Abdul Hanan Raja.Column

ابراہم اکارڈ کا جال مکہ معاہدہ اور یمنی باغی

ابراہم اکارڈ کا جال مکہ معاہدہ اور یمنی باغی
عبدالحنان راجہ
حرمین پر حملے کی فوٹیج سے روح کانپ اٹھی، اگر یہ حملہ حوثیوں کی جانب سے تھا تو انہوں نے اپنی بربادی کا سامان خود ہی کر لیا، اور اگر یہ کسی اور اسپائلر کی جسارت تھی تو امت مسلمہ کی غیرت کا امتحان۔ اس بات کے راوی معروف تجزیہ نگار مشاہد حسین سید نے کہا ’’ سال تھا 1984کا، کہ جب امریکی صدر بش سینئر کی جانب سے اس وقت صدر جنرل ضیا الحق پر ایران کے خلاف محاذ کھولنے کا دبائو تھا، مگر پاکستان برادر ملک ایران کے ساتھ تعلقات خراب کرنے کی امریکی خواہش پوری کرنے سے انکاری رہا ‘‘۔ یہی وجہ رہی کہ سابق رہبر سید علی خامنہ ای جنرل ضیاء الحق کے کردار کے ہمیشہ معترف رہے۔
مگر بعض اوقات ممالک کے مفادات مشکل وقت میں نبھانے والوں کے بھی سامنے لا کھڑا کر دیتے ہیں۔ یمن کے انصار اور سعودی عرب تازہ مثالیں۔ ماضی قریب تک انصار اللہ اور امریکہ ایک دوسرے سے برسر پیکار رہے ، مگر آج دونوں غیر علانیہ حلیف۔ متحدہ عرب کے وزیر اعظم اور صدر پزشکیان کی برکس اجلاس میں آنکھیں چار ہوئیں، برف پگھلی اور خیر سگالی کے جذبات دیکھنے کو ملے، مگر سوال کہ تجدید تعلق کس قیمت پر ؟۔ جبکہ سعودی عرب کہ جس نے باوجود امریکی دبائو کے، ایران کے خلاف اپنی سرزمین استعمال کی اجازت دی اور نہ بالواسطہ جنگ کا حصہ بنا۔ امن کے لیے پاکستانی کوششوں میں پیش پیش رہا، مگر پھر بھی کچھ حد تک سہی ایران کے زیر اثر حوثیوں کے سعودی عرب پر حملے!!!۔
سعودی عرب پرابراہم اکارڈ کے لیے متعدد جال پھینکے گئے، اور پرکشش وعدے بھی، مگر انکار نے اسے بے مقصد جنگ میں الجھا دیا، جبکہ مکہ معاہدہ بھی ابراہم اکارڈ کے سہولت کاروں اور اسرائیل کو ہضم نہیں، یہی وجہ ٹھہری کہباب المندب سے سعودی ٹینکرز بند۔ اس حقیت سے پاکستان اور شائد سعودی عرب بھی لاعلم نہ ہوں گے کہ مسلم ممالک کو اتحاد اور ابراہم اکارڈ میں عدم شمولیت کی کچھ نہ کچھ قیمت ادا کرنا ہو گی۔ بلوچستان اور KPمیں دہشت گردوں کی تیز ہوتی سرگرمیاں تو اب سعودی سرزمین پر حوثی حملے اسی سلسلہ کی کڑی۔ مگر ابھی تک پاکستان سعودی عرب اور ترکیہ جنگ کے پھیلائو کو روکنے کے لیے تحمل، برداشت اور تدبر کی راہ اختیار کیے ہیں کہ اسرائیل کی گہری چالوں کو سمجھنا مشکل اور ناکام بنانا بھی پیچیدہ۔
محمد بن سلمان نے مسلم ممالک کے اتحاد کو وسیع، براہ راست جنگ سے بچنے اور انصار اللہ پر سفارتی و اخلاقی دبائو کے لیے دورہ مصر بھی کیا اور دیگر مسلم ممالک سے روابط بھی تیز۔ جبکہ عمان میں ایران خلیجی ممالک اجلاس کے التوا نے ایران اور دیگر پراکسیز کو سعودی عرب کے خلیجی ممالک پر اثر رسوخ واضح کر دیا، اب تو عالمی برادری بھی باب المندب کی بندش کو قبول کرنے کو تیار نہیں کہ اس طرح سمندری پانیوں میں کسی بھی وقت کسی بھی شرپسند گروہ کو قبضہ کا جواز مل سکتا ہے کہ دنیا پہلے ہی ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول کا خمیازہ بھگت رہی ہے۔
