ColumnZia Ul Haq Sarhadi

فرشِ زمین سے عرشِ بریں تک

فرشِ زمین سے عرشِ بریں تک
ضیاء الحق سرحدی
واقعہ معراج اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے جو چشم زدن میں بظاہر رونما ہوا لیکن حقیقت میں اس میں کتنا وقت لگا یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ؐ بہتر جانتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ میں اپنے محبوب پیغمبر حضرت محمد ؐ کو اپنی قدرت کاملہ کا مشاہدہ کرایا۔ واقعہ معراج اعلان نبوت کے دسویں سال اور مدینہ ہجرت سے ایک سال پہلے مکہ میں پیش آیا۔ ماہ رجب کی ستائیسویں رات ہے اللہ تعالیٰ فرشتوں سے ارشاد فرماتا ہے ’’ اے فرشتوں ! آج کی رات میری تسبیح بیان مت کرو میری حمد وتقدیس کرنا بند کر دو آج کی رات میری اطاعت و بندگی چھوڑ دو اور آج کی رات جنت الفردوس کو لباس اور زیور سے آراستہ کرو۔ میری فرمانبرداری کا کلاہ اپنے سر پر باندھ لو۔ اے جبرائیلٌ! میرا یہ پیغام میکائیل ٌ کو سنا دو کہ رزق کا پیمانہ ہاتھ سے علیحدہ کر دی۔ اسرافیل ٌ سے کہہ دو کہ وہ صور کو کچھ عرصہ کیلئے موقوف کر دے۔ عزرائیل ٌ سے کہہ دو کہ کچھ دیر کے لئے روحوں کو قبض کرنے سے ہاتھ اٹھا لے۔ رضوان سے کہہ دو کہ وہ جنت الفردوس کی درجہ بندی کرے۔ مالک سے کہہ دو کہ دوزخ کو تالہ لگا دے۔ خلد بریں کی روحوں سے کہہ دو کہ آراستہ و پیراستہ ہو جائیں اور جنت کے محلوں کی چھتوں پر صف بستہ کھڑی ہو جائیں۔ مشرق سے مغرب تک جس قدر قبریں ہیں ان سے عذاب ختم کر دیا جائے۔ آج کی رات ( شب معراج) میرے محبوب حضرت محمدؐ کے استقبال کے لئے تیار ہوجائو ( معارج النبوہ)
چشم زدن میں عالم بالا کا نقشہ بدل گیا۔ حکم ربی ہوا، اے جبرائیلٌ ! اپنے ساتھ ستر ہزار فرشتے لے جائو، حکم الٰہی سن کر جبریل امین علیہ السلام سواری لینے جنت میں جاتے ہیں اور آپٌ نے ایسی سواری کا انتخاب کیا جو آج تک کسی شہنشاہ کو بھی میسر نہ ہوئی ہوگی۔ میسر ہونا تو دور کی بات ہے دیکھی تک نہ ہوگی۔ اس سواری کانام براق ہے۔ تفسیر روح البیان میں ہے کہ نبی کریم ؐ سے پہلے براق پر کوئی سوار نہیں ہوا تھا۔ ماہ رجب کی ستائیسویں شب کس قدر پر کیف رات ہے مطلع بالکل صاف ہے، فضائوں میں عجیب سی کیفیت طاری ہے۔ رات آہستہ آہستہ کیف و نشاط کی مستی میں مست ہوتی جا رہی ہے۔ ستارے پوری آب وتاب کے ساتھ جھلملا رہے ہیں۔ پوری دنیا پر سکوت و خاموشی کا عالم طاری ہے۔ نصف شب گزرنے کو ہے کہ یکا یک آسمانی دنیا کا دروازہ کھلتا ہے۔ انوار و تجلیات کے جلوے سمیٹے حضرت جبرائیل علیہ السلام نورانی مخلوق کے جھڑمٹ میں جنتی براق لئے آسمان کی بلندیوں سے اتر کر حضرت ام ہانیؓکے گھر تشریف لاتے ہیں جہاں ماہ نبوت حضرت محمدؐ محو خواب ہیں۔ آنکھیں بند کئے، دل بیدار لئے آرام فرما رہے ہیں۔ حضرت جبرائیل امینٌ ہاتھ باندھ کر کھڑے ہیں اور سوچ رہے ہیں کہ اگر آواز دے کر جگایا گیا تو بے ادبی ہو جائے گی۔ فکر مند ہیں کہ معراج کے دولہا کو کیسے بیدار کیا جائے ؟ اسی وقت حکم ربی ہوتا ہے: اے جبریل! میرے محبوب کے قدموں کو چوم لے تاکہ تیرے لبوں کی ٹھنڈک سے میرے محبوب کی آنکھ کھل جائے۔ اسی دن کے واسطے میں نے تجھے کافور سے پیدا کیا تھا۔ حکم سنتے ہی جبرائیل امین علیہ السلام آگے بڑھے اور اپنے کافوری ہونٹ محبوب دو عالم حضرت محمدؐ کے پائے ناز سے مس کر دیئے۔ یہ منظر بھی کس قدر حسین ہوگا جب جبریل امین علیہ السلام نے فخر کائنات حضرت محمد ؐکے قدموں کو بوسہ دیا۔ حضرت جبرائیل امینٌ کے ہونٹوں کی ٹھنڈک پاکر حضور ؐبیدار ہوتے ہیں اور دریافت کرتے ہیں اے جبرائیلٌ ! کیسے آنا ہوا ؟، عرض کرتے ہیں: یا رسولؐ اللہ خدائے بزرگ وبرتر کی طرف سے بلاوے کا پروانہ لے کر حاضر ہوا ہوں۔ یا رسول ؐ اللہ ! اللہ تعالیٰ آپ کی ملاقات کا مشتاق ہے، حضور ؐتشریف لے چلئے زمین سے لے کر آسمانوں تک ساری گزر گاہوں پر مشتاق دید کا ہجوم ہاتھ باندھے کھڑا ہے۔ ( معراج النبوہ)
