ColumnTajamul Hussain Hashmi

مشرقِ وسطیٰ کا بحران اور پاکستان

مشرقِ وسطیٰ کا بحران اور پاکستان

تحریر: تجمّل حسین ہاشمی

پاکستان کو سعودی عرب کی حمایت میں ایران پر دبائو یا وارننگ دینے کے بجائے خطے میں مفاہمت کی کوششوں کو ترجیح دینی چاہئے۔ یہ تجزیہ ہمارے استاد شیراز پراچہ کا ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ایران کے درمیان جو غلط فہمیوں ہیں، ان کو کم کرنے میں اپنا فعال کردار ادا کرے اور دونوں ممالک کو تصادم کے بجائے مذاکرات اور مفاہمت کی طرف لے کر آئے۔ اس حوالے سے پاکستانی قیادت نے سعودی عرب کے دورے بھی کئے ہیں۔ سعودی عرب امریکی اثر سے ہٹ کر ایران کو مستقل خطرہ سمجھنے کے بجائے اس کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کی راہ اختیار کرے تو پورے خطے میں استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔

خلیجی ریاستیں بھی واضح انداز میں محسوس کر رہی ہیں کہ امریکہ اپنے مفادات کے معاملے میں اسرائیل کو ہمیشہ فوقیت دیتا ہے۔ سعودی عرب، قطر، کویت، متحدہ عرب امارات، اردن اور بحرین سب یہ دیکھ رہے ہیں کہ امریکہ نے اپنی بڑی سیاسی اور عسکری طاقت اسرائیل کے تحفظ کے لیے وقف کر رکھی ہے۔ اس حقیقت نے خلیجی ممالک کے اندر بھی امریکہ پر اعتماد کو کسی حد تک کمزور کیا ہے۔

اس بدلتی ہوئی صورتحال میں چین اور پاکستان کے لیے ایک اہم سفارتی موقع پیدا ہو سکتا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ کے نئے جیو پولیٹیکل منظرنامے میں مثبت اور تعمیری کردار ادا کریں۔ اگر خطے میں ایران اور عرب ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی آتی ہے تو یہ پورے خطے کے امن اور استحکام کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل کی حکمت عملی ہے کہ ایران اور عرب ممالک کے درمیان براہ راست تصادم پیدا ہو جائے اور یہ تنازع فرقہ وارانہ اور نسلی بنیادوں پر طویل عرصے تک جاری رہے۔ کئی سابق امریکی فوجی اور انٹیلی جنس حکام بھی اس خدشے کا اظہار کر چکے ہیں کہ خطے میں ہونے والی بعض پراسرار کارروائیوں کا مقصد ایران اور عرب ممالک کے درمیان جنگی ماحول پیدا کرنا ہے۔

ایران نے حالیہ واقعات کے بعد کئی علاقائی ممالک سے رابطہ کر کے یہ موقف اختیار کیا کہ وہ صرف امریکی اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے اور اس کا مقصد خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ جنگ چھیڑنا نہیں ہے۔ اسی دوران پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان غلط فہمیوں کو کم کرنے کی کوششوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ایک طویل عرصے بعد پاکستان کو ایسا وزیر خارجہ ملا ہے جو بڑھک بازی کے بجائے نسبتاً خاموش اور متوازن سفارت کاری کے ذریعے خارجہ پالیسی کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔

حالیہ رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں کے لیے بعض علاقائی قوتوں کی طرف سے دبائو موجود تھا۔ تاہم ایران کی مزاحمت اور امریکہ کی محدود عملی حمایت نے خلیجی ریاستوں کے بعض حلقوں میں یہ سوال ضرور پیدا کر دیا ہے کہ آیا امریکہ واقعی ان کی سلامتی کا قابلِ اعتماد ضامن ہے یا نہیں۔

متحدہ عرب امارات کے حوالے سے ایران کی پالیسی نسبتاً سخت رہنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کیونکہ گزشتہ چند برسوں میں امارات اور اسرائیل کے درمیان تعلقات میں غیر معمولی قربت پیدا ہوئی ہے۔ ایران اس صورتحال کو اپنے خلاف سرگرمیوں کے تناظر میں دیکھتا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والا یہ بحران اپنی سنگینی کے باوجود خطے میں طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ اگر امریکہ کی موجودگی کمزور ہوتی ہے تو چین، پاکستان اور بعض دیگر علاقائی طاقتیں اس خلا کو سفارتی اور معاشی تعاون کے ذریعے پر کر سکتی ہیں۔

