Column

چڑیوں کی خاموشی ۔۔۔ ہماری ترقی کا اندھا رخ

چڑیوں کی خاموشی ۔۔۔ ہماری ترقی کا اندھا رخ

تحریر: رفیع صحرائی

ابھی چند سال پہلے کی بات ہے صبح کی پہلی روشنی کے ساتھ جب فضا میں چڑیوں کی چہچہاہٹ گونجتی تھی تو یوں محسوس ہوتا تھا جیسے قدرت خود زندگی کی حمد سنا رہی ہو۔ آج وہی صبحیں عجیب سی خاموشی اوڑھے کھڑی ہیں۔ نہ وہ شوریدہ پروازیں، نہ صحنوں میں پھدکتی زندگی اور نہ چھتوں کے کناروں پر گھونسلوں کی آبادیاں رہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر یہ ننھے پرندے کہاں کھو گئے؟ کیا یہ محض ایک فطری تبدیلی ہے یا ہماری ترقی کے نام پر کی جانے والی اندھی دوڑ کا نتیجہ ہے؟

ہر سال 20مارچ کو چڑیوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ یہ محض ایک علامتی دن نہیں بلکہ انسان کو آئینہ دکھانے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔ مقصد یہ باور کرانا ہے کہ چڑیاں صرف خوبصورتی کی علامت نہیں بلکہ ماحولیاتی توازن کی بنیادی کڑی ہیں۔ ان کی موجودگی زمین کے زندہ اور صحت مند ہونے کا اعلان ہوتی ہے جبکہ ان کی گمشدگی فطرت کے بگڑتے نظام کی خطرناک گھنٹی ہے۔ وہ گھنٹی جس کی آواز ہمارے کانوں میں مسلسل بج رہی ہے مگر ہم سب بہرے ہو چکے ہیں۔ ہماری سماعتوں کا یہ بہرا پن فطرت کے حسن ہی کو تباہ نہیں کر رہا بلکہ ہمیں آنے والی زندگی کے خطرات سے بھی بے بہرا کر رہا ہے۔

جدید تہذیب نے انسان کو سہولتیں تو بے شمار عطا کیں مگر اس ترقی کی قیمت فطرت نے چکائی ہے۔ ہمارے چاروں طرف کنکریٹ کے جنگل اگ آئے، درخت کٹ گئے، کھلے صحن بند کمروں میں بدل گئے۔ موبائل ٹاورز کی یلغار، فضائی آلودگی، شور کی آفت اور موسمی بے ترتیبی نے پرندوں کی دنیا کو تہس نہس کر کے رکھ دیا ہے۔

چڑیاں، جو کبھی انسان کے قریب ترین پرندہ سمجھی جاتی تھیں اب شہری زندگی سے بے دخل ہوتی جا رہی ہیں۔ جدید تعمیرات میں نہ روشندان بچے، نہ کچی دیواریں، نہ لکڑی کی چھتیں رہیں۔ ہم نے جدیدیت اور ترقی کے نام پر ان تمام جگہوں کو ختم کر دیا ہے جہاں یہ ننھی مخلوق اپنے گھر بسایا کرتی تھی۔

زرعی میدان میں بھی صورتحال مختلف نہیں۔ فصلوں پر کھادوں اور کیڑے مار زہروں کا بے دریغ استعمال زمین کی زرخیزی کے ساتھ ساتھ حیاتیاتی تنوع کو بھی نگل رہا ہے۔ کیڑے مار ادویات نے کیڑے تو کم کیے مگر ان پر پلنے والے پرندوں کی خوراک بھی چھین لی۔ چڑیاں کسان کی فطری ساتھی تھیں۔ وہ نقصان دہ کیڑے مکوڑے کھا کر فصلوں کو بچاتی تھیں۔ مگر جب خوراک زہریلی ہو جائے تو زندگی کیسے باقی رہے؟ یہ زہریلے اثرات چڑیوں کی افزائش نسل کو متاثر کر رہے ہیں، ان کے انڈے کمزور ہو رہے ہیں اور ان کی تعداد تیزی سے گھٹ رہی ہے۔ گویا ہم اپنے ہی مددگاروں کا وجود مٹا رہے ہیں۔

