Column

سراسر حسن، سراسر خیر

سراسر حسن، سراسر خیر
تحریر : صفدر علی حیدری
انسان اصل میں زبان سے پہچانا جاتا ہے، لیکن زبان سے پہلے انسان خود اپنے باطن سے پہچانا جاتا ہے۔ باطن جب واضح نہیں ہوتا تو زبان سے پھسل جاتا ہے، اور جب باطن گدلا ہو تو لفظ بھی گدلے نکلتے ہیں۔ یہی گدلا پن ہمارے مذہبی تصورات، اخلاقی مباحث اور روزمرہ کی گفتگو میں بھی دکھائی دینے لگتا ہے۔
جہاں ہم دیکھتے ہیں کہ مصیبت آتی ہے تو فوراً کہہ دیا جاتا ہے: ’’ یہ اللہ کی طرف سے ہے‘‘، مگر خوشی آئے تو کہتے ہیں: ’’ ہم نے خود کمائی ہے‘‘ ، یا ’’ اتفاق سے ایسا ہو گیا‘‘، یا ’’ میری قسمت اچھی تھی‘‘۔ یہاں انسان کے ضمیر کا پردہ ذرا سا ہٹتا ہے اور وہ برملا اعتراف کیے بغیر یہ بتا دیتا ہے کہ اس کے نزدیک ’’ خیر‘‘ کیا ہے اور ’’ شر‘‘ کیا ہے، اور وہ کس کو کس کے کھاتے میں ڈالنا چاہتا ہے۔
یہ عجیب رویہ صرف مذہبی ذہن یا نیم خواندہ ذہن تک محدود نہیں، بلکہ جدید سیکولر ذہن میں بھی اسی شدت سے پایا جاتا ہے۔ مغرب میں برسوں یہ سوال فلسفہ دین کا مرکزی سوال رہا کہ اگر خدا نیک ہے اور قادرِ مطلق ہے تو پھر دنیا میں شر کیوں ہے؟ وہاں بھی مسئلہ شر ہمیشہ گردن توڑ بحث بنا رہا، مگر حیرانی کی بات یہ ہے کہ یہی ذہن نعمتوں کی موجودگی کو خدا کے حق میں دلیل نہیں سمجھتا، بلکہ اسے کسی فطری اتفاق، ذہانت، معاشی نظام یا اجتماعی میکانزم سے تعبیر کرتا ہے۔ گویا خوشی آئے تو انسان اس کا نام’’ natural ‘‘ رکھ دیتا ہے اور غم آئے تو اس کا نام ’’ metaphysical‘‘ یعنی کسی مافوق الفطرت قوت کی طرف پھینک دیتا ہے۔ یہ انسانی ذہن کا پہلا تضاد ہے جسے وہ کسی کتاب میں نہیں بلکہ اپنی روزمرہ زندگی میں لکھتا ہے۔
ہم مسلمان معاشروں میں بھی یہی دیکھتے ہیں کہ لوگ کبھی پورے شہر کو اللہ کی طرف منسوب کر دیتے ہیں، کبھی کسی واقعے کو۔ جیسے ’’ اللہ نے اس شہر کو غضب سے بچایا‘‘، مگر اس شہر میں ہونے والی خیر، حسن، تعلیم، محنت اور انسانوں کے اعلیٰ کردار کا کریڈٹ اللہ سے ہٹا کر شہر، تہذیب یا کسی تاریخی نسبت کو دے دیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس اگر کسی شہر میں بارش کم ہو جائے تو فوراً کہہ دیا جاتا ہے ’’ یہ اللہ کی ناراضی ہے‘‘۔ انسان خیر کو اپنے نام سے موسوم رکھنا چاہتا ہے اور شر کو خدا کے خانے میں ڈال کر خود کو بری الذمہ کرنا چاہتا ہے۔ اس لیے کہ خیر کو اپنے کھاتے میں ڈالنے سے محبوبیت بڑھتی ہے، اور شر کو خدا کے کھاتے میں ڈالنے سے ذمہ داری کم ہوتی ہے۔
لیکن حقیقت یہ ہے: اللہ سراسر خیر ہے، سراسر حسن ہے۔ تمام اچھے نام، تمام نیک صفات، تمام حسن اور نیکی اسی کے لیے ہیں۔ اسی کو اسی نام سے پکارا جائے۔ حسن کبھی ظلم نہیں کرتا، کبھی نقص پیدا نہیں کرتا، کبھی بے عدل واقع نہیں ہو سکتا۔ یہ پہلو کسی بھی انسانی مفروضے یا غلط نسبت سے بالاتر ہے۔
