Column

مینوپاز: نسوانی تبدیلیاں، ذہن کی آزمائش

نہال ممتاز:
مینوپاز یا سنِ یاس خواتین کی زندگی کا ایک ایسا فطری مرحلہ ہے جسے اگر عورت کی پوشیدہ جہدوجہد کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ اکثر خواتین اس مرحلے سے گزرتے ہوئے شدید جسمانی اور ذہنی کیفیتوں کا سامنا کرتی ہیں، مگر نہ انہیں خود پوری طرح سمجھ آتی ہے کہ ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے اور نہ ہی اردگرد کے لوگ اس تبدیلی کو سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ عام طور پر اسے صرف ماہواری کے رک جانے تک محدود سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت میں یہ ایک ایسی تبدیلی ہے جو عورت کی جسمانی صحت، ذہنی کیفیت اور روزمرہ زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کر سکتی ہے۔
طبّی اعتبار سے مینو پاز اس مرحلے کو کہا جاتا ہے جب عورت کے جسم میں تولیدی ہارمونز، خصوصاً ایسٹروجن کی سطح بتدریج کم ہونے لگتی ہے۔ ایسٹروجن صرف تولیدی نظام تک محدود نہیں بلکہ دماغی افعال، موڈ اور جذباتی توازن میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جب اس کی مقدار کم ہوتی ہے تو عورت خود کو ایک عجیب اور اجنبی کیفیت میں پاتی ہے۔ وہ خواتین جو زندگی بھر پراعتماد اور مضبوط شخصیت کی مالک رہی ہوتی ہیں، اچانک بے چینی، خوف اور اداسی کا شکار ہونے لگتی ہیں۔ اسی لیے اردو میں اس کے لیے سن یاس یعنی مایوسی کا زمانہ یا وقت کہا جاتا ہے۔
اس مرحلے کی ایک عام علامت وہ کیفیت ہے جسے ماہرین “برین فوگ” کہتے ہیں۔ اس میں عورت کو محسوس ہوتا ہے کہ اس کی یادداشت کمزور ہو رہی ہے، چھوٹے چھوٹے فیصلے کرنا مشکل لگنے لگتے ہیں اور توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت متاثر ہو جاتی ہے۔ بعض اوقات وہ کسی بات کو یاد کرنے کی کوشش کرتی ہے مگر ذہن جیسے دھند میں ڈوب جاتا ہے۔ یہ کیفیت بہت سی خواتین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے کہ شاید ان کے ذہنی توازن میں خرابی آ رہی ہے، حالانکہ حقیقت میں یہ سب ہارمونل تبدیلیوں کا نتیجہ ہوتا ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ذہنی صحت کو ہمیشہ ثانوی اہمیت دی گئی ہے۔ جب بات مینوپاز کی ہو تو اسے محض بڑھاپے کی ایک علامت سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی خاتون اس دوران چڑچڑے پن یا غصے کا اظہار کرے تو اسے سمجھنے کے بجائے تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس رویے سے اس کی ذہنی حالت مزید بگڑ سکتی ہے اور وہ خود کو تنہا محسوس کرنے لگتی ہے۔
مینوپاز کے دوران بے چینی اور گھبراہٹ کی کیفیت عام پریشانیوں سے مختلف ہوتی ہے۔ یہ اچانک ایک لہر کی طرح آتی ہے جس پر انسان کا اختیار نہیں ہوتا۔ اس کے ساتھ راتوں کی نیند اڑ جانا، جسم میں تپش یا پسینے کی لہریں اٹھنا بھی عام علامات ہیں۔ جب نیند متاثر ہوتی ہے تو اس کا براہِ راست اثر دماغی صحت پر پڑتا ہے۔ یوں ایک ایسا چکر شروع ہو جاتا ہے جس میں جسمانی تھکن ذہنی دباؤ کو بڑھاتی ہے اور ذہنی دباؤ جسم کو مزید نڈھال کر دیتا ہے۔
اس صورتحال میں سب سے اہم چیز آگاہی اور سمجھ بوجھ ہے۔ گھر کے افراد، خصوصاً شوہر اور بچوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ کوئی کمزوری یا مزاج کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک فطری حیاتیاتی مرحلہ ہے۔ جب عورت کو یہ احساس دلایا جائے کہ وہ اکیلی نہیں ہے اور جو کچھ وہ محسوس کر رہی ہے وہ ایک عارضی طبی کیفیت ہے، تو اس کی آدھی پریشانی وہیں کم ہو جاتی ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق بعض خواتین کے لیے Hormone Replacement Therapy مفید ثابت ہو سکتی ہے، جبکہ طرزِ زندگی میں چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں بھی بہت مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ متوازن غذا، باقاعدہ ورزش، مناسب نیند اور ذہنی سکون کے لیے مراقبہ یا ہلکی پھلکی جسمانی سرگرمیاں اس مرحلے کو نسبتاً آسان بنا سکتی ہیں۔
اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ معاشرہ مینوپاز کو شرمندگی یا خاموشی کے پردے میں چھپانے کے بجائے اسے ایک قدرتی انسانی تجربے کے طور پر قبول کرے۔ خواتین کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی تکلیف کو چھپانے کے بجائے اس پر بات کریں، ماہرین سے مشورہ لیں اور اس احساسِ جرم سے باہر نکلیں کہ وہ کسی طرح کمزور ہو رہی ہیں۔
مینوپاز درحقیقت زندگی کا اختتام نہیں بلکہ ایک نئے مرحلے کی شروعات ہے۔ اگر عورت کو مناسب طبی رہنمائی، خاندانی تعاون اور سماجی سمجھ بوجھ میسر ہو تو وہ اس مرحلے کو وقار، اعتماد اور ذہنی سکون کے ساتھ عبور کر سکتی ہے۔ جب ہم اس موضوع پر کھل کر بات کریں گے تو وہ “پوشیدہ جدوجہد” بھی سامنے آئے گی جس سے لاکھوں خواتین ہر روز خاموشی کے ساتھ گزرتی ہیں۔

جواب دیں

Back to top button