
سوات کے علاقے کبل میں پولیس اسٹیشن کے گیٹ کے قریب ہونے والے ایک خودکش دھماکے کے نتیجے میں 6 پولیس اہلکاروں سمیت 15 افراد شہید اور 10 زخمی ہو گئے۔
خیبر پختونخوا پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ ایک خودکش حملہ تھا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ سے خودکش حملہ آور کا سر مل گیا ہے اور ابتدائی تحقیقات حملہ آور کے افغان ہونے کی نشاندہی کر رہی ہے۔
آئی جی آفس کے اعلامیے کے مطابق واقعے کے بعد پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی ہے۔
دھماکے کے نتیجے میں شہید ہونے والوں کی لاشوں اور زخمیوں کو سینٹرل اسپتال سوات منتقل کر دیا گیا ہے۔
وزیراعظم شہبازشریف نے سوات کےعلاقے کبل میں خودکش دھماکےمیں اموات پر اظہار افسوس کرتے ہوئے شہدا کے اہلِ خانہ سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے اور دھماکے میں زخمی ہونے والوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی ہے۔
وزیراعظم نے متعلقہ حکام کوزخمیوں کوبہترین طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانےکی ہدایت بھی کی ہے۔
وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے بھی کبل سوات میں دھماکے کی مذمت کرتے ہوئےآئی جی خیبرپختونخوا سے واقعے کی رپورٹ طلب کی ہے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے دھماکے میں شہید پولیس اہلکاروں اور شہریوں کے اہلخانہ سے اظہار تعزیت بھی کیا ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے عظیم قربانیاں دے رہی ہے، امن دشمن عناصر کو اپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔
وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے بھی سوات کے تھانہ کبل کے قریب خودکش حملے کی مذمت کرتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ پولیس کے بہادر جوانوں نے جان دے کر خودکش بمبار کو تھانے کے اندر جانے سے روکا، جان کی قربانی دے کر دوسروں کی زندگیاں بچانے والے پولیس اہلکاروں نے فرض شناسی کی اعلیٰ مثال قائم کی







