Column

نعمت کی قدر کا لمحہ

نعمت کی قدر کا لمحہ
تحریر: محمد محسن اقبال
اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایسی بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے جن کا شمار ممکن نہیں اور جن کی حقیقت تک انسانی عقل مکمل طور پر رسائی حاصل نہیں کر سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنِ مجید انسان کو بار بار اس کی غفلت کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ سورہ الرحمٰن میں اللہ تعالیٰ اکتیس مرتبہ ایک ہی سوال دہراتا ہے:’’ پھر تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائو گے؟‘‘۔ یہ سوال محض الفاظ کی تکرار نہیں بلکہ انسانی شعور کو جھنجھوڑنے والی ایک مسلسل دستک ہے۔ ہر تکرار انسان کو یہ یاد دہانی کراتی ہے کہ وہ جس دنیا میں سانس لے رہا ہے، جس جسم کے ساتھ زندگی گزار رہا ہے، اور جس سہولت کے ماحول میں موجود ہے، وہ سب اللہ کی بے پایاں رحمت کا مظہر ہے۔
انسانی فطرت کا المیہ یہ ہے کہ وہ نعمت کو اس وقت تک نعمت نہیں سمجھتا جب تک وہ اس سے چھن نہ جائے یا اس میں کمی نہ آ جائی۔ شکر گزاری اکثر زبان تک محدود رہتی ہے۔ ’ چند رسمی کلمات، چند روایتی دعائیں‘، مگر عملی شعور میں نعمت کی قدر کم ہی اترتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر انسان پوری زندگی بھی سجدوں میں گزار دے تو وہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کے عشرِ عشیر کا بھی حق ادا نہیں کر سکتا۔ اس لیے کہ سب سے عظیم نعمتیں وہ ہیں جو خاموشی سے اپنا کام انجام دیتی ہیں اور کسی توجہ کی طالب نہیں ہوتیں۔
سانس اس کی سب سے واضح مثال ہے۔ ہم دن رات سانس لیتے ہیں، بغیر کسی شعوری کوشش کے، بغیر کسی توقف کے۔ ہمیں یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ یہ مسلسل عمل ہماری مرضی یا اختیار سے نہیں بلکہ اللہ کے حکم سے جاری ہے۔ جب تک سانس معمول کے مطابق آتا جاتا رہتا ہے، ہم اس پر توجہ نہیں دیتے۔ مگر جس لمحے سانس رکنے لگے، سینہ بوجھل ہو جائے، یا کسی کو وینٹی لیٹر کے سہارے سانس لینا پڑے، اسی لمحے انسان پر آشکار ہوتا ہے کہ وہ کس عظیم نعمت سے غافل تھا۔ یوں جو چیز عام محسوس ہوتی تھی، وہ غیر معمولی بن جاتی ہے۔
زندگی کا یہ اصول بار بار ہمارے سامنے آتا ہے کہ آرام میں قدر چھپ جاتی ہے اور تکلیف میں ظاہر ہو جاتی ہے۔ آسودگی انسان کو غفلت کی نیند سلا دیتی ہے، جبکہ محرومی اسے بیدار کر دیتی ہے۔ حال ہی میں مجھے اس حقیقت کا ادراک ایک ذاتی مگر نہایت بامعنی تجربے سے ہوا۔ طویل عرصے سے میرے دانت خراب ہو چکے تھے، جس کی وجہ سے کھانا چبانا مشکل ہوتا جا رہا تھا۔ جو عمل کبھی بالکل فطری اور بے تکلف تھا، وہ آہستہ آہستہ پریشانی کا باعث بننے لگا۔ میرے ایک قریبی دوست، ڈاکٹر محمد اقبال، جو پیشے کے اعتبار سے ایک تجربہ کار اور قابلِ اعتماد دندان ساز ہیں، مجھے بارہا علاج کے لیے آمادہ کرتے رہے، یہاں تک کہ میں نے ان کے کلینک کا رخ کیا۔
انہوں نے خلوص، توجہ اور مہارت کے ساتھ میرے پانچ مصنوعی دانت لگائے۔ طبی نقطہ نظر سے یہ ایک کامیاب عمل تھا، مگر احساس کی سطح پر کچھ کمی باقی تھی۔ کھانا کھانے کا وہ فطری لطف، وہ سہولت اور بے نیازی واپس نہ آ سکی۔ میں دوبارہ ان کے پاس گیا، مزید درستگیاں کی گئیں، کچھ بہتری ضرور آئی، مگر وہ کیفیت پھر بھی حاصل نہ ہو سکی جو قدرتی دانتوں کے ساتھ تھی۔ وقت کے ساتھ میں نے خود کو اس حالت کا عادی بنا لیا، کیونکہ انسان کی فطرت میں حالات سے سمجھوتہ کرنا شامل ہے۔ ڈاکٹر محمد اقبال نے بھی تسلی دی کہ وقت گزرنے کے ساتھ مصنوعی دانت بہتر طور پر ہم آہنگ ہو جائیں گے۔
