شہبازشریف کے دورہ چین کا اعلامیہ

وزیراعظم شہبازشریف کی چین کے صدر شی جن پنگ سے ملاقات میں دونوں ملکوں نے سٹریٹجک تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے جبکہ عوامی جمہوریہ چین اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے درمیان مشترکہ اعلامیہ میں پا کستان اور چین کی قیادت نے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) اور پاک چین دوستی کے خلاف ہر طرح کے خطرات اور عزائم کو ناکام بنانے اور زراعت ، کان کنی، آئی ٹی، سماجی و اقتصادی ترقی کے شعبوں میں تعاون ، صحت، صنعت، ڈیجیٹل و گرین کوریڈورز قائم کرنے سمیت دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم اظہار کیا ہے ۔پاکستان نے ملک میں تمام چینی عملہ، منصوبوں اور اداروں کی حفاظت اور تحفظ کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ وزیراعظم شہبازشریف کے دو روزہ دورہ چین کی مصروفیات کا مختصر احاطہ کریں تو وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد وزیراعظم شہبازشریف کا چین کا پہلا دوطرفہ دورہ تھاجس میں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے چین کے صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی۔ وزیراعظم نے سٹیٹ کونسل کے وزیراعظم لی کی کیانگ کے ساتھ بات چیت کی اور نیشنل پیپلز کانگریس کی سٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین لی ژان شو سے ملاقات کی۔ وزیراعظم نے چین کی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے جنرل سیکرٹری کے طور پر دوبارہ انتخاب پر صدر شی جن پنگ کو مبارکباد دی اور ان کی قیادت، دانشمندی، وژن اور عوام کیلئے ترقی کے فلسفے اور پاکستان اور چین کے تعلقات مسلسل مضبوط بنانے کیلئے ان کی خدمات کو سراہا۔ وزیراعظم نے پاکستان کے دورہ کے لیے صدر شی کا خیرمقدم کیااور صدر شی نے کہا کہ وہ جلد پاکستان کا دورہ کریں گے۔ وزیراعظم شہبازشریف اپنا دورہ مکمل کرکے وطن واپس پہنچ چکے ہیں انہوں نے دورے کی مصروفیات اور کامیابیوں سے متعلق گذشتہ شام پریس کانفرنس کرنا تھی لیکن چیئرمین تحریک انصاف عمران خان پر فائرنگ کی وجہ سے انہوں نے پریس کانفرنس ملتوی کردی اور انہوں نے وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ کو آئی جی پولیس اور چیف سیکرٹری پنجاب سے فوری رپورٹ طلب کرنے کی ہدایت کی ہے۔ دورہ چین پر بات کی جائے تو وزیراعظم محمد شہباز شریف کی دعوت پر چینی کمپنیوں نے پاکستان میں مشترکہ منصوبوں بالخصوص شمسی توانائی اور انفراسٹرکچر کے منصوبوں میں سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے کراچی میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی سمیت دیگر بڑے منصوبوں میں سرمایہ کاری کا یقین دلایا ہے۔