امریکہ اور پاکستان کے درمیان حالیہ قربتیں بھی مستقل نوعیت کی نہیں لگتیں۔ عالمی سیاست میں مفادات تیزی سے بدلتے رہتے ہیں اور ممکن ہے کہ مستقبل میں امریکہ دوبارہ پاکستان پر دبائو بڑھانے کی کوشش کرے، خصوصاً اگر پاکستان ایران کے خلاف کسی ممکنہ امریکی منصوبے کا حصہ بننے سے انکار کرے یا چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو ترجیح دے۔

ایسی صورتحال میں پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی کو متوازن، خودمختار اور حقیقت پسندانہ رکھے۔ پاکستان اگر چاہے تو ایران اور خلیجی ریاستوں کے درمیان پل کا کردار ادا کر سکتا ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کو اپنے قومی مفادات کو بھی واضح اور مضبوط انداز میں سامنے رکھنا ہوگا۔

اس وقت تقریباً پچپن لاکھ پاکستانی خلیجی ممالک میں کام کر رہے ہیں جن میں بڑی تعداد سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں مقیم ہے۔ ان میں اکثریت محنت کش طبقے سے تعلق رکھتی ہے اور یہی افراد پاکستان کی معیشت کے لیے قیمتی زرِ مبادلہ بھیجتے ہیں۔ پاکستان کو چاہیے کہ خلیجی ممالک کے ساتھ مذاکرات کے دوران وہاں کام کرنی والے پاکستانیوں کے حقوق اور سہولتوں کو بھی ایجنڈے کا حصہ بنائے۔

پاکستان کو مطالبہ کرنا چاہیے کہ خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کے لیے امیگریشن قوانین میں نرمی، مستقل رہائش کی سہولتوں اور بہتر قانونی تحفظ جیسے اقدامات کیے جائیں۔ اسی طرح عرب ممالک کی جیلوں میں قید پاکستانیوں کے ساتھ انصاف پر مبنی سلوک اور ان کے مقدمات کے منصفانہ حل کے لیے بھی کوششیں کی جانی چاہئیں ۔ تاریخی طور پر دیکھا جائے تو خلیجی ممالک کی تعمیر و ترقی میں پاکستانی مزدوروں اور ماہرین کی خدمات نمایاں رہی ہیں۔ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں پاکستانیوں کے لیے بیرون ملک روزگار کے دروازے وسیع پیمانے پر کھلے اور اسی پالیسی کے نتیجے میں لاکھوں پاکستانی خلیجی ممالک میں کام کرنے لگے۔

آج کے حالات میں پاکستان ایک مرتبہ پھر سفارتی سطح پر فعال کردار ادا کر سکتا ہے۔ اگر پاکستان ایران، خلیجی ممالک اور چین کے درمیان معاشی اور سفارتی تعاون کو فروغ دینے میں کامیاب ہو جائے تو یہ نہ صرف خطے کے استحکام بلکہ پاکستان کی معیشت کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو گا۔

اسی تناظر میں یہ خیال بھی دوبارہ زیر غور آ سکتا ہے کہ مسلم ممالک اپنی مالی طاقت کو مشترکہ معاشی اداروں کے ذریعے استعمال کریں۔ ماضی میں ذوالفقار علی بھٹو نے اسلامی ممالک کے مشترکہ مالیاتی نظام کا تصور پیش کیا تھا جس کا مقصد مسلم دنیا کی اقتصادی خودمختاری کو مضبوط بنانا تھا۔

آج جب خلیجی ریاستیں عالمی سیاست میں نئی صف بندیوں کا مشاہدہ کر رہی ہیں تو ان کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنی اقتصادی اور سفارتی حکمت عملی کو وسیع تر علاقائی تعاون کے ساتھ جوڑیں۔ اگر خلیجی ممالک چین، پاکستان اور دیگر علاقائی معیشتوں کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دیتے ہیں تو اس سے نہ صرف ان کی معیشت مضبوط ہو سکتی ہے بلکہ خطی میں ایک زیادہ متوازن اور باوقار نظام بھی تشکیل پا سکتا ہے۔

جواب دیں

Back to top button