
یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ ایران پہلے ہی روس کو ہتھیار فراہم کرکے یوکرین کے خلاف جنگ میں شامل ہو چکا ہے، ممکنہ نئے خطرات کے حوالے سے محتاط رہنا ضروری ہے۔
برطانوی نیوز چینل کو دیے گئے انٹرویو کے دوران زیلنسکی سے سوال پوچھا گیا کہ کیا انہیں اس بات کا خدشہ ہے کہ ایران اپنے جہاز سے متعلق حالیہ واقعے کے بعد یوکرین پر براہِ راست حملہ کر سکتا ہے؟
اس کے جواب میں یوکرینی صدر نے کہا کہ ایران پہلے ہی روس کو ہتھیار فراہم کر کے ہم پر حملہ کر چکا ہے، ہمیں محتاط رہنا ہو گا اور ہر ممکن کوشش کرنی ہو گی کہ کوئی نیا محاذ نہ کھلے
انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ ایران اور شمالی کوریا نے پہلے ہی ہم پر حملہ کیا ہے، امید ہے کہ وہ اپنے حملے مزید نہیں بڑھائیں گے، لیکن ہمیں ہر صورتِ حال کے لیے تیار رہنا ہو گا۔
زیلنسکی نے الزام عائد کیا کہ جنگ کے آغاز ہی سے ایران نے روس کو ہزاروں شاہد ڈرونز فراہم کیے، پھر ان کی تیاری کے لیے لائسنس بھی دیے، جو یوکرین کے خلاف جنگ میں براہِ راست معاونت کے مترادف ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ یوکرین ایران پر اعتماد نہیں کر سکتا کیونکہ ایران نے کسی اشتعال انگیزی کے بغیر ہی روس کو ہتھیاروں کی فراہمی شروع کر دی تھی۔
واضح رہے کہ ایران کے ایک تجارتی بحری جہاز پر بحیرۂ کیسپین میں یوکرین کی جانب سے مبینہ حملہ کیا گیا، جس نے یوکرین اور مشرقِ وسطیٰ کے جاری تنازعات کے باہمی تعلق اور ممکنہ نئے محاذ کے خدشات کو جنم دے دیا
ایران کے مطابق جہاز پر حملے میں 1 اہلکار جاں بحق اور 1 زخمی ہوا ہے۔
ایران کی وزارتِ خارجہ نے ایرانی بحری جہاز پر یوکرین کے حملے کی مذمت کی ہے اور یوکرینی ناظم الامور کو طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کروایا ہے۔