یہاں ایک اور باریک نکتہ ہے جس پر صوفیہ اور علمائے کلام دونوں کی گفتگو ملتی ہے: انسان اور خدا کے درمیان ایک عظیم فرق یہ ہے کہ خدا تخلیق کرتا ہے اور انسان صرف استعمال کرتا ہے۔ خدا ’’ وجود‘‘ بخشتا ہے اور انسان ’’ تصرف‘‘ کرتا ہے۔ خدا روشنی بناتا ہے اور انسان اسی روشنی میں راستہ چنتا ہے۔ تو جو شر واقع ہوتا ہے وہ تخلیقی معنوں میں شر نہیں، بلکہ استعمالی معنوں میں شر ہے۔ آگ خیر ہے، لیکن اس سے جلانا شر ہے؛ چاقو خیر ہے، لیکن اس سے نقصان پہنچانا شر ہے؛ بارش رحمت ہے، مگر انباروں میں بیٹھے ہوئے لوگوں کے لیے یہ مصیبت بن جاتی ہے؛ سورج خیر ہے، مگر اس کے نیچے مزدور کا پسینہ کسی کو دکھائی نہیں دیتا۔ خدا نے اس دنیا کو حسن کی ترتیب پر بنایا، انسان نے اسے اپنے اختیار سے استعمال کیا؛ اور جو چیز اختیار کے بغیر ہو وہ اللہ کی مشیت ہے، اور جو اختیار کے ساتھ ہو وہ انسان کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔
یہی وجہ ہے کہ قرآن میں ہر جگہ نعمت کا ذکر ہو تو اللہ کہتا ہے: ’’ تم پر میری نعمتیں‘‘، اور جب مصیبت کا ذکر ہو تو زبان الٹی ہوتی نظر آتی ہے۔ قرآن انسان کے بارے میں بتاتا ہے: ’’ جو بھلائی اسے پہنچتی ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے اور جو برائی اسے پہنچتی ہے وہ اس کے اپنے نفس کی طرف سے ہے‘‘۔ یہ نفس کی طرف نسبت دراصل استعمال کی نسبت ہے، تخلیق کی نہیں۔ خدا نے آلہ دیا، صورت دی، موقع دیا، مگر عمل انسان نے کیا۔
یہاں ایک اور نکتہ سمجھنا ضروری ہے: لوگ شر کو خدا کے ساتھ اس طرح جوڑ دیتے ہیں جیسے یہ عین ظلم ہو اور وہ ظلم کا خالق بھی ہو۔ حالانکہ مسلمانوں کے ہاں خدا کو ’’ ظاہرہ شر‘‘ کا نہیں بلکہ ’’ خلقِ اختیار‘‘ کا خالق مانا جاتا ہے۔ یعنی اس نے امکان پیدا کیا، اختیار دیا، صورت دی، لیکن وہ انسان کو مجبور نہیں کرتا کہ وہ آگ سے جلا دے، چاقو سے کاٹ دے، زبان سے زخمی کر دے یا شہر کو لوٹ لے۔ اختیار کے بغیر اخلاق نہیں بنتا، ثواب بے معنی ہو جاتا ہے، اور انسان اس دنیا میں ایک پتلے کے سوا کچھ نہیں رہتا۔ لہٰذا جبر کے خاتمے کے لیے اختیار دیا گیا، اختیار اخلاق پیدا کرتا ہے، اخلاق ذمہ داری پیدا کرتا ہے، اور ذمہ داری حساب کو معنی دیتی ہے۔
اب آتے ہیں اس انسان کے اندر کے شہر کی طرف۔ ہر ذہن کے اندر ایک شہر آبادی ہے ’’ شہرِ خواب‘‘ جس کی گلیاں یادوں سے بھری ہیں، جس کے چوک عقائد سے آباد ہیں، جس کے گھروں میں الفاظ رہتے ہیں، اور جن الفاظ کی کھڑکیوں سے خیالات باہر جھانکتے ہیں۔ یہی شہر اصل میں یہ طے کرتا ہے کہ انسان کن چیزوں کو کس نام سے منسوب کرتا ہے: خیر کو کہاں رکھتا ہے، شر کو کہاں رکھتا ہے، شکر کس کے لیے ہو، اور ملامت کس پر۔ اس شہر میں روشنی بھی خدا نے دی، مگر نقشہ انسان نے بنایا۔
