تازہ ترینخبریںدنیاسیاسیات

کیا ٹرمپ امن کا نوبیل انعام 2026ء جیت سکتے ہیں؟ ماہرین کی رائے سامنے آ گئی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جنگ کے دوران 2026ء کا نوبیل امن انعام ملنے کے امکانات کم ہیں تاہم ماہرین کے مطابق گزشتہ سال کے واقعات کے باعث ان کا اثر رواں سال انعام کے فیصلے پر ضرور محسوس کیا جا سکتا ہے۔

گزشتہ سال وینزویلا کی ماریا کورینا ماچاڈو کو نوبیل امن انعام دیا گیا تھا، 125 سالہ تاریخ میں یہ فیصلہ اس لیے غیر معمولی قرار پایا کہ ٹرمپ کی جانب سے یہ انعام حاصل کرنے کے لیے مسلسل کوششیں کی جا رہی تھیں۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق انعام ملنے کے چند ہفتوں بعد ہی ماریا نے اپنا طلائی نوبیل تمغہ ٹرمپ کو دے دیا تھا تاکہ وینزویلا میں جمہوریت کے لیے اپنی کوششوں کی حمایت حاصل کر سکیں۔

امن تحقیق کے ادارے اوسلو کے قائم مقام سربراہ ہاکون گیرلوو کے مطابق نوبیل انعام کی کمیٹی رواں سال اس بات کو بھی مدِنظر رکھ سکتی ہے کہ کسی فرد یا ادارے کو انعام دینے کے بعد اسے ٹرمپ کے دباؤ کا سامنا نہ کرنا پڑے، کمیٹی یہ بھی دیکھ سکتی ہے کہ انعام دینے سے فائدہ زیادہ ہو گا یا نقصان۔

ماہرین نے ممکنہ امیدواروں میں پوپ لیو، عالمی فوجداری عدالت، عالمی عدالتِ انصاف اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے لیے اقوامِ متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسیسکا البانیز کا نام لیا ہے۔

واضح رہے کہ نوبیل امن انعام کا اعلان 9 اکتوبر کو ہو گا۔

امریکا میں پیدا ہونے والے پہلے پوپ لیو نے جنگ کے خلاف آواز اٹھانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

ٹرمپ نے ایران کے خلاف امریکی کارروائی پر تنقید کرنے پر پوپ لیو کو کمزور قرار دیا تھا، پوپ کی مصنوعی ذہانت سے متعلق مذہبی دستاویز، مذاکرات اور تنازعات کے پرامن حل کی حمایت، تارکینِ وطن کے حقوق اور انسانی خدمات بھی انہیں ممکنہ امیدوار بناتی ہیں۔

اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر کریم ہیگگ نے رائٹرز کو بتایا کہ پوپ صرف مذہبی شخصیت نہیں بلکہ عالمی سطح پر ایک اہم فکری رہنما کے طور پر بھی سامنے آئے ہیں۔

دوسری جانب فرانسیسکا البانیز کو غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں اور مغربی کنارے پر قبضے پر تنقید کے باعث امریکا اور اسرائیل کی مخالفت کا سامنا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ کمیٹی گزشتہ سال کے واقعات کے بعد نسبتاً غیر متنازع انتخاب بھی کر سکتی ہے تاکہ ٹرمپ کو ناراض کرنے کا امکان کم ہو، اس صورت میں سوڈان کے ہنگامی امدادی مراکز یا جنگ زدہ علاقوں میں بچوں کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ’سیو دی چلڈرنُ کو انعام دیے جانے کا امکان زیرِ بحث ہے۔

جواب دیں

Back to top button