
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے انکشاف کیا ہے کہ ایران پر امریکی حملے کے وقت کا تعین اسرائیل کی متوقع کارروائی کو مدِنظر رکھ کر کیا گیا۔
مارکو روبیو نے کانگریس رہنماؤں کو بریفنگ کے بعد میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا کہ امریکا نے ایران پر حملہ اس لیے کیا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اسرائیل ایران پر حملہ کرے گا۔
امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ اگر امریکا پہلے حملہ نہ کرتا تو امریکی فوج کو زیادہ جانی نقصان اٹھانا پڑتا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کو پہلے سے معلوم تھا کہ اسرائیل ایران پر حملہ کرنے والا ہے جس کے بعد ایران امریکی مفادات کو نشانہ بنا سکتا تھا، اسی خطرے کے پیشِ نظر امریکا نے پیشگی کارروائی کی
مارکو روبیو کا مزید کہنا ہے کہ امریکا کا مقصد ایران کے میزائل اور ڈرون پروگرام کو تباہ کرنا ہے۔
اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا چاہتا ہے کہ ایرانی عوام موجودہ حکومت کا خاتمہ کر کے نیا سیاسی نظام قائم کریں۔
دوسری جانب امریکی فوج نے تصدیق کی ہے کہ ایران نے خطے میں امریکی اڈوں اور تنصیبات پر ڈرون اور میزائل حملے کیے ہیں جن کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے امریکی اہلکاروں کی تعداد 3 سے بڑھ کر 6 ہو گئی ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی تصدیق کی ہے کہ ایران کے خلاف کارروائی امریکا کے تعاون سے کی جا رہی ہے