لیکن اس تجربے نے میرے اندر ایک گہرا شعور بیدار کر دیا۔ مجھے احساس ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے قدرتی دانتوں کو کس درجہ کامل انداز میں تخلیق کیا ہے، ہر دانت اپنی جگہ، اپنے زاویے، اپنی حساسیت اور اپنے توازن کے ساتھ۔ انسانی علم اور ٹیکنالوجی جتنی بھی ترقی کر لے، وہ قدرت کے اس فطری کمال کی مکمل نقل نہیں کر سکتی۔ جب وہ قدرتی سہولت میسر نہ رہی، تب اس کی اصل قدر سامنے آئی۔
یہ ادراک صرف دانتوں تک محدود نہیں رہا بلکہ زندگی کے ہر پہلو تک پھیل گیا۔ اگر ایک نسبتاً چھوٹی نعمت روزمرہ زندگی کو اس قدر متاثر کر سکتی ہے تو ان بے شمار نعمتوں کا کیا حال ہوگا جو ہمیں مسلسل حاصل ہیں؟ ہماری آنکھیں جو ہر صبح روشنی، رنگ اور چہروں کو پہچانتی ہیں؛ ہمارے ہاتھ جو ہماری مرضی کے تابع حرکت کرتے ہیں؛ ہمارے پاں جو ہمیں تھکن کے بغیر منزل تک پہنچاتے ہیں؛ اور ہمارا دل جو بنا کسی وقفے کے دھڑکتا رہتا ہے، یہ سب خاموشی سے اپنا فرض ادا کرتے ہیں۔ نہ کوئی شکوہ، نہ کوئی مطالبہ۔ مگر ان میں سے کسی ایک کی خرابی زندگی کی پوری ترتیب کو بدل سکتی ہے۔
اسی لیے حقیقی شکرگزاری صرف خوش حالی میں نہیں بلکہ اکثر محرومی میں بیدار ہوتی ہے۔ آسانی میں شکر ادا کرنا نسبتاً سہل ہے، مگر ایمان کی پختگی کا اصل امتحان مشکل حالات میں شکر اور صبر کو برقرار رکھنا ہے۔ اس حوالے سے اُن لوگوں کی زندگیاں نہایت سبق آموز ہیں جو خاموشی، وقار اور صبر کے ساتھ آزمائشیں جھیلتے ہیں۔ میں اپنے اُن فرشتوں کو دیکھتا ہوں، اپنے پیاروں کو، جن میں سے ایک طویل عرصے سے بغیر دانتوں کے کھا پی رہی ہے، مگر اس کی لبوں سے کبھی شکایت کا ایک لفظ نہیں نکلا۔ ایسی خاموش برداشت میں بڑی حکمت پوشیدہ ہے۔ یہ اس دل کی علامت ہے جو اللہ کی تقدیر پر راضی اور اس کی حکمت پر مطمئن ہے۔
اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ شکر اور صبر ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ شکر صرف آسائش میں نہیں اور صبر صرف تکلیف میں نہیں؛ دونوں ہر حال میں بندگی کے تقاضے ہیں۔ شکر گزار بندہ نعمت میں اللہ کی رحمت کو پہچانتا ہے، اور صابر بندہ آزمائش میں اس کی حکمت کو تسلیم کرتا ہے۔ یوں ہر حالت میں ایمان مضبوط ہوتا ہے اور روح کو بالیدگی نصیب ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ اپنی بے پایاں رحمت کے ساتھ انسان سے نعمتوں کا بدلہ نہیں مانگتا، کیونکہ بدلہ دینا انسانی استطاعت سے باہر ہے۔ وہ صرف یہ چاہتا ہے کہ انسان اسے یاد رکھے، اس کی عطائوں کو پہچانے، اور ہر حال میں شکر گزار رہے۔ شکر دراصل ایمان کا اظہار ہے، یہ اعتراف کہ ہر سانس، ہر سہولت، ہر آزمائش اسی کی طرف سے ہے اور بالآخر اسی کی طرف لوٹنے والی ہے۔
یوں وہ الٰہی سوال انسانی زندگی کے ہر موڑ پر گونجتا رہتا ہے: ’’ پھر تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائو گے؟‘‘۔ اس سوال کا جواب زبان سے نہیں بلکہ طرزِ زندگی سے دیا جاتا ہے، اس شعور سے کہ ہم کیسے جیتے ہیں، کیسے برداشت کرتے ہیں، اور کس اخلاص کے ساتھ اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں، نہ صرف اُن نعمتوں پر جو ہمیں میسر ہیں بلکہ اُن پر بھی جن کی قدر ہمیں ان کے چھن جانے کے بعد محسوس ہوتی ہے۔

جواب دیں

Back to top button