کبھی گھروں کے آنگن درختوں سے آباد ہوتے تھے۔ بچوں کی آنکھ چڑیوں کے گھونسلوں کو دیکھ کر کھلتی تھی۔ چھتوں پر دانہ ڈالنا معمول تھا، مٹی کے برتنوں میں پانی رکھنا روایت تھی مگر اب طرزِ زندگی بدل چکا ہے۔ مصروفیت نے رشتے کمزور کیے تو فطرت سے تعلق بھی ٹوٹ گیا۔ چڑیا، جو کبھی گھر کی رونق تھی، اب یادوں کی علامت بنتی جا رہی ہے۔ تھوڑی دیر کے لیے آنکھیں بند کر کے سوچیں کہ آپ نے آخری بار چڑیا کب دیکھی تھی۔ وہ چڑیا جو ہماری زندگی اور ہمارے گھروں کا لازمی حصہ تھی اسے ہم نے اپنی زندگی اور گھروں سے یوں بے دخل کر دیا ہے جیسے ان کا کبھی وجود ہی نہ رہا ہو۔

اب بھی وقت ہے کہ ہم چڑیوں کی ناپید ہوتی نسل کو بچا سکتے ہیں۔ اگر انسان بگاڑ پیدا کر سکتا ہے تو اصلاح بھی اسی کے ہاتھ میں ہے۔ ہم گھروں کی حد تک چھتوں اور بالکونیوں میں پانی اور دانہ رکھنا شروع کر دیں، اپنے گھروں میں مصنوعی گھونسلے نصب کرنے لگیں تو روٹھی ہوئی چڑیاں واپس لوٹ سکتی ہیں۔

غیر ضروری کیمیکل کا اسپرے کرنے سے اجتناب کرنے کے علاوہ زرعی سائنسدانوں کو ایسی زرعی ادویات کی تیاری کے لیے ریسرچ کرنی چاہیے جو ضرر رساں کیڑوں کو تو تلف کر دیں مگر جانوروں اور پرندوں کو نقصان نہ پہنچائیں۔ ماحول دوست کاشتکاری وقت کی اہم ضرورت ہے۔ زہریلی ادویات کے متبادل طریقے اختیار کرنا زندگی کی بقا کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے۔ سماجی و تعلیمی سطح پر نصاب میں ماحولیاتی شعور کی شمولیت کو لازم قرار دینا چاہیے۔ مقامی سطح پر پرندہ دوست مہمات شروع کر کے ان کی زندگی بچانے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ اس طرح نئی نسل کو فطرت سے جوڑنے کی عملی تربیت دی جا سکتی ہے۔

چڑیوں کو ناپید ہونے سے بچانا محض ماحولیات معاملہ نہیں یہ تہذیبی بقا کا مسئلہ بھی ہے۔ جو قومیں فطرت سے کٹ جاتی ہیں وہ روحانی طور پر بنجر ہو جاتی ہیں۔ چڑیاں ہماری اجتماعی یادداشت کا حصہ ہیں۔ دیہات کی سادگی، شہروں کی صبحیں اور گھروں کی مانوس فضا انہی سے وابستہ ہے۔ ان کا تحفظ دراصل زندگی کے حسن کا تحفظ ہے۔

چڑیوں کا عالمی دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زمین صرف انسان کی جاگیر نہیں۔ اس پر بسنے والی ہر مخلوق کا اس پر حق ہے۔ اگر ہم نے اپنی روش نہ بدلی تو آنے والی نسلیں چڑیوں کی آواز صرف کہانیوں میں سنیں گی۔ یاد رکھیے! ’’ فطرت انتقام نہیں لیتی، صرف حساب برابر کرتی ہے‘‘۔

جواب دیں

Back to top button