
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ لبنان میں حالیہ فضائی حملوں کے دوران حزب اللہ کے مزید دو سینئر کمانڈرز شہید ہو گئے ہیں، جب کہ بیروت حملے میں ایک اعلیٰ عہدیدار کی شہادت کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔ حزب اللہ کی جانب سے تاحال اسرائیل کے ان دعوؤں پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
اسرائیلی اخبار ’ٹائم آف اسرائیل‘ کے مطابق اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) نے کہا ہے کہ لبنان میں گزشتہ روز کیے گئے فضائی حملوں میں حزب اللہ کے دو اہم کمانڈرز مارے گئے ہیں۔
فوجی بیان کے مطابق شہید ہونے والوں میں محمد علی بازی شامل ہیں، جو حزب اللہ کے نصر ریجنل ڈویژن میں انٹیلی جنس کے سربراہ تھے، جب کہ حسین حسن رمانی حزب اللہ کے فضائی دفاعی یونٹ کے سربراہ تھے۔ اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) نے دعویٰ کیا کہ دونوں کمانڈرز اسرائیلی فوج اور شہریوں کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی اور کارروائیوں میں ملوث تھے۔
آئی ڈی ایف کے مطابق 16 اپریل کو لبنان میں جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد سے اب تک 220 سے زائد حزب اللہ ارکان کو نشانہ بنایا جا چکا ہے، جنہیں اسرائیل اپنی سکیورٹی کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے۔ فوجی بیان کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران اسرائیلی افواج نے حزب اللہ کے 85 ارکان کو شہید کیا، جب کہ تنظیم سے متعلق 180 سے زائد فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ یہ کارروائیاں لبنان سے اسرائیل کے خلاف ممکنہ حملوں کو روکنے کیلئے کی جا رہی ہیں۔
دوسری جانب لبنان کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ 2 مارچ سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 2 ہزار 700 سے زائد افراد جان گنوا چکے ہیں، جن میں جنگ بندی شروع ہونے کے بعد مارے جانے والے درجنوں افراد بھی شامل ہیں۔
لبنانی حکام اور مقامی ذرائع کے مطابق اسرائیلی حملے جنگ بندی کے باوجود مختلف علاقوں میں جاری ہیں، جس پر خطے میں کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھنے کے خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے بدھ کے روز بیروت کے جنوبی مضافات میں کیے گئے حملے میں حزب اللہ کی ایلیٹ رضوان فورس کے کمانڈر احمد علی بلوط کی شہادت کا بھی دعویٰ کیا تھا۔
لبنانی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق بیروت کے جنوبی علاقے میں ایک رہائشی اپارٹمنٹ کو تین میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔ جنگ بندی کے بعد لبنانی دارالحکومت بیروت میں یہ پہلا بڑا اسرائیلی حملہ تھا۔ تاحال حزب اللہ نے احمد علی بلوط کی شہادت کی سرکاری تصدیق نہیں کی۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی اس کارروائی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کوئی دہشت گرد محفوظ نہیں اور جو بھی اسرائیل کے لیے خطرہ بنے گا، وہ اپنی جان خطرے میں ڈالے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ احمد بلوط کو یقین تھا کہ بیروت میں اسے استثنیٰ حاصل ہے، مگر اب ایسا نہیں ہوگا۔
نیتن یاہو نے مزید کہا کہ اسرائیلی فوج لبنان کے ساتھ ساتھ غزہ میں بھی حماس کے جنگجوؤں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے، باوجود اس کے کہ دونوں علاقوں میں امریکی ثالثی میں جنگ بندی نافذ ہے۔






