پیپلز پارٹی دبائو کا شکار کیوں ؟

پیپلز پارٹی دبائو کا شکار کیوں ؟
تحریر: تجمّل حسین ہاشمی
گزشتہ روز سینئر کالم نگار جناب سہیل وڑائچ نے ایک کالم لکھا، جس کا عنوان تھا ’’ رمزاں زرداری دیاں!! ‘‘، بہرحال جو بھی لکھا گیا اس پر دوسری کوئی رائے نہیں لیکن پاکستانی سیاست میں تین کردار امریکا ، مولوی اور اسٹیبلشمنٹ کافی اہم رہتے ہیں، ہماری جمہوری حکومتوں کے تخت کا فیصلہ بھی انہیں کے گرد گھومتا نظر آتا ہے، ووٹ اور ووٹر کو سائیڈ رکھا جاتا رہا، ویسے کوئی فرد یا ریاست جب کسی پریشر یا کسی خوف میں مبتلا ہو کر فیصلہ کرتے ہیں تو فاتح وہ نہیں بلکہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو منتخب سے فیصلہ کروا رہے ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں سیاست دانوں کے فیصلوں پر پریشر یا دبائو واضح رہا۔ یہ اپنے ہی فیصلوں کے محتاج رہے۔ سیاسی لوگوں کے حوالے سے ایک ایسا بیانیہ بنا دیا گیا جو کبھی تبدیل نہیں ہو گا۔ سیاست دانوں کا کہیں زور نہیں چلتا تو میڈیا کی آواز کو دبانے لگ جاتے ہیں، اس چکر میں خود ہی چلتے بنتے ہیں۔ ایسے کئی واقعات ہیں جو تاریخ کا حصہ ہیں۔ سینئر صحافی و کالم نگار جناب رئوف کلاسرا نے اپنی کتاب ’’ آخر کیوں ‘‘ میں لکھا کہ بقول ملک رحمان کے بے نظیر بھٹو کے خیال میں رئوف سے پوچھا جائے کہ ان کی نئی میڈیا سٹریٹجی پاکستان میں کیا ہونی چاہیے۔ قصہ تھوڑا مختصر ملک صاحب نے پوچھا کہ یہ بتا دیں کہ میاں نواز شریف اور شہباز شریف کے خلاف خبریں کیوں نہیں چھپتں۔ جس پر جناب رئوف کلاسرا صاحب نے رحمان ملک کو بتایا کہ ان کا میڈیا کو ڈیل کرنے کا طریقہ بڑا دیسی ہے۔ وہ پاکستانی میڈیا کو اہمیت دیتے ہیں۔ جبکہ بی بی کے نزدیک چند انگریزی اخبارات کے صحافیوں کے علاوہ کوئی اہم نہیں، لندن کے ہر صحافی کے پاس نواز شریف اور شہباز شریف کا نمبر موجود ہے اور وہ جب چاہیں ان سے بات کر سکتے ہیں۔ شہباز شریف کو پیغام بھی چھوڑ دیں تو وہ رات گئے تک کال بیک ضرور کرتے ہیں ۔ پرویز رشید ہر وقت کسی بھی سیاسی موضوع پر بات کرنے کے لیے دستیاب ہیں جبکہ اس کے بر عکس پیپلز پارٹی کے لیڈران مجال ہے کسی صحافی کو اپنے نزدیک بھٹکنے دیں۔ جب تک آپ کسی صحافی کو اپنے قریب بھی نہیں آنے دیں گے، اس سے بحث و مباحث گفتگو بھی نہیں ہوگی تو وہ کیوں کر آپ لوگوں کے موقف کو سمجھے اور اسے پراجیکٹ کرنے کی کوشش کرے گا۔ رحمان ملک کے اصرار بڑھا تو میں نے کہا پیپلز پارٹی میں صرف ایک ہی شخص ہے جو پاکستانی میڈیا کو بہتر طریقے سے ہینڈل کر سکتا ہے۔ رحمان ملک چونک سے گئے فورا آگے جھکے اور مجھ سے سرگوشی کے انداز میں پوچھا کہ ایسا شخص کون ہے ؟، جس کی بات پاکستانی میڈیا میں سنی جائے گی، کیونکہ اگر محترمہ بھی میڈیا کو ڈیل نہیں کر سکتی ہیں تو پھر وہ شخص بھلا کیسے کرے گا، میں مسکرایا اور ملک صاحب کو کہا کہ اس شخص کا نام آصف زرداری ہے۔
