تازہ ترینخبریںدنیاسیاسیاتپاکستان

"سیف الاسلام” معمر قذافی کے بیٹے کے قتل کی منصوبہ بندی کیسے کی گئی؟

لیبیا کے سابق رہنما معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کے قتل کی تصدیق ان کے قریبی خاندانی ذرائع اور ان کے فرانسیسی وکیل مارسل سیکالڈی نے کی ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق طویل عرصے سے اپنے والد کے جانشین سمجھے جانے والے 53 سالہ سیف الاسلام کو لیبیا کے دارالحکومت طرابلس سے 136 کلومیٹر (85 میل) جنوب مغرب میں واقع شہر زنتان میں قتل کیا گیا۔

قذافی خاندان کے قریبی ذرائع کے مطابق 4 نقاب پوش حملہ آور منگل کی رات تقریباً 2 بج کر 30 منٹ پر 53 سالہ سیف الاسلام کو ان کی رہائش گاہ کے باغ میں گولیاں مار کر موقع سے فرار ہو گئے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مبینہ طور پر مسلح افراد نے پہلے گھر کے سیکیورٹی کیمروں کو غیر فعال کیا اور پھر براہِ راست مسلح تصادم کے بعد انہیں گولی مار دی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعے کی مکمل تفصیلات تاحال منظرِ عام پر نہیں آ سکیں، تاہم سیف الاسلام قذافی کے ایک قریبی ساتھی نے اسے واضح طور پر ایک قتل قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ سیف الاسلام کے سیاسی مشیر اور 2020ء سے 2021ء تک ان کی سیاسی ٹیم کے رکن عبداللّٰہ عثمان نے فیس بک پر ایک پوسٹ کے ذریعے ان کی موت کی تصدیق کی۔

انہوں نے لکھا کہ ہم اللّٰہ کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے، مجاہد سیف الاسلام قذافی اللّٰہ کی امان میں چلے گئے۔

لیبیا کے حکام نے ان کے قتل کی تحقیقات کا مطالبہ کر دیا جبکہ عبداللّٰہ عثمان کے مطابق گزشتہ کچھ عرصے سے سیف الاسلام قذافی کی سیکیورٹی میں مسائل تھے۔

خیال رہے کہ 2011ء میں نیٹو کی حمایت یافتہ بغاوت کے نتیجے میں معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد بھی سیف الاسلام قذافی لیبیا کی سیاست میں ایک نمایاں شخصیت کے طور پر موجود رہے۔

سیف الاسلام قذافی اگرچہ کسی سرکاری عہدے پر فائز نہیں تھے، تاہم ایک وقت میں وہ تیل سے مالا مال شمالی افریقی ملک میں اپنے والد کے بعد سب سے طاقتور شخصیت سمجھے جاتے تھے، جنہوں نے 4 دہائیوں سے زائد عرصے تک حکومت کی

جواب دیں

Back to top button