برطانیہ کے ملٹری ایڈوائزر کی سعودی عرب آمد جبکہ دیگر یورپی ممالک کی اس ضمن میں سعودی موقف کی حمایت بھی حوثی اور اس کے سرپرستوں کو پریشان کر رہی ہے، جبکہ پاکستان کی اس ضمن میں ایران کو پیغام رسانی بھی رنگ لاتی دکھائی دینے لگی ہے کہ ایرانی وفد سعودی سرزمین پر۔ ان سطور کی اشاعت تک تو تفصیلات سامنے نہ آئیں مگر ذمہ دار ذرائع کے مطابق فیلڈ مارشل ایران اور سعودی عرب کے مابین مثبت اور نتیجہ خیز بات چیت کے لیے سرگرم کہ نادیدہ اور خفیہ صیہونی چالوں کو ناکام بنانے کا یہی بہترین اسلوب۔ پاکستان ہر صورت آپس کی اس بے مقصد لڑائی کو روکنا چاہتا ہے مگر پراکسیز اور اسرائیل اپنی چالوں کے ذریعے اسے ناکام بنانے کی ہر ممکن کوشش میں مصروف۔مسلم ممالک بالخصوص عربوں کو یہ بات اب سمجھ آ جانی چاہیے کہ گزشتہ 50برسوں میں انہوں نے جس امریکہ کو اپنی حفاظت کے بدلے اربوں ڈالر دیئے وہ آج انہی سے نظریں چرا رہا ہے اور پاکستان باوجود اندرونی معاشی و سیاسی دباو کے ٹھوک بجا کر نہ صرف سعودی عرب کے دفاع بلکہ خطہ کے دیگر ممالک کو بھی حوصلہ دئیے ہوئے پے۔ جبکہ بھارتی و اسرائیلی سپانسرڈ دہشت گرد گروہوں کے خلاف بھی برسر پیکار۔ ادھر مسلم دنیا کے آگے سعودی عرب کو رسوا کرنے کے لیے یروشلم پوسٹ اور امریکی اخبار میں حوثیوں کے خلاف اسرائیلی خفیہ مدد کی خبر اڑائی گئی جس کا مقاصد ہر ذی شعور کو سمجھ آنا چاہیے کہ کیا خفیہ معلومات دنیا کو بتا کر شئیر کی جاتی ہیں؟۔
ایک المیہ یہ کہ ہمارے ہاں کہ بعض سوشل میڈیائی تجزیہ نگاروں کا جو کم علمی یا مذہبی و سیاسی تعصب کے زیر اثر حقائق سمجھے بغیر شرپسند گروہوں کی حمایت میں توانائیاں صرف کر رہے ہوتے ہیں۔ سوچنے کا مقام کہ سعودی عرب حجاز مقدس کی وجہ سے پوری امت کی عقیدتوں کا مرکز، 20لاکھ سے زائد پاکستانی وہاں روزگار پر، حرمین شریفین کی حفاظت جیسی سعادت پاکستان کے پاس، آج تک ہر مشکل گھڑی میں سعودی عرب پاکستان کے ساتھ مگر نادان دوست سرزمین حرمین پر حملوں پہ ایسے پرجوش جیسے پرائی شادی میں نادان دیوانے۔ ایسے وقت میں کہ جب پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ، امریکہ ایران جنگ کی بندش میں مصروف ہیں، کے دوران حوثیوں کے حملے چہ معنی دارد!۔
سوال یہ کہ جنگجوئوں کو ہتھیار، ٹارگٹ کی نشاندہی اور بے پناہ مالی وسائل کون فراہم کر رہا۔؟ سوچنا تو یہ بھی بنتا ہے کہ اسرائیل کے عزائم کی بالواسطہ تکمیل کس کے ہاتھوں ہو رہی ہے اور امریکہ انصار اللہ براہ راست روابط کے مقاصد کیا ۔؟ اب تو حوثیوں کے ڈرون سرزمین حرم کی جسارت کرنے لگے۔ ایسے میں ایران پر بھاری ذمہ داری کہ وہ امت مسلمہ کو آپس کی جنگ سے بچانے کے لیے ذمہ دارانہ کردار ادا، انصار اللہ کو شرانگیزی سے باز اور انکار کی صورت میں علی اعلان برات کا اظہار کر کے مسلم اتحاد کی صف میں کھڑا ہو وگرنہ ایک اور بے مقصد جنگ مسلمانوں کا مقدر کہ جو برسوں سے اسرائیل کا خواب !۔

جواب دیں

Back to top button