چنانچہ آپؐ نے سفر کی تیاری شروع کی۔ اس موقع پر حضرت جبرائیل امین ٌ نے آپ ؐ کا سینہ مبارک چاک کیا اور دل کو دھویا۔ حضور ؐ کا ارشاد گرامی ہے کہ ’’ میرے پاس ایک آنے والا آیا اور اس نے میرا سینہ چاک کیا۔ سینہ چاک کرنے کے بعد میرا دل نکالا پھر میرے پاس سونے کا ایک طشت لایا گیا جو ایمان و حکمت سے لبریز تھا۔ اس کے بعد میرے دل کو دھویا گیا پھر وہ ایمان و حکمت سے لبریز ہو گیا۔ اس قلب کو سینہ اقدس میں اس کی جگہ پر رکھ دیا گیا‘‘۔ ( بخاری شریف جلد اول صفحہ : 568))۔
مسلم شریف میں ہے کہ حضرت جبرائیل ٌ نے سینہ چاک کرنے کے بعد قلب مبارک کو زم زم کے پانی سے دھویا اور سینہ مبارک میں رکھ کر سینہ بند کر دیا ( مسلم شریف جلد اول صفحہ:: 92)۔
حضرت جبرائیل ٌ فرماتے ہیں کہ قلب ہر قسم کی کجی سے پاک اور بے عیب ہے اور اس میں وہ آنکھیں ہیں جو دیکھتی ہیں اور دوکان ہیں جو سنتے ہیں ( فتح الباری جلد:13، صفحہ :610) ۔
سینہ اقدس کے شق کئے جانے میں کئی حکمتیں ہیں۔ جن میں ایک حکمت یہ ہے کہ قلب اطہر میں ایسی قوت قدسیہ شامل ہو جائے جس سے آسمانوں پر تشریف لے جانے اور عالم سماوات کا مشاہدہ کرنے بالخصوص دیدار الٰہی کرنے میں کوئی وقت اور دشواری پیش نہ آئے۔ پھر آپؐ کے سر انور پر عمامہ باندھا گیا۔
علامہ کاشفی فرتاتے ہیں: شب معراج حضرت محمدؐ کو جو عمامہ شریف پہنایا گیا وہ عمامہ مبارک حضرت آدمٌ کی پیدائش سے ساتھ ہزار سال پہلے کا تیار کیا ہوا تھا۔ چالیس ہزار ملائیکہ اس کی تعظیم و تکریم کے لئے اس کے ارد گرد کھڑے تھے۔ حضرت جبرائیلٌ نے سرور کونین حضرت محمدؐ کو نور کی ایک چادر پہنائی۔ زمرد کی نعلین مبارک پائوں میں زیب تن فرمائی، یاقوت کا کمر بند باندھا۔ ( معارج النبوہ، صفحہ:601)
حضور ؐنے براق کا حلیہ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: سینہ سرخ یا قوت کی مانند چمک رہا تھا، اس کی پشت پر بجلی کوندتی تھی، ٹانگیں سبز زمرد، ذم مرجان، سر اور اس کی گردن یا قوت سے بنائی گئی تھی۔ بہشتی زین اس پر کسی ہوئی تھی جس کے ساتھ سرخ یا قوت کے دو رکاب آویزاں تھے۔ اس کی پیشانی پر پر لا الہ الاللہ محمد رسول اللہ لکھا ہوا تھا۔ چند لمحوں کے بعد وہ وقت بھی آگیا کہ سرور کونین حضرت محمد ؐ براق پر تشریف فرما ہو گئے۔ حضرت جیرائیل ٌ نے رکاب تھام لی۔ حضرت میکائیل ٌ نے لگام پکڑی۔ حضرت اسرافیل ٌ نے زین کو سنبھالا۔ حضرت امام کاشفی ؒ فرماتے ہیں کہ معراج کی رات اسی ہزار فرشتے حضور ؐ کے دائیں طرف اور اسی ہزار بائیں طرف تھے۔ ( معارج النبوہ، ص 606)۔
فضا فرشتوں کی درود و سلام کی صدائوں سے گونج اٹھی اور آقائے نامدار حضرت محمد ؐ درود و سلام کی گونج میں سفر معراج کا آغاز فرماتے ہیں۔ اس واقعہ کو قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اس طرح بیان فرمایا ہے: ’’ وہ ذات ( ہر نقص اور کمزوری سے) پاک ہے جو رات کے تھوڑے سے حصہ میں اپنے ( محبوب اور مقر ّب) بندے کو مسجدِ حرام سے ( اس) مسجدِ اقصیٰ تک لے گئی جس کے گرد و نواح کو ہم نے با برکت بنا دیا ہے تاکہ ہم اس ( بندہِ کامل ) کو اپنی نشانیاں دکھائیں‘‘۔ ( النجم :18)۔
اس آیت مقدسہ میں بتایا گیا ہے کہ معراج کی رات حضور ؐ کی مقدس آنکھوں نے اللہ تعالیٰ کی بڑی بڑی نشانیوں ملک و ملکوت کے عجائب کو ملاحظہ فرمایا اور تمام معلومات غیبیہ کا آپؐ کو علم حاصل ہو گیا۔

جواب دیں

Back to top button