بھارت و افغانستان کیخلاف پاکستان کی مضبوط پوزیشن

بھارت و افغانستان کیخلاف پاکستان کی مضبوط پوزیشن
جنوبی ایشیا میں سیاسی اور جغرافیائی پیچیدگیاں ہمیشہ خطے کی ترقی اور سلامتی کے لیے خطرہ رہی ہیں، لیکن حالیہ برسوں میں بعض اہم مسائل نے اس خطے میں غیر معمولی اہمیت اختیار کرلی ہے۔ گزشتہ برس بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یک طرفہ معطلی نے پاکستان کے لیے ایک بڑا چیلنج پیدا کیا ہے جبکہ افغانستان میں طالبان کی حکمرانی اور بھارت کی بڑھتی ہوئی سفارتی مداخلت نے پاکستان کی قومی سلامتی کو مزید خطرات میں ڈال دیا ہے۔ ان مسائل پر عالمی میڈیا اور بین الاقوامی جریدے بھی اپنی رائے دے رہے اور پاکستان کے موقف کی قانونی اور انسانی بنیادوں پر حمایت کر رہے ہیں۔ سب سے پہلے بات کرتے ہیں سندھ طاس معاہدے کے بارے میں۔ سندھ طاس معاہدہ، جو 1960ء میں پاکستان اور بھارت کے درمیان طے پایا، پاکستان کے لیے پانی کی مسلسل فراہمی اور جنوبی ایشیا میں فوڈ سیکیورٹی کی بنیادی ضمانت ہے۔ یہ معاہدہ پاکستان کو سندھ، جہلم اور چناب دریائوں کے پانی کا قانونی حق دیتا ہے جب کہ بھارت کو مغربی دریائوں کے محدود استعمال کی اجازت حاصل ہے۔ اس معاہدے کی بنیاد پر پاکستان نے اپنی زرعی پیداوار اور پانی کے وسائل کی منصوبہ بندی کی ہے۔ لیکن بھارت کی حالیہ یک طرفہ کارروائیوں نے اس معاہدے کی بنیاد کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ دی نیشنل انٹرسٹ کے مطابق بھارت نے نہ صرف سندھ طاس معاہدے کی معطلی کی کوشش کی بلکہ پانی کے بہا کے بارے میں ضروری آبی ڈیٹا فراہم کرنے سے بھی انکار کردیا۔ یہ اقدام عالمی قوانین کی واضح خلاف ورزی ہے۔ عالمی ثالثی عدالت نے بھی بارہا واضح کیا ہے کہ بھارت معاہدہ یک طرفہ طور پر معطل نہیں کرسکتا اور پانی کو بطور اسٹرٹیجک ہتھیار استعمال کرنا بین الاقوامی سطح پر ناقابل قبول ہے۔ دی نیشنل انٹرسٹ کے مطابق بھارت کا دلہستی اسٹیج IIمنصوبہ بھی سندھ طاس معاہدے کے خلاف ایک قدم ہے، جس کا مقصد پاکستان کو پانی کے بحران میں مبتلا کرنا اور خطے میں اپنی اسٹرٹیجک پوزیشن مضبوط کرنا ہے۔ پانی کا بحران نہ صرف انسانی زندگیوں کے لیے خطرہ بن سکتا بلکہ خطے کی فوڈ سیکیورٹی، زرعی پیداوار اور معیشت پر بھی تباہ کن اثر ڈال سکتا ہے۔ بھارت کی یہ حکمت عملی پاکستان کے بنیادی حقوق کے خلاف ہے اور اسے بین الاقوامی سطح پر روکنا ضروری ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ قانونی، سفارتی اور بین الاقوامی فورمز پر اپنے موقف کو واضح کیا ہے۔ بھارت کی یک طرفہ کارروائیوں کے خلاف پاکستان کو عالمی عدالتوں اور بین الاقوامی برادری میں اپنا موقف مضبوطی سے پیش کرنا ہوگا تاکہ پانی کے حق کو قانونی طور پر یقینی بنایا جاسکے۔ دی نیشنل انٹرسٹ کی رپورٹ اس حقیقت کی تصدیق کرتی ہے کہ پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا عالمی قوانین کے خلاف ہے اور پاکستان کا موقف درست اور جائز ہے۔ دوسری جانب افغانستان میں طالبان کی حکمرانی بھی پاکستان کے لیے ایک نیا چیلنج بن چکی ہے۔ دی ڈپلومیٹ کے مطابق افغانستان کی طالبان رجیم کے اثرات سب سے زیادہ پاکستان پر پڑے ہیں۔ 2021ء میں طالبان کی واپسی کو پاکستان نے خطے میں استحکام کے موقع کے طور پر دیکھا، لیکن اس کے نتائج برعکس نکلے۔ طالبان کی حکمرانی کے دوران پاکستان کو دہشت گردی کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑا اور افغان سرزمین مسلسل پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہورہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں دہشت گردی کی واقعات میں افغان شہریوں کی شمولیت 70فیصد تک پہنچ گئی اور ٹی ٹی پی، القاعدہ اور داعش خراسان کے دہشت گرد سرگرم رہے۔ افغانستان میں بھارت کی سفارتی مداخلت بھی پاکستان کے لیے خطرے کا باعث ہے۔ بھارت نے کابل میں دوبارہ سفارتی موجودگی قائم کرکے طالبان قیادت سے روابط کو تیزی سے وسعت دی، جس سے پاکستان مخالف سرگرمیوں میں اضافہ ہوا۔ طالبان اور بھارت کے بڑھتے ہوئے روابط خطے میں عدم استحکام پیدا کر رہے ہیں اور پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے یہ ایک واضح خطرہ ہے۔پاکستان نے ان تمام چیلنجز کے باوجود صبر اور حکمت عملی کا مظاہرہ کیا۔ ابتدائی طور پر پاکستان نے تصادم کے بجائے مکالمے، ثالثی اور علاقائی سفارت کاری کو ترجیح دی۔ پاکستان نے ترکیہ اور قطر کی ثالثی میں طالبان سے مذاکرات کیے اور دہشت گردوں کی سرحدی علاقوں سے منتقلی پر بات چیت کی۔ متحدہ عرب امارات کی ثالثی سے ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کی سرحدی علاقوں سے منتقلی پر بھی اتفاق ہوا، مگر طالبان نے وعدوں پر عمل نہیں کیا۔ نتیجتاً دہشت گردی کی کارروائیوں کے جواب میں پاکستان کو ستمبر اور اکتوبر 2025ء میں افغانستان میں سرگرم ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا پڑا، لیکن اس کے باوجود پاکستان نے سفارتی راستے مکمل طور پر بند نہیں کیے۔ یہ تمام صورتحال اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے قانونی، سفارتی اور انسانی اقدامات کو ترجیح دی ہے جبکہ بھارت اور طالبان نے پاکستان کے خلاف یکطرفہ اقدامات کیے ہیں۔ پاکستان کی قربانی اور حکمت عملی کی بدولت نہ صرف انسانی جانی نقصان کو کم کیا گیا بلکہ خطے میں دہشت گردی اور پانی کے بحران کے بڑھتے اثرات کو عالمی سطح پر اجاگر کیا گیا۔ پاکستان کے موقف کی مضبوط قانونی اور اخلاقی بنیاد ہے۔ سندھ طاس معاہدہ اور بین الاقوامی قوانین پاکستان کو حق دیتے ہیں کہ وہ پانی کے قانونی حقوق کا تحفظ کرے جبکہ افغانستان کے ساتھ سرحدی مسائل اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات بھی پاکستان کے دفاعی اور قانونی دائرہ میں آتے ہیں۔ بھارت اور طالبان کی یکطرفہ کارروائیاں نہ صرف پاکستان کے خلاف ہیں بلکہ جنوبی ایشیا میں امن، ترقی اور استحکام کے لیے بھی خطرہ ہیں۔ جنوبی ایشیا میں پانی کی معطلی اور افغانستان کی صورتحال پاکستان کے لیے سنگین چیلنجز ہیں، لیکن پاکستان نے ہر موقع پر قانونی، سفارتی اور انسانی نقطہ نظر اپنایا ہے۔ دی نیشنل انٹرسٹ اور دی ڈپلومیٹ کی رپورٹس بھی واضح کرتی ہیں کہ پاکستان کے موقف کی حمایت عالمی سطح پر موجود ہے اور بھارت اور طالبان کے یکطرفہ اقدامات ناقابل قبول ہیں۔ پاکستان کی ذمے داری ہے کہ وہ اپنے پانی کے حقوق، سرحدی سلامتی اور قومی مفاد کا تحفظ کرے اور عالمی برادری کو یہ باور کرائے کہ خطے میں امن اور ترقی صرف قانونی، انسانی اور سفارتی بنیادوں پر ممکن ہے۔ پاکستان کا موقف ہر لحاظ سے درست اور قانونی ہے۔
