Column

بچوں کی جینڈر سرجری: میڈیکل کی دنیا میں ’خانہ جنگی‘ کا آغاز!

نہال ممتاز :​
جدید طب کی تاریخ میں شائد ہی کبھی ایسا ہوا ہو کہ انسانی جسم کی چیر پھاڑ کرنے والے ہاتھ خود اپنے ہی معتبر اداروں کے خلاف کھڑے ہو گئے ہوں، لیکن "دی اٹلانٹک” (The Atlantic) کی حالیہ رپورٹ نے ایک ایسے ہولناک سچ سے پردہ اٹھا دیا ہے جس نے پوری دنیا کے طبی حلقوں میں صفِ ماتم بچھا دی ہے۔ اس وقت امریکہ کے دو سب سے بڑے طبی ستون، امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن (AMA) اور امریکن سوسائٹی آف پلاسٹک سرجنز (ASPS) ایک ایسے خونی تنازعے کی لپیٹ میں ہیں جس کا مرکز وہ معصوم بچے ہیں جنہیں "صنفی تبدیلی” کے نام پر آپریشن تھیٹرز کی نذر کیا جا رہا ہے۔ پلاسٹک سرجنز کی اس سب سے بڑی تنظیم نے پہلی بار وہ سچ بول دیا ہے جسے اب تک سیاسی مصلحتوں کے دبیز پردوں میں چھپایا گیا تھا؛ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں اعلان کر دیا ہے کہ نابالغ بچوں کے جسموں کے ساتھ کی جانے والی یہ جراحی کسی ٹھوس سائنسی بنیاد پر نہیں بلکہ محض ریت کی دیوار پر کھڑی ہے، کیونکہ انریشنز کے طویل مدتی اثرات کا کوئی مستند ڈیٹا سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ یہ انکشاف اس لیے بھی سنسنی خیز ہے کہ جہاں ایک طرف AMA جیسی بااثر تنظیمیں اسے انسانی حقوق اور ذہنی صحت کا نام دے کر اسے ہر صورت جاری رکھنے پر بضد ہیں، وہیں وہ ہاتھ جو اصل میں نشتر چلاتے ہیں، اب پیچھے ہٹ رہے ہیں اور سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا ہم کچی عمر کے بچوں کے مستقبل کے ساتھ ایک ایسا جوا کھیل رہے ہیں جس کی تلافی کبھی ممکن نہیں ہو سکے گی؟ یہ محض ایک اختلافی رائے نہیں بلکہ ایک ایسی "طبی خانہ جنگی” کا آغاز ہے جس نے ثابت کر دیا ہے کہ مسیحائی کے لبادے میں چھپے کچھ فیصلے شاید سائنس سے زیادہ نظریات کے غلام بن چکے ہیں۔ دنیا بھر میں، بالخصوص یورپ میں، اس جراحی پر لگنے والی پابندیوں کے سائے اب امریکہ تک پہنچ چکے ہیں اور سرجنز کی یہ کھلی بغاوت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اب معصوم جسموں پر تجربات کرنے کا وقت ختم ہو رہا ہے، اور طب کی دنیا اب اپنے ہی پیدا کردہ اس طوفان کے سامنے جوابدہ ہونے جا رہی ہے۔

جواب دیں

Back to top button