
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ہونے والے سالانہ بچوں کے ایسٹر ایونٹ میں خطاب کیا۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی حکومت میں موجود ’معقول لوگوں‘ کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی نئی قیادت، جنگ کے آغاز سے اب تک مارے جانے والے پچھلے رہنماؤں کے مقابلے میں کافی کم شدت پسند ہے۔
ٹرمپ نے اپنی گفتگو کا آغاز ایران میں جاری جنگ اور اس زخمی امریکی فضائی اہلکار کی ریسکیو کارروائی سے کیا، جو اپنے طیارے کے مار گرائے جانے کے بعد ایران کے ایک دور دراز پہاڑی علاقے میں پھنس گیا تھا۔
ٹرمپ نے اس ریسکیو مشن کو ’ایسی چیز جو آپ کم ہی دیکھتے ہیں‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک مشکل اور انتہائی خطرناک کارروائی تھی۔ انھوں نے کہا کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ ایران سے زیادہ دشمنانہ ماحول کہیں اور ہو سکتا ہے۔‘
ٹرمپ نے مزید کہا کہ دشمن کے علاقے میں اس طرح کی کارروائی کرنا بہت مشکل ہوتا ہے، خاص طور پر جب وہ دشمن ’طاقتور‘ ہو لیکن انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران ایک ماہ پہلے جتنا مضبوط تھا، اب نہیں رہا۔
ٹرمپ سے صحافیوں نے پوچھا کہ انھوں نے گذشتہ روز اپنے ٹروتھ سوشل پوسٹ میں ’اتنی نازیبا زبان‘ کیوں استعمال کی یعنی وہ گالیاں جو انھوں نے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کی دھمکی دیتے ہوئے لکھی تھیں۔
ٹرمپ نے جواب دیا کہ ’صرف اپنی بات سمجھانے کے لیے۔‘ انھوں نے مزید کہا ’میرا خیال ہے آپ یہ پہلے بھی سن چکے ہیں۔‘
ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ایک بار پھر ایران کو دھمکی دی کہ اگر وہ ہتھیار نہیں ڈالتا تو امریکہ اس کے بنیادی ڈھانچے پر حملے جاری رکھے گا۔
ٹرمپ نے کہا کہ ’اور اگر انھوں نے ایسا نہ کیا تو ان کے پاس کوئی پل نہیں ہوگا۔ ان کے پاس کوئی پاور پلانٹ نہیں ہوگا۔ ان کے پاس کچھ بھی نہیں بچے گا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ وہ اس سے آگے بات نہیں کریں گے، ’کیونکہ ان دونوں سے بھی بدتر چیزیں موجود ہیں۔‘
ٹرمپ نے کہا کہ ’اگر میری مرضی ہوتی تو میں کیا کرتا؟ میں ایران کا تیل قبضے میں کر لیتا۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’کیونکہ وہ تیل وہاں موجود ہے اور وہ (ایرانی ہمارا) کچھ نہیں کر سکتے۔‘
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ’بدقسمتی سے امریکی عوام چاہتے ہیں کہ ہم گھر واپس آئیں۔ اگر فیصلہ میرے ہاتھ میں ہوتا تو میں تیل کے ذخائر کو قبضے میں لیتا، تیل اپنے پاس رکھتا۔۔۔ بہت پیسہ کماتا اور ایران کے لوگوں کا بھی خیال رکھتا۔‘
امریکی طیارے کو مار گرائے جانے کے بارے میں بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے امریکی لڑاکا طیارے کو قسمت‘ سے نشانہ بنایا۔
تاہم انھوں نے اعتراف کیا کہ ’ہمارے کچھ ہیلی کاپٹر پر اس وقت شاید گولیوں کے بہت سے نشانات ہیں۔‘
صحافیوں سے گفتگو ختم کرنے سے پہلے، ٹرمپ نے امریکہ اور اسرائیل کی شدید بمباری کے پس منظر میں یہ بھی کہا کہ ’ایرانی عوام سب سے زیادہ ناخوش ہیں۔۔۔ جب یہ بمباری رکتی ہے۔‘






