Column

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز باہمت، باوقار اور باکمال لگتی

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز باہمت، باوقار اور باکمال لگتی ہیں

تحریر : راجہ شاہد رشید

میرے جاننے والے سب احباب بھائی یہ بخوبی جانتے سمجھتے ہیں کہ میرا شمار ہمیشہ ناقدین نون میں ہی ہوتا رہا ہے لیکن نہ جانے کیوں کچھ دنوں سے محترمہ مریم نواز شریف مجھے ایک متحرک و محنتی، ایک باہمت و باوقار بلکہ باکمال سی وزیراعلیٰ لگنے لگی ہیں اور وجہ اس کی یہ ہے کہ اس سے قبل کسی بھی وزیراعلیٰ پنجاب نے اس طرح میڈیا کے سامنے سرکاری افسران بالا و اعلیٰ کو نہیں ڈانٹا ہوگا جس طرح وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز نے بیوروکریسی سے ایک ایک بات کا احوال پوچھا ہے اور ایک ایک چیز کا حساب مانگا ہے۔ سی ایم صاحبہ کی اس سختی سے پورے پنجاب کے سرکاری اداروں میں، ہسپتالوں، سکولوں، الغرض تمام تر دفاتر میں ایک کھلبلی مچ گئی ہے۔ اب اگر کوئی ن لیگی متوالا با آواز بلند یعنی نعرے کے انداز میں یہ صدائے تحسین سربلند کرتا ہے کہ پنجاب کی شیرنی، برحق آواز۔۔۔۔۔ مریم نواز مریم نواز تو یہ بجا اور بامعنی لگے گا۔ سربراہ مملکت ہو یا سربراہ صوبہ اگر اس طرز و لیول پہ ہر ایشو کا، سب مسائل و مشکلات کا نوٹس لینے لگ جائے تو یقیناً سچ مچ تبدیلی واقعی آ جاتی ہے۔ صرف نعروں سے، گالم گلوچ، بد تہذیبی و بدتمیزی سے کبھی بھی تبدیلی نہیں آتی ہوتی، بس ڈنڈا بردار جتھے بن جاتے ہیں پھر وہ اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں، ایک ہجوم میلہ سا لگ جاتا ہے، لشکریوں کے لشکر نکل آتے ہیں، پھر 9مئی ہوتا ہوتا ہے اور تبدیلی کے بجائے ’’ تذلیلی‘‘ آ جاتی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ٹرانسپورٹ کمپنی ہیڈ کوارٹر اور ای وی کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کا افتتاح کر دیا ہے، انہوں نے الیکٹرو بس کے جدید ترین آٹومیٹک واشنگ پلانٹ کا مشاہدہ کیا، واشنگ پلانٹ پر آٹو میٹک طریقہ کار سے الیکٹرو بس کو واش اور ڈرائی کیا جاتا ہے، جدید ترین چارجنگ سٹیشن کا بھی مشاہدہ کیا یوٹونگ کمپنی کے جدید ترین 160کلو واٹ چارجنگ سٹیشن 105منٹ میں الیکٹرک بس کو چارج کیا جاتا ہے، وزیراعلیٰ نے یہ چارجنگ سسٹم جلد از جلد شمسی توانائی پر منتقل کرنے، مزید بہتر انتظامات کرنے اور نئے روٹس دریافت کرنے کی ہدایت کی، انہوں نے 1500نئی بسوں کے لیے ٹائم لائن طلب کر لی اور گرین بس پراجیکٹ کے کاربن کریڈٹس کلیم کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ ’’ سپیشل افراد کی معاونت کرنے والے الیکٹرو بس کے عملے کا جذبہ قابل داد ہے، گرین بس کی لانچنگ سے پنجاب میں رائیڈر شپ کے ریکارڈ ٹوٹ گئے، الیکٹرو بس کے ذریعے عوام کو آرام دہ سفر کی بہترین سہولت میسر ہے، بالخصوص بچوں اور خواتین کا تحفظ اولین ترجیح ہے، یہ بسیں فضائی آلودگی اور سموگ میں کمی کا باعث بن رہی ہیں، مختلف مقامات پر مسافروں کو انتظار کرنا پڑتا ہے اس لیے بسوں کی تعداد میں مزید اضافہ کیا جائے گا، پنجاب کے عوام کے لیے صاف، محفوظ اور جدید پبلک ٹرانسپورٹ اولین ترجیح ہے‘‘۔ اس سے قبل اورنج ٹرین اور میٹرو بسیں بھی چلائی گئی۔ جب میٹرو بس کا منصوبہ سامنے آیا تھا تو شیخ رشید نے کہا تھا کہ ’’ جنگلا‘‘ بس جب سڑک سے اُوپر اتنی بلندی پر اُڑے گی تو ایکسیڈینٹ زیادہ ہوں گے لیکن بفضل اللہ ایسا نہیں ہوا، یہ تو سنتے رہتے ہیں کہ ریلوے کی اتنی بوگیاں پٹری سے اُتر گئی ہیں جانی و مالی نقصان ہوا ہے مگر ماشاء اللہ میٹرو کا ایسا کبھی نہیں سنا۔ اس کے علاوہ خبریں یہ بھی ہیں کہ حکومت پنجاب نے الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے لیے ایک جامع مالی پیکیج کی تجویز تیار کر لی ہے جس کے تحت 57ارب روپے کی مراعات دینے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ عوام کو سستی صاف اور جدید سفری سہولت فراہم کرنے کیلیے برقی بائیکس پر 20سے 30ہزار روپے، الیکٹرک رکشوں پر 25ہزار روپے، چھوٹی الیکٹرک کار پر ایک لاکھ روپے اور بڑی الیکٹرک گاڑی پر دو لاکھ روپے تک سبسڈی تجویز کی گئی ہے، بسوں اور دیگر کمرشل الیکٹرک گاڑیوں کے لیے چار سے پانچ لاکھ روپے تک امداد دینے کی سفارش بھی شامل ہے تاکہ پرانی اور آلودگی پھیلانے والی گاڑیوں کی حوصلہ شکنی ہو۔ آئیں ذرا تصویر کا دوسرا رخ بھی ملاحظہ فرماتے ہیں اور چلتے ہیں KPK حکومت کی جانب جو لوگ باتیں تو بڑی بڑی کرتے ہیں جبکہ ان کی اپنی حالت کچھ اس طرح ہے کہ PTI پشاور کے صدر نے ترقیاتی فنڈز میں بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی سابقہ اور موجودہ حکومت میں بلدیاتی نمائندوں کو ایک روپے کا بھی فنڈ نہیں ملا لیکن ٹھیکیداروں کی ملی بھگت سے اربوں کے فنڈز ہڑپ کر لیے گئے ہیں۔ پی ٹی آئی پشاور کے صدر عرفان سلیم نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ پشاور میں کوئی ترقیاتی کام نہیں ہوا لیکن ایک ارب 70کروڑ روپے بغیر کسی ٹینڈر، این آئی ٹی ایس اور کیپرا کی منظوری کے بغیر جاری کیے گئے، دو ٹھیکیدار پشاور پر راج کر رہے ہیں، معلوم نہیں فنڈز کہاں جا رہے ہیں، جعلی منصوبوں کا بتا کر تمام رقم جیبوں میں ڈال لی گئی، خبر کے مطابق سٹنیبل ڈیویلپمنٹ فنڈز اور اور ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ فنڈز میں بڑے پیمانے پر گھپلے ہوئے ہیں۔ صدر PTIپشاور عرفان سلیم نے کہا کہ میں پارٹی کا حصہ ہو کر قیادت تک یہ بات پہنچانا چاہتا ہوں اور مطالبہ کرتا ہوں کہ ان گھپلوں کی شفاف تحقیقات ہوں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ فنڈز کہاں اور کس مقصد کے لیے خرچ کیے گئے‘‘۔ وفاقی یا کوئی دوسری صوبائی حکومت یہ بات کہے تو کوئی بھی یقین نہیں کرے گا، اگر کوئی صحافی یہ انکشاف کرے تو وہ ’’ لفافی‘‘ بن جائے گا۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر PTIپشاور کا صدر یہ کہہ رہا ہے تو ساری دال نہ سہی مگر کچھ تو دال میں ضرور کالا ہے۔

زلفیں ہیں بکھری بکھری ، ٹیڑھا کان کا بالا ہے

دیکھا تو یہ جان گئے کچھ دال میں کالا کالا ہے

جواب دیں

Back to top button