بہتر ہو اور قابل تجدید توانائی مثر طور پر نظام میں شامل ہوسکے۔ مزید برآں، مسابقتی کمیشن نے کہا کہ سولر مارکیٹ میں سرمایہ کاری اور مسابقت کے فروغ کے لیے داخلے کی رکاوٹیں کم کرنا اور شفافیت بڑھانا ضروری ہے۔ صنعتی علاقوں اور خصوصی اقتصادی زونز کے لیے قابل تجدید توانائی کے پائلٹ منصوبے متعارف کرانے سے سستی بجلی کی فراہمی ممکن ہو سکتی ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ مہنگی بجلی کی بڑی وجوہ میں کیپسٹی پیمنٹس، روپے کی قدر میں کمی اور نظام کی ساختی خامیاں شامل ہیں اور کئی علاقوں میں بجلی کے بل گھروں کے کرائے سے زیادہ ہوگئے ہیں۔پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کی شدت کے پیش نظر، سولر توانائی اپنانا نہ صرف اقتصادی بلکہ ماحولیاتی ضرورت ہے۔ رپورٹ کے مطابق نیٹ میٹرنگ اور سستی سولر آلات کی دستیابی نے صارفین کو فوری حل فراہم کیا ہے، لیکن غیر معیاری آلات مارکیٹ اور صارفین کے لیے خطرہ ہیں۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو فوری عملی اقدامات، ترسیلی نظام کی بہتری، جدید میٹرنگ اور مسابقتی بجلی کے نظام کے نفاذ کو ترجیح دینی ہوگی تاکہ مہنگی بجلی کے اثرات کم ہوں، سولر مارکیٹ میں سرمایہ کاری بڑھے اور عوام کو معیاری اور سستی توانائی فراہم ہو۔ یہ وقت کی ضرورت ہے کہ پاکستان توانائی کے شعبے میں عملی اصلاحات کے ذریعے مستقبل کی توانائی کی پائیداری یقینی بنائے۔

جواب دیں

Back to top button