اسی نقشے میں کہیں لفظ ’’ اللہ ناراض ہے‘‘ لکھا ہے، کہیں ’’ میں بہت خوش نصیب ہوں‘‘ لکھا ہے، کہیں ’’ یہ تو بس اتفاق تھا‘‘ لکھا ہے، کہیں ’’ میں نے یہ سب اپنی محنت سے حاصل کیا ہے‘‘ لکھا ہے۔ انسان جب خیر پر قبضہ کرنا چاہتا ہے تو اسے اپنی سمجھ لیتا ہے، اور جب شر سے ڈر جاتا ہے تو اسے غیبی قوت پر ڈال دیتا ہے۔
یہاں ایک تمثیل غور طلب ہے: جیسے کسی قاتل کا ذکر کرتے ہوئے کہا جائے کہ یہ فلاں کا بیٹا ہے، تو اس سے باپ پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اسی طرح اگر کوئی مخلوق شر کرے تو اسے اللہ کے ساتھ جوڑ دینا خدا پر کوئی اثر نہیں ڈالے گا، کیونکہ شر کا اصل سبب مخلوق کا اختیار ہے، اللہ کی ذات کی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ خیر اور حسن اللہ سے ہے اور باقی جو کچھ ہے وہ یا تو فطرت کا ظہور ہے، یا اختیار کا نتیجہ، یا امتحان کا رنگ۔
لوگ کہا کرتے ہیں کہ فلاں شہر اللہ کا ہے، فلاں شہر اللہ کے غضب کا مرکز ہے، فلاں شہر اللہ کی محبت میں بسایا گیا۔ مگر شہر کسی خدا کے نہیں بستے، شہر انسانوں کے بستے ہیں۔ اللہ کی طرف صرف خیر منسوب ہے، جسے وہ چاہے جہاں ظاہر کرے، جیسے ظاہر کرے۔ شہر اپنے مکینوں سے معنویت پاتے ہیں، اور مکین اپنے اعمال سے شہر کو حسن بخشتے ہیں۔ اس لیے یہ کہنا کہ اللہ کسی شہر کو پسند کرتا ہے اور کسی کو نہیں، یہ انسانی سطح کی گفتگو ہے، الٰہی سطح کی نہیں۔ اللہ حسن ہے، سراسر حسن، اور حسن کے سامنے ایسی تقسیمیں انسانی زبان کے کرشمے ہیں، حقیقت کے نہیں۔
امتحان، اخلاق اور معافی کی عظمت
آخر میں یہ سارا قصہ ایک جملے میں یوں بند ہوتا ہے کہ خدا شر نہیں کرتا بلکہ شر کو ممکن بناتا ہے۔ اسی لیے وہ خیر کی نسبت قبول کرتا ہے اور شر کی نسبت اپنے بندوں کو واپس دیتا ہے، تاکہ امتحان قائم رہے، اختیار قائم رہے، اور اخلاق قائم رہے۔ ورنہ خیر بھی بے ذائقہ اور شر بھی بے معنی ہو جاتا۔ خدا اگر چاہتا تو ایک ایسی دنیا بنا دیتا جس میں نہ خطا ہوتی، نہ گناہ، نہ ظلم، نہ درد، مگر پھر نہ کوئی آنسو محبت کو معنی دیتے، نہ کوئی قربانی اعلیٰ بنتی، نہ کوئی معافی عظمت رکھتی، نہ کسی جنت کی کوئی شان رہتی، نہ کسی جہنم کی ضرورت رہتی۔
تو اللہ کی طرف صرف خیر منسوب ہے، سراسر خیر، سراسر حسن۔ انسان کا شہرِ خواب اسی خیر کی روشنی میں اپنا نقشہ بناتا ہے۔ جب انسان یہ نقشہ درست بنا لے گا تو نہ وہ خدا پر الزام ڈالے گا، نہ شہر پر، نہ تقدیر پر، بلکہ اپنے اختیار کو سمجھے گا، اپنی ذمہ داری کو پہچانے گا، اور خدا کے حسن کو اس کے مقام پر رکھے گا۔
پھرا زمانے میں چار جانب صنم سراپا تمہی کو دیکھا
حسین دیکھے جمیل دیکھے پر ایک تم سا تمہی کو دیکھا

جواب دیں

Back to top button