ColumnImtiaz Aasi

ٹرمپ کے اندازے غلط نکلے

ٹرمپ کے اندازے غلط نکلے

نقارہ خلق

امتیاز عاصی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو تر نوالہ سمجھ کر حملہ تو کر دیا مگر اس نے نہ صرف اپنے آپ کو اپنی پوری قوم کو ایک نئے امتحان میں ڈال دیا۔ صدر ٹرمپ کو اس بات کا گھمنڈ تھا امریکہ سپر پاور ہے لہذا ایران چند روز میں ایران ہتھیار ڈال دے گا لیکن پاسداران انقلاب نے دنیا کی سپر پاور کو جواب دے کر نئی تاریخ رقم کر دی۔ درحقیقت پاسداران انقلاب کے سامنے فلسفہ کربلا ہے جس میں نواسہ رسولؐ نے اپنے جانثار ساتھیوں کے ساتھ جان دے دی مگر یزید کی بیعت نہیں کی۔ پاسداران انقلاب اسی جوش جذبے کے ساتھ امریکہ کے خلاف برسر پیکار ہیں۔ امریکہ، اسرائیل کے خلاف جنگ میں مسلمانوں ملکوں نے جہاں امریکہ کو اڈے فراہم کئے وہاں یو اے ای واحد ملک ہے جس نے بڑی ڈھٹائی سے امریکہ کو اڈے دیئے، اسی لئے ایران کو بار بار یو اے ای کو نشانہ بنانا پڑا۔ اس جنگ کی خاص بات یہ ہے کہ اسلامی ملکوں میں پاکستان واحد ملک ہے جس نے روس اور چین کے ساتھ اقوام متحدہ میں ایران پر حملے کی مذمت کی جسے ایران نے حد درجہ سراہا ہے۔ حالیہ امریکہ ایران جنگ کے دوران پاکستان کے عوام نے کسی تفرقہ بازی میں پڑے بغیر ایران کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ دوسری طرف ایران کے سکیورٹی چیف علی لاریجانی نے او آئی سی کے ملکوں کو ایک مراسلے میں اس امر پر افسوس ظاہر کیا ہے کہ ایران امریکہ، اسرائیل کے خلاف تنہا جنگ لڑ رہا ہے، مگر مسلمان ملکوں ماسوائے پاکستان کے کسی نے امریکی حملے کی مذمت نہیں کی۔ پاکستان کی حکومت نے اس نازک موقع پر بہترین سفارت کاری کا مظاہرہ کیا جس پر ایران نے پاکستان کا شکریہ ادا کیا ہے جس کی بڑی وجہ پاکستان اس جنگ میں فریق نہیں بنا ہے۔ امریکہ صدر ٹرمپ کو اس وقت سبکی کا سامنا کرنا پڑا جب یورپی ملکوں میں سے کسی نے ان کی درخواست پر بحری بیڑا آبنائے ہرمز بھیجنے کی حامی نہیں بھری۔ جنگ میں نقصانات تو دونوں طرف سے ہوتے ہیں، مگر صدر ٹرمپ کے اندازے غلط نکلے۔ ٹرمپ کو امید تھی ایران میں چند روزہ جنگ کے بعد رجیم چینج ہوجائے گا، مگر ان کی یہ خواہش دھری کی دھری رہ گئی۔ گو ایران پاکستان کے مقابلے میں بھارت کو ترجیح دیتا رہا تاہم اس کے باوجود پاکستان نے ایران کے خلاف امریکی حملے کی مذمت کرکے ایران کے ساتھ بھائی چارے کا حق ادا کر دیا۔ اگر ہم ماضی کی طرف لوٹیں تو 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران پاکستان کے لڑاکا طیارے تہران کے ہوائی اڈے سے فیول لے کر بھارت پر حملہ آور ہوتے تھے۔ اس جنگ میں جہاں ایران کا مالی و جانی نقصان ہو رہا ہے وہاں امریکہ کے یومیہ اربوں ڈالر خرچ ہو رہے ہیں۔ امریکہ کو اس بات کا یقین تھا وہ ایران پر حملہ کرے گا تو پاسدران انقلاب کے مخالف عوام ایرانی حکومت کے خلاف سڑکوں پر آجائیں اس کے برعکس ایران کے عوام نے امریکہ کے خلاف احتجاج کرکے ثابت کر دیا ایران کے لوگ پاسداران انقلاب کی حکومت کے ساتھ ہیں۔ ایران نے یہ بات واضح کر دی تھی اگر اس پر حملہ ہوا تو وہ آبنائے ہرمز بند کر دے گا جو اس نے کر دکھایا ہے۔ ایران نے امریکہ کو چیلنج دیا ہے کہ وہ اپنے جہاز آبنائے ہرمز سے گزار کر دیکھے جو سپر پاور کے لئے کسی چیلنج سے کم نہیں۔ یہ بھی مسلمہ حقیقت ہے آبنائے ہرمز سے دنیا کی کل ضرورت کا قریبا 30فیصد تیل اور این ایل جی اسی راستے سے گزرتی ہے۔ بظاہر دیکھا جائے تو ایران تن تنہا امریکہ، اسرائیل کا مقابلہ کر رہا ہے۔ مجھے نہیں لگتا یہ جنگ جلد ختم ہو گی۔ جب کہ ایران کا کہنا وہ یہ جنگ اس وقت تک جاری رکھے گا جب تک امریکہ اور اسرائیل اس بات یقینی نہیں بنائیں گے کہ وہ آئندہ ایران پر حملہ نہیں کریں گے۔ بھلا سوچنے کی بات جب امریکہ جو دنیا کی سپر پاور ہے ازخود آبنائے ہرمز کھول نہیں سکا تو دنیا کے دوسرے ملک اس ضمن میں کیا کر سکتے تھے۔ اگرچہ صدر ٹرمپ نے یہ اعلان کیا ہے جنگ جلد ختم ہو گی، مگر انہوں نے یہ نہیں بتایا کب ختم ہوگی اور اس کے اہداف حاصل ہو سکیں گے۔ دراصل امریکی صدر نے ایران کو miscollectکیا ہے امریکہ نے اسرائیل کہنے پر ایران پر حملہ کیا ہے۔ باآور کیا جاتا ہے اسرائیلی وزیر اعظم نے امریکی صدر کو اس بات کا یقین دلایا تھا چند روز میں ختم ہو جائے گی۔ عرب ملکوں کا ہمیشہ یہ موقف رہا ہے جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں وہ امریکہ کو کبھی اپنے سر زمین استعمال نہیں کرنے دیں گے لیکن ہوا بالکل اس کے برعکس۔ بعض حلقوں نے نزدیک امریکہ، اسرائیل نے اس جنگ کو مذہبی رنگ دینے کی بھی کوشش کی ہے۔ چند ہفتوں کی جنگ میں کسی کو اس بات کا اندازہ نہیں تھا ایران امریکہ، اسرائیل کے خلاف اس قدر سخت ردعمل دے گا۔ باوجود اس کے حالیہ جنگ میں ایران شدید اندرونی اور بیرونی دبائو کا شکار ہے لیکن ایران میں فوری تبدیلی کا کوئی امکان دور دور تک نہیں دکھائی دے رہا ہے۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے دنیا کے ملک دونوں ملکوں پر دبائو ڈال کر جنگ روکنے کے لئے جدوجہد کریں ورنہ یہی صورت حال رہی تو بین الاقوامی طور پر توانائی کے بحران کے خدشات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ آبنائے ہرمز کی آبی گزرگاہ کے بند ہونے سے جہاں عالمی سطح پر توانائی کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے، وہاں امریکہ اور روس کو سب سے زیادہ فائدہ ہوگا، کیونکہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کا فائدہ امریکہ اور روس جیسے تیل پیدا کرنے والے ملکوں کو پہنچے گا۔ ایک خبر ہے آبنائے ہرمز میں بھارت کے بیس سے زیادہ جہاز رکے ہوئے ہیں۔ اس بات کا بھی امکان ہے جنگ ختم نہ ہوئی تو امریکہ ایٹمی ہتھیار کو بھی بروئے کار لا سکتا ہے۔ حقیقت میں دیکھا جائے تو مسلم امہ ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے اگر انہوں نے آپس میں اتحاد اور یکجہتی کا مظاہر ہ نہ کیا تو اس کی تباہی کو کوئی روک نہیں سکے گا۔

جواب دیں

Back to top button