وزیراعظم نے چینی کمپنیوں کو 10 ہزار میگاواٹ شمسی توانائی کے منصوبے پر مل کر کام کرنے کی پیشکش کی ہے اور بلوچستان میں کام کرنے والی کمپنیوں کو گوادر ہوائی اڈے پر کام کی رفتار تیز کر کے منصوبہ رواں سال مکمل کرنے پر اصرار کیا ہے،چینی کمپنی نے وزیراعظم شہباز شریف کو اگلے سال کی ابتدا میں گوادر ہوائی اڈے کی تعمیر کی تکمیل کی یقینی دہانی کرائی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے چینی کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے دوران پیش آنے والے مسائل پر نہ صرف افسوس کا اظہار کیا ہے بلکہ انہیں یقین دلایا ہے کہ انہیں سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی انہوں نے خصوصاً چینی کمپنیوں کو ادائیگی کے معاملے پر بتایا کہ انہوں نے اقتدار سنبھالنے کے فوری بعد کمپنیوں کو درپیش مسائل حل کئے، چینی کمپنیوں کو واجب الادا 160 ارب روپے کی ادائیگی کر چکے ہیں، 50 ارب روپے گزشتہ روز ادا کر دیئے گئے ہیں اور 50 ارب روپے سے ریوالونگ فنڈ بنا دیا گیا ہے۔ وزیراعظم شہبازشریف کے دورہ چین کے مشترکہ اعلامیہ کا جائزہ لیا جائے تو اس میں جہاں مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے کی بات کی گئی ہے وہیں سب سے زیادہ پاک چین اقتصادی راہداری اور دونوں ملکوں کی دوستی کے خلاف ہر طرح کے خطرات اور عزائم کو ناکام بنانے کے عزم کا اعادہ کیاگیا ہے۔ وزیراعظم پاکستان نے چینی سرمایہ کاروں اور تاجروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے ساز گار ماحول فراہم کرنے کی بھرپور یقین دہانی کرائی ہے اِسی طرح زراعت، کان کنی ، انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت کم و بیش تمام شعبوں میں سرمایہ کاری کے لیے پیش کش کی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سرفہرست اقتصادی راہداری یعنی دونوں ملکوں کی معاشی ترقی کا منصوبہ سی پیک رہا ہے جو پاکستان کی معاشی ترقی کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے لیکن اِس اہم منصوبے پر کام جس تیز رفتاری سے ہونا چاہیے تھا ویسی تیزی نہیں دکھائی گئی جس کی وجہ سے یہ اہم منصوبہ تاخیر کا شکار رہا ہے لیکن موجودہ حکومت یعنی وزیراعظم شہبازشریف اس منصوبے کی جلد سے جلد تکمیل کی خواہش رکھتے ہیں کیونکہ اِس منصوبے کے ہماری معیشت پر زبردست مثبت اثرات مرتب ہوں گے ، ملک میں ترقی دیکھنے کو ملے گی، لوگوں کو روزگار ملے گا، معیشت پھلے پھولے گی اور ہر طرف معاشی سرگرمیاں نظر آئیں گی یہی وجہ ہے کہ پاک چین دوستی کے دشمن جہاں اِس اہم منصوبے کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں وہیں ہماری طرف سے بھی کوتاہیاں ماضی میں دیکھی گئی ہیں جن کا اب ازالہ بہت ضروری ہے کیونکہ یہ منصوبہ ہماری نسلوں کے مستقبل کے لیے بھی انتہائی اہمیت رکھتا ہے لہٰذا اس منصوبے کو جلد ازجلد پایہ تکمیل تک پہنچنا چاہیے۔ جہاں تک دوسرے شعبوں میں تعلقات کے فروغ کی بات ہے تو بلاشبہ چین سے زیادہ اِس معاملے میں ہمارا کوئی مدد گار نہیں ہوسکتا، فقط چین کے تجربے سے فائدہ اٹھانے اور نیک نیتی کے ساتھ منصوبوں پر عمل درآمد کی ضرورت ہے۔ غذائی ضروریات سے لیکر توانائی کی پیداوار تک کوئی بھی شعبہ ایسا نہیں جس میں ہمیں چین کی مدد درکار نہ ہو۔ پس چینی سرمایہ کاروں نے سرمایہ کاری کے لیے دلچسپی کا اظہار کیا ہے تو ہمیں اپنے ہاں ایسی اصلاحات کرنی چاہئیں جن کے نتیجے میں سرمایہ کاروں کو واقعی سازگار ماحول ملے اور انہیں فائلوں اور منظوری کے چکروں کی بجائے ون ونڈو جیسی سہولت کے ذریعے منصوبے فی الفور شروع کرنے کی اجازت مل سکے۔