شاید اب آصف علی زرداری صاحب کے پاس بھی وقت نہیں رہا۔ بھٹو تو تاریخ میں زندہ ہے اور رہے گا، جیسے عرب دنیا کے باغی ہیرو عمر مختیار کا ایک تاریخی فقرہ زندہ ہے۔ جب اٹلی کی فوجیں اسے سرعام پھانسی دینے لگی تو اپنے جلاد کو دیکھ کر وہ بوڑھا باغی مسکرایا اور اس کے منہ سے صرف ایک ہی جملہ نکلا ’’ عمر اپنے جلاد سے زیادہ زندہ رہے گا ‘‘۔ کوئی دو رائے نہیں پیپلز پارٹی کی قیادت نے جمہوریت کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ دیا ہے، آج تک زندہ ہے لیکن 2008ء سے پیپلز پارٹی صوبہ سندھ پر حکمران جماعت ہے، اٹھارویں ترمیم کا سہرا بھی پیپلز پارٹی کے سر ہے، عمران خان کے دھرنے میں نواز شریف کے ساتھ کھڑا رہنے کا سہرا بھی آصف علی زرداری کو جاتا ہے، تحریک عدم اعتماد کا کریڈٹ بھی پیپلز پارٹی کو جاتا ہے، بلکہ گزشتہ روز قیادت کا کہنا تھا کہ حکومت بنانا اور گرانا ہمیں خوب آتا ہی، گزشتہ کئی سالوں سے پیپلز پارٹی نے اتحادی حکومت کا ساتھ دیا، لیکن شاید پیپلز پارٹی اس بات کو بھول گئی ہے کہ جس عوام کے ووٹوں سے اقتدار تک پہنچے ہیں، اس کا سندھ میں برا حال ہے، اپنے اتحادیوں کو کندھے دے کر بچا لیا، لیکن انہوں نے کون سے مفادات حاصل کئے، کیا وہ مفادات سندھ کے عوام سے اچھے ہیں ؟، صوبہ پنجاب میں ترقی، عوامی فلاحی منصوبے کامیابی سے جاری ہیں، اصل ہیرو تو قوم کا ہیرو ہوتا ہے، جو عوامی دلوں پر راج کرے، کیا پیپلز پارٹی کی قیادت ہیرو بن جائے گی، اٹھارویں ترمیم کے بعد تو صوبہ سندھ کے حالات میں واضح تبدیلی آنی چاہئے تھی، لیکن غیر متوازی نظام، جس کو سسٹم کہتے ہیں اس نے صوبہ سندھ، خاص کر کراچی شہر میں لوگوں کا جینا دوبھر کیا ہوا ہے، بھرتی سفارشی آفیسروں کی نا اہلییوں کا وزن قیادت کب اٹھائے گی ، بے شک آدمی اور نظام کے خریداری کے ماہر ہیں، لیکن اب یہ سلسلہ زیادہ دیر چلنے والا نہیں ہے، پیپلز پارٹی کے اندرون میں کئی سوچوں کا جنم ہو چکا ہے، ماضی جیسی چالوں کا وقت گزار گیا ہے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت کیلئے چند ماہ کافی اہم ہیں، نظام کمزور ہو چکا ہے، سیاسی لیڈر شاید نظام کی کمزوری کے بعد بھی پور سکون رہیں، لیکن مقتدر شخصیات کیلئے یہ کمزوری کسی طوفان سے کم نہیں ہو گی، اور وہ ایسا ہونے نہیں دیں گے، ان کی طرف سے واضح اعلانات میڈیا پر گردش کر رہے ہیں، اب دیکھیں کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ اب جب مہنگائی لاء قانونیت گلی میں ناچ رہی ہے۔ انٹر نیشنل چالیں جاری ہیں اور ہم اندرونی طور پر مزید الجھے ہوئے ہیں۔





