یونیورسٹی آف لاہور کا ویل بیئنگ سینٹر ایک مثالی قدم

یونیورسٹی آف لاہور کا ویل بیئنگ سینٹر ایک مثالی قدم
تحریر : عقیل انجم اعوان
دی یونیورسٹی آف لاہور میں ویل بیئنگ سینٹر کا قیام اس حقیقت کا عملی اعتراف ہے کہ تعلیم صرف کتابوں، لیکچرز اور امتحانات تک محدود نہیں بلکہ یہ انسان کی مکمل شخصیت کی تعمیر کا نام ہے۔ ایک ایسی تعمیر جس میں ذہن، جسم اور جذبات تینوں کا صحت مند ہونا ضروری ہے۔ یہ اقدام کسی رسمی تقریب یا معمول کے انتظامی فیصلے کا نتیجہ نہیں بلکہ سوچ کی ایک بڑی تبدیلی ہے۔ ایک ایسا تعلیمی تصور جس میں طالب علم اور استاد کو صرف نمبر لینے یا پڑھانے والی مشین نہیں بلکہ احساسات، دباؤ اور مسائل رکھنے والا مکمل انسان سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان کے تعلیمی اداروں میں طویل عرصے تک اس پہلو کو نظر انداز کیا جاتا رہا کہ مسلسل مسابقت، امتحانات کا دبائو، مستقبل کی غیر یقینی صورتحال، معاشی مسائل اور سوشل میڈیا کا اثر نوجوان ذہنوں پر کس طرح اثر انداز ہو رہا ہے۔ دی یونیورسٹی آف لاہور نے ویل بیئنگ سینٹر قائم کر کے اس خلا کو پُر کرنے کی سنجیدہ کوشش کی ہے اور یہ واضح پیغام دیا ہے کہ ذہنی اور جسمانی صحت کے بغیر معیاری تعلیم کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔ دی یونیورسٹی آف لاہور میں ویل بیئنگ سینٹر کا قیام کسی معمول کی انتظامی سرگرمی یا نمائشی تقریب کا نام نہیں بلکہ یہ پاکستان کے تعلیمی سفر میں ایک ایسا اہم اور دور رس قدم ہے جو آنے والے برسوں تک یاد رکھا جائے گا۔ اس سینٹر کے ذریعے یونیورسٹی آف لاہور نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ تعلیم کو صرف ڈگری تک محدود نہیں دیکھتی بلکہ انسان کی پوری زندگی کو اپنے تعلیمی وژن کا حصہ سمجھتی ہے۔ برسوں سے ہمارے تعلیمی ادارے جدید عمارتوں، لیبارٹریوں اور نصابی پروگراموں پر فخر کرتے رہے ہیں مگر طالب علم اور استاد کے ذہن میں چلنے والی کشمکش، تھکن اور دباؤ کو کبھی سنجیدگی سے موضوع نہیں بنایا گیا۔ یونیورسٹی آف لاہور نے اس روایت کو توڑتے ہوئے یہ جرات مندانہ فیصلہ کیا کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ ذہنی، جسمانی اور جذباتی صحت کو بھی اولین ترجیح دی جائے۔ یہی وہ سوچ ہے جو ایک عام تعلیمی ادارے اور ایک حقیقی انسان دوست ادارے کے درمیان فرق پیدا کرتی ہے۔ویل بیئنگ سینٹر دراصل اس جدید تعلیمی فلسفے کی عملی شکل ہے جس میں طالب علم کو صرف ایک رول نمبر یا فائل نہیں بلکہ ایک مکمل انسان سمجھا جاتا ہے۔ آج کا طالب علم ایک ایسے دور میں تعلیم حاصل کر رہا ہے جہاں ہر قدم پر مقابلہ ہے، مستقبل کے حوالے سے خدشات ہیں، معاشی دباؤ موجود ہے اور سوشل میڈیا ذہن کو مسلسل بے چین رکھتا ہے۔ ایسے حالات میں اگر تعلیمی ادارہ صرف نصاب مکمل کرنے تک محدود رہے تو یہ طالب علم کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ یونیورسٹی آف لاہور نے ویل بیئنگ سینٹر قائم کر کے اس ناانصافی کا ازالہ کیا ہے۔ یہ بات بھی قابلِ تحسین ہے کہ ویل بیئنگ سینٹر کا دائرہ کار صرف طالب علموں تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ اساتذہ کو بھی اس کا برابر کا حصہ بنایا گیا ہے۔ ایک استاد اگر خود ذہنی دباؤ، تھکن یا جسمانی مسائل کا شکار ہو تو وہ کلاس روم میں مثبت سوچ اور توانائی منتقل نہیں کر سکتا۔ یونیورسٹی آف لاہور نے اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے اساتذہ کی ذہنی اور جسمانی صحت کو بھی اتنی ہی اہمیت دی ہے جتنی طالب علموں کی۔ ویل بیئنگ سینٹر میں ذہنی صحت کو کسی کمزوری یا شرمندگی کے طور پر نہیں بلکہ انسانی زندگی کے ایک فطری اور اہم حصے کے طور پر دیکھا جائیگا۔ ہمارے معاشرے میں آج بھی ذہنی مسائل پر بات کرنا آسان نہیں سمجھا جاتا۔ لوگ اکثر انہیں چھپاتے ہیں، خاموشی سے دباؤ برداشت کرتے ہیں اور اندر ہی اندر ٹوٹتے رہتے ہیں۔ یونیورسٹی آف لاہور نے اس خاموشی کو توڑنے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ پیغام دیا ہے کہ ذہنی صحت پر بات کرنا کمزوری نہیں بلکہ شعور اور خود آگاہی کی علامت ہے۔ ویل بیئنگ سینٹر میں باقاعدہ ماہرِ نفسیات تعینات کیے گئے ہیں، جو طالب علموں اور اساتذہ کو نفسیاتی مسائل کے بارے میں آگاہی فراہم کریںگے۔ یہ ماہرین نہ صرف مسائل کو توجہ سے سنے گے بلکہ جدید سائنسی اور طبی اصولوں کے مطابق رہنمائی اور علاج بھی فراہم کریںگے۔ یہاں ذہنی دبائو، اینگزائٹی، ڈپریشن، امتحانی خوف، کیریئر کے خدشات، ذاتی تعلقات کے مسائل اور خود اعتمادی کی کمی جیسے موضوعات پر پیشہ ورانہ کونسلنگ کی جائیگی۔ اس کے ساتھ ساتھ جسمانی صحت سے متعلق رہنمائی بھی فراہم کی جائے گی تاکہ ذہن اور جسم کے درمیان توازن قائم رکھا جا سکے۔ ویل بیئنگ سینٹر کی ایک اہم خوبی مکمل راز داری کا اہتمام ہے۔ طالب علم اور اساتذہ پورے اعتماد کے ساتھ یہاں رجوع کر سکتے ہیں کیونکہ ان کے مسائل کو عزت، احترام اور مکمل راز داری کے ساتھ سنا جائے گا۔ یہی اعتماد ذہنی صحت کی بہتری کی پہلی اور سب سے مضبوط بنیاد بنتا ہے۔ اس پورے وژن کے پیچھے دی یونیورسٹی آف لاہور کے چیئرمین اویس رئوف کی دور اندیش قیادت اور انسان دوست سوچ نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔ اویس رئوف تعلیم کو صرف ادارہ چلانے تک محدود نہیں سمجھتے بلکہ وہ اسے انسانی فلاح، معاشرتی بہتری اور قومی ترقی سے جوڑ کر دیکھتے ہیں۔ ویل بیئنگ سینٹر اسی وژن کا عملی اظہار ہے۔ چیئرمین اویس رئوف نے جس بصیرت، جرات اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ اس منصوبے کی سرپرستی کی ہے وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ جدید دنیا کے تعلیمی تقاضوں کو نہ صرف سمجھتے ہیں بلکہ انہیں پاکستان کے سماجی حالات کے مطابق نافذ کرنے کا حوصلہ بھی رکھتے ہیں۔ انہوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ اگر تعلیمی ادارے چاہیں تو معاشرے کی سوچ بدلنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ قومی سطح پر دیکھا جائے تو یونیورسٹی آف لاہور کا یہ اقدام ایک قابلِ تقلید مثال بن سکتا ہے۔ پاکستان ایک نوجوان آبادی والا ملک ہے جہاں تعلیمی اداروں پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ آنے والی نسلوں کو صرف ڈگری یافتہ نہیں بلکہ ذہنی طور پر مضبوط اور متوازن انسان بنائیں۔ ویل بیئنگ سینٹر اس سمت میں ایک مضبوط قدم ہے جو مستقبل میں مثبت اور دیرپا نتائج دے سکتا ہے۔ دنیا کی معروف جامعات میں ویل بیئنگ سینٹرز کو تعلیمی کامیابی کا لازمی جزو سمجھا جاتا ہے۔ یونیورسٹی آف لاہور نے اسی عالمی معیار کو پاکستان میں متعارف کرا کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ہماری تعلیمی ادارے بھی کسی سے کم نہیں۔ یہ ادارہ جدید سہولیات کے ساتھ ساتھ جدید سوچ کو بھی فروغ دے رہا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ یونیورسٹی آف لاہور کا ویل بیئنگ سینٹر کوئی عام شعبہ یا عمارت نہیں بلکہ ایک فکر ہے۔ ایک ایسی فکر جس کے مرکز میں انسان کھڑا ہے۔ چیئرمین اویس رئوف کے وژن اور یونیورسٹی کی قیادت نے اس فکر کو حقیقت کا روپ دے کر ایک نئی مثال قائم کر دی ہے۔ اگر پاکستان کی دیگر جامعات بھی اس مثال کو اپنا لیں تو وہ دن دور نہیں جب ہمارے تعلیمی ادارے علم کے ساتھ ساتھ ذہنی سکون، انسانی وقار اور معاشرتی بہتری کے حقیقی ضامن بن جائیں گے۔ دی یونیورسٹی آف لاہور نے پہلا قدم اٹھا لیا ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ اکثر یہی پہلا قدم سب سے زیادہ معنی خیز ثابت ہوتا ہے۔