اوورسیز پاکستانیوں کیلئے اہم قدم
پاکستان میں بیرون ملک مقیم ہم وطنوں کی سہولت اور ان کے حقوق کی حفاظت ہمیشہ ایک اہم موضوع رہی ہے۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی ( پی ٹی اے) نے ایک ایسا تازہ اقدام کیا ہے جو سمندر پار پاکستانیوں کے لیے بے حد اہمیت رکھتا ہے۔ نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، اب بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنی موبائل فون سروس میں تسلسل برقرار رکھ سکیں گے اور ان کی سم بیرون ملک قیام کے دوران بلاک نہیں ہوگی۔ یہ فیصلہ ایک ایسا قدم ہے جس سے اوورسیز پاکستانی نہ صرف پاکستان سے رابطے میں رہیں گے بلکہ اپنی موبائل سم کی ملکیت بھی برقرار رکھ سکیں گے ۔ پی ٹی اے کے اس اقدام کا مقصد بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو سہولت فراہم کرنا ہے تاکہ وہ ملک سے دور رہنے کے دوران بھی اپنی روزمرہ کی مواصلاتی ضروریات کو بلارکاوٹ پورا کر سکیں۔ اس سہولت سے اوورسیز پاکستانیوں کے لیے پاکستان میں اپنے کاروبار، خاندان اور دیگر ذمے داریوں سے جڑے رہنا آسان ہوجائے گا۔ اس کے ساتھ ہی، یہ اقدام بیرون ملک پاکستانیوں کو بااختیار بنانے کے عزم کا مظہر بھی ہے۔ پی ٹی اے نے واضح کیا ہے کہ بیرون ملک پاکستانی اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کے لیے اپنی متعلقہ موبائل کمپنی سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ یہ نہ صرف ایک سہولت ہے بلکہ ڈیجیٹل دنیا میں پاکستانی شہریوں کے حقوق کی توسیع کا بھی ایک اہم قدم ہے۔ بیرون ملک پاکستانی اکثر اپنے کاروباری، سماجی اور ذاتی رابطوں کے لیے موبائل فون پر انحصار کرتے ہیں اور اس سہولت سے ان کا رابطہ مستقل اور محفوظ ہو جائے گا۔ یہ فیصلہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کی ڈیجیٹل ترقی اور اوورسیز پاکستانیوں کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے مثبت تاثر قائم کرتا ہے۔ پی ٹی اے کی یہ حکمت عملی نہ صرف بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے سہولت پیدا کرتی ہے بلکہ انہیں ملک سے جڑے رکھنے اور پاکستانی شناخت برقرار رکھنے میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔ یہ اوورسیز پاکستانیوں کے لیے ایک خوش آئند قدم ہے۔ بیرون ملک پاکستانی اب بلا خوف اپنی موبائل سم برقرار رکھ سکیں گے اور ملک سے مستقل رابطہ قائم رکھ سکیں گے۔ یہ اقدام نہ صرف ان کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے بلکہ پاکستان کی ڈیجیٹل مواصلاتی خدمات کی ترقی کی جانب ایک مثبت پیش رفت بھی ہے۔ ایسے اقدامات بیرون ملک پاکستانیوں کے اعتماد کو بڑھاتے ہیں اور انہیں ملک سے جڑے رکھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔





