Column

دہشت گردی کیخلاف پاکستان کا عزم

دہشت گردی کیخلاف پاکستان کا عزم
پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے حالیہ ایام کے دوران دہشت گردی کے خلاف کی گئی کارروائیاں اس امر کی عکاسی کرتی ہیں کہ ریاست داخلی سلامتی کے معاملے پر کسی قسم کی نرمی برتنے کو تیار نہیں۔ خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں کیے گئے آپریشنز میں درجنوں شدت پسندوں کی ہلاکت محض ایک عسکری کامیابی نہیں بلکہ ایک واضح پیغام بھی ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین کو بدامنی کا میدان بننے نہیں دے گا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق مختلف اضلاع میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران مجموعی طور پر 34دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔ خیبر پختونخوا کے متعدد علاقوں، بشمول لکی مروت، بنوں اور شمالی وزیرستان میں جھڑپیں ہوئیں جب کہ بلوچستان کے ضلع عوب میں بھی کارروائیاں کی گئیں۔ ان آپریشنز میں اسلحہ اور گولہ بارود کی برآمدگی اس بات کا ثبوت ہے کہ شدت پسند عناصر منظم نیٹ ورکس کے تحت سرگرم تھے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان اور افغانستان کے تعلقات ایک بار پھر کشیدگی کا شکار ہیں۔ پاکستان کا موقف ہے کہ بعض کالعدم گروہ سرحد پار محفوظ ٹھکانوں سے کارروائیاں کرتے ہیں جب کہ کابل انتظامیہ ان الزامات کو مسترد کرتی ہے اور دہشت گردی کو پاکستان کا داخلی مسئلہ قرار دیتی ہے۔ اس بیانیے کا تضاد دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کے فقدان کو مزید گہرا کرتا ہے۔ پاکستان کی جانب سے افغانستان میں مبینہ شدت پسند ٹھکانوں پر فضائی کارروائی کے بعد سیکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی ہے۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری کے مطابق ممکنہ ردعمل کے خدشے کے پیش نظر سیکیورٹی فورسز کسی بھی حملے سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔ یہ بیان اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اب روایتی سرحدی دفاع سے بڑھ کر ایک پیچیدہ، کثیر جہتی چیلنج بن چکی ہے۔اس تناظر میں چند بنیادی سوالات اہمیت اختیار کر جاتے ہیں۔ کیا سرحد پار موجود شدت پسند نیٹ ورکس کو صرف عسکری طاقت سے مکمل طور پر ختم کیا جا سکتا ہے؟ کیا دونوں ممالک کے درمیان انٹیلی جنس شیئرنگ اور سفارتی مکالمہ مثر سطح پر موجود ہے؟ اور سب سے بڑھ کر، کیا خطے میں پائیدار امن کے لیے کوئی مشترکہ حکمت عملی تشکیل دی جا رہی ہے؟ پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری جانی و مالی نقصان اٹھا چکا ہے۔ ہزاروں شہری اور سیکیورٹی اہلکار جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ اس پس منظر میں ریاست کا سخت موقف فطری اور قابلِ فہم ہے۔ کوئی بھی خودمختار ملک یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ اس کے شہریوں کو سرحد پار سے منظم حملوں کا سامنا ہو۔ تاہم، عسکری کارروائیوں کے ساتھ سفارتی اور سیاسی پہلوں کو نظرانداز کرنا طویل المدتی حل کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ افغانستان میں برسراقتدار طالبان حکومت کے ساتھ تعلقات پیچیدہ نوعیت کے ہیں۔ ایک طرف پاکستان خطے میں استحکام کا خواہاں ہے، دوسری طرف اسے اپنی سرحدوں کے تحفظ کا بھی سامنا ہے۔ اگر سرحدی علاقوں میں دراندازی اور فائرنگ کے واقعات بڑھتے ہیں تو یہ نہ صرف دوطرفہ تعلقات بلکہ پورے خطے کے امن کو متاثر کر سکتے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ دہشت گردی کا مسئلہ صرف سرحدی نہیں بلکہ داخلی نوعیت کا بھی ہے۔ شدت پسند بیانیے، مالی معاونت کے ذرائع اور مقامی سہولت کار ایسے عناصر ہیں جن کے خاتمے کے بغیر صرف عسکری کارروائیاں دیرپا نتائج نہیں دے سکتیں۔ قومی ایکشن پلان اور ’’ عزمِ استحکام‘‘ جیسے اقدامات اسی جامع حکمت عملی کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں، مگر ان پر مثر اور مسلسل عمل درآمد ناگزیر ہے۔ مزید برآں، داخلی استحکام اور سیاسی یکجہتی بھی سیکیورٹی پالیسی کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ جب سیاسی تقسیم گہری ہو اور قومی بیانیہ منتشر ہو، تو دشمن عناصر کو پروپیگنڈا اور عدم استحکام کے مواقع ملتے ہیں۔ اس لیے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو محض عسکری محاذ تک محدود رکھنا کافی نہیں، اسے قومی سطح پر اجتماعی عزم میں تبدیل کرنا ہوگا۔ بین الاقوامی برادری کا کردار بھی اہم ہے۔ اگر واقعی سرحد پار محفوظ پناہ گاہوں کا مسئلہ موجود ہے تو اسے دو طرفہ اور کثیرالجہتی فورمز پر موثر انداز میں اٹھایا جانا چاہیے۔ خطے کے ممالک، بالخصوص چین، ایران اور وسطی ایشیائی ریاستیں، افغانستان کے استحکام میں براہِ راست مفاد رکھتی ہیں۔ ایک مربوط علاقائی فریم ورک ہی پائیدار امن کی ضمانت دے سکتا ہے۔ حالیہ آپریشنز ریاستی عزم کی علامت ہیں، مگر انہیں ایک وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔ طاقت کا استعمال بعض اوقات ناگزیر ہوتا ہے، لیکن طاقت کے ساتھ حکمت، سفارت کاری اور داخلی اصلاحات بھی لازم ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف کامیابی صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ تعلیمی اداروں، عدالتوں، میڈیا اور پالیسی سازی کے ایوانوں میں بھی حاصل کی جاتی ہے۔ آج پاکستان ایک نازک مرحلے پر کھڑا ہے۔ ایک طرف سرحدی کشیدگی اور سیکیورٹی خدشات ہیں، دوسری طرف داخلی سیاسی و معاشی چیلنجز۔ ایسے میں ریاستی اداروں کی پیشہ ورانہ تیاری قابلِ تحسین ہے مگر اصل امتحان اس عزم کو دیرپا پالیسی میں ڈھالنے کا ہے۔ اگر عسکری کامیابیوں کو سفارتی پیش رفت، داخلی اصلاحات اور علاقائی تعاون کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو نہ صرف موجودہ خطرات کم ہوسکتے ہیں بلکہ مستقبل کے لیے بھی ایک مضبوط بنیاد رکھی جاسکتی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف گولی اور بارود سے نہیں جیتی جاتی، یہ جنگ بیانیے، انصاف، ترقی اور اعتماد سے جیتی جاتی ہے۔ پاکستان کو اپنے قومی مفاد، علاقائی امن اور عوام کے تحفظ کے درمیان توازن قائم رکھتے ہوئے آگے بڑھنا ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جو سرحدی دہشت گردی کے چیلنج کو مستقل طور پر شکست دے سکتا ہے۔
اٹلی کا ہنرمند پاکستانیوں کو ویزا دینے کا اعلان
اٹلی کی جانب سے پاکستانی اسکلڈ لیبر کے لیے ساڑھے دس ہزار ویزوں کی فراہمی کا اعلان بلاشبہ ایک اہم اور خوش آئند پیش رفت ہے۔ محسن نقوی اور میٹیو پینٹے کے درمیان روم میں ہونے والی ملاقات نہ صرف دوطرفہ تعلقات کے استحکام کی علامت ہے بلکہ یہ اس امر کی بھی غماز ہے کہ یورپی ممالک اب پاکستان کو ایک ذمے دار شراکت دار کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ لیگل مائیگریشن کے فروغ اور غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام پر اتفاق رائے اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں ممالک مسئلے کے حل کے لیے سنجیدہ ہیں۔ پاکستان طویل عرصے سے غیر قانونی امیگریشن اور انسانی اسمگلنگ جیسے چیلنجز سے نبرد آزما رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں ایئرپورٹس اور سمندری سرحدوں پر نگرانی سخت کرنے، جعلی دستاویزات کے خلاف کارروائیوں اور انسانی اسمگلروں کے نیٹ ورکس توڑنے کے اقدامات نے مثبت نتائج دیے ہیں۔ اٹلی کی جانب سے ان کوششوں کا اعتراف دراصل پاکستان کی پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار ہے۔ یہ اعتراف عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ ساڑھے دس ہزار ویزوں کی فراہمی محض ایک عددی اعلان نہیں بلکہ ہزاروں پاکستانی خاندانوں کے لیے معاشی استحکام کی امید ہے۔ پاکستان میں ہنرمند افرادی قوت کی کمی نہیں۔ تعمیرات، مکینیکل ورک، آئی ٹی، زراعت اور دیگر فنی شعبوں میں پاکستانی نوجوان اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے ہیں۔ اگر اس عمل کو شفاف، میرٹ پر مبنی اور تربیت سے منسلک کردیا جائے تو یہ اقدام دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔ ایک طرف اٹلی کو مطلوبہ ہنرمند افرادی قوت ملے گی تو دوسری جانب پاکستان کو قیمتی زرِمبادلہ اور روزگار کے نئے مواقع حاصل ہوں گے۔ ڈپلومیٹک پاسپورٹ پر ویزا استثنیٰ کی پیش رفت سفارتی تعلقات میں گرم جوشی کی علامت ہے۔ تاہم اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب عام پاکستانیوں کے لیے بھی قانونی اور محفوظ راستے آسان بنائے جائیں۔ لیگل مائیگریشن کے دروازے کھلنے سے غیر قانونی راستوں کی حوصلہ شکنی ہوگی اور انسانی اسمگلروں کا کاروبار کمزور پڑے گا۔ یہ بھی ضروری ہے کہ حکومت پاکستان اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے فنی تربیتی اداروں کو عالمی معیار کے مطابق بنائے۔ زبان کی تربیت، پیشہ ورانہ سرٹیفکیشن اور قانونی آگاہی پروگرام متعارف کرائے جائیں، تاکہ بیرون ملک جانے والے پاکستانی نہ صرف باوقار انداز میں کام کریں، بلکہ ملک کا مثبت تشخص بھی اجاگر کریں۔ مجموعی طور پر یہ پیش رفت پاکستان اور اٹلی کے درمیان باہمی اعتماد، تعاون اور مشترکہ مفادات کی عکاس ہے۔ اگر دونوں ممالک انسداد منشیات، انسانی اسمگلنگ اور دہشت گردی کے خلاف تعاون کو مزید موثر بناتے ہیں اور لیگل مائیگریشن کے نظام کو شفاف رکھتے ہیں تو یہ شراکت داری ایک مثالی ماڈل بن سکتی ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ اس موقع کو محض اعلان تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ اسے عملی اقدامات اور دیرپا پالیسی کا حصہ بنایا جائے، تاکہ نوجوانوں کی صلاحیتیں عالمی منڈی میں باعزت مقام حاصل کرسکیں اور پاکستان کی معیشت مضبوط بنیادوں پر استوار ہو۔

جواب دیں

Back to top button