Column

والدین کے ساتھ حسنِ سلوک: فرض بھی، قرض بھی

والدین کے ساتھ حسنِ سلوک: فرض بھی، قرض بھی

تحریر: رفیع صحرائی

معاشرے کی اخلاقی بنیادیں چند مضبوط ستونوں پر قائم ہوتی ہیں۔ ان میں سب سے اہم ستون والدین کے ساتھ حسنِ سلوک ہے۔ یہ صرف ایک سماجی قدر نہیں بلکہ ایک دینی فریضہ بھی ہے اور ایک ایسا قرض بھی جو انسان اپنی اولاد کے ذریعے چکاتا ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ جو بیج ہم اپنے والدین کے ساتھ بوئیں گے، وہی ہماری اولاد ہمارے ساتھ کاٹے گی۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں اپنی عبادت کے فوراً بعد والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ، ترجمہ: ’’ تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرو اور اگر وہ بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کے سامنے اف تک نہ کہو، نہ انہیں جھڑکو بلکہ ان سے نرمی اور احترام سے بات کرو اور ان کے لیے دعا کرتے رہو کہ اے میرے رب! ان پر ویسا ہی رحم فرما جیسا انہوں نے بچپن میں مجھ پر کیا‘‘۔

یہ آیات نہ صرف والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیتی ہیں بلکہ ایک مکمل طرزِ زندگی سکھاتی ہیں۔ اس طرزِ زندگی میں ادب، محبت، عاجزی اور خدمت کا حسین امتزاج ہے۔

بدقسمتی سے آج کے دور میں اس تعلیم کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ جدید طرزِ زندگی، مصروفیات اور مادہ پرستی نے اولاد کو اس قدر خود غرض بنا دیا ہے کہ والدین کی عزت و تکریم پسِ پشت چلی گئی ہے۔ وہ والدین جو کبھی اولاد کی ایک مسکراہٹ کے لیے اپنی نیندیں قربان کر دیتے تھے، آج اسی اولاد کے لہجوں سے خوفزدہ نظر آتے ہیں۔ یہ المیہ صرف ایک گھر کا نہیں، پورے معاشرے کا ہے۔ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ والدین کے ساتھ حسنِ سلوک محض اخلاقی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک روحانی کامیابی کا راستہ بھی ہے۔

حدیثِ مبارکہ کے مطابق ’’ جنت ماں کے قدموں تلے ہے‘‘ اور باپ کو جنت کا دروازہ قرار دیا گیا ہے۔ گویا جو شخص اپنے والدین کو راضی رکھتا ہے، وہ دراصل اپنی آخرت سنوارتا ہے۔

والدین کی قربانیاں کسی ایک دن یا ایک واقعے تک محدود نہیں ہوتیں۔ ماں کی مامتا اور باپ کی محنت ایک مسلسل جدوجہد کا نام ہے۔ ماں اپنی نیند، آرام اور صحت قربان کر کے اولاد کو پروان چڑھاتی ہے جبکہ باپ اپنی خواہشات کو دبا کر اولاد کی ضروریات پوری کرتا ہے۔ اولاد کی ایک فرمائش کے پیچھے ان کی کتنی محنت اور کتنی پریشانیاں چھپی ہوتی ہیں، اس کا اندازہ اکثر ہمیں اس وقت ہوتا ہے جب ہم خود اس مقام پر پہنچتے ہیں۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے رویّوں کا جائزہ لیں۔ کیا ہم نے کبھی اپنے والدین سے پوچھا کہ وہ کیسے ہیں؟ کیا انہیں کسی چیز کی ضرورت ہے؟ کیا ہم نے کبھی ان کے ساتھ بیٹھ کر چند لمحے گزارے؟ حقیقت یہ ہے کہ والدین کو مہنگے تحفوں سے زیادہ اولاد کا وقت، محبت اور احترام درکار ہوتا ہے۔ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ جب والدین اس دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں تو پھر انسان کے پاس صرف پچھتاوا رہ جاتا ہے۔ اس وقت نہ کوئی دولت کام آتی ہے اور نہ مصروفیات کا بہانہ۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان کی موجودگی میں ہی ان کی قدر کریں، ان کی خدمت کریں اور ان کے دل نہ دکھائیں۔

والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کے چند عملی پہلو بھی ہیں مثلاً نرم لہجے میں بات کرنا، ان کے سامنے آواز پست رکھنا، ان کی بات کو اہمیت دینا، ان کی ضروریات کا خیال رکھنا، ان کے ساتھ وقت گزارنا، اور سب سے بڑھ کر ان کے لیے دل سے دعا کرنا۔ یہ چھوٹے چھوٹے اعمال نہ صرف والدین کے دل کو خوش کرتے ہیں بلکہ انسان کی اپنی زندگی میں بھی برکت کا باعث بنتے ہیں۔

یاد رکھیے! والدین واقعی اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہیں۔ ان کی موجودگی گھر کو جنت کا نمونہ بنا دیتی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری زندگی میں سکون، برکت اور کامیابی ہو تو ہمیں اپنے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کو اپنا شعار بنانا ہوگا۔ والدین کے ساتھ حسنِ سلوک ایک ایسا فرض ہے جو ہمیں جنت تک لے جاتا ہے اور ایک ایسا قرض ہے جو ہماری اولاد ہم سے چکاتی ہے۔

جواب دیں

Back to top button