Column

رضا اور مشیت: مفہوم، غلط فہمیاں اور فکری انحرافات

رضا اور مشیت: مفہوم، غلط فہمیاں اور فکری انحرافات
شہرِ خواب ۔۔۔
صفدر علی حیدری۔۔۔
دین، فلسفہ اور تصوف کی تاریخ میں بعض اصطلاحات بظاہر سادہ لگتی ہیں، لیکن ان کے مفہوم میں گہرائی، باریکی اور پیچیدگی چھپی ہوتی ہے۔ ان اصطلاحات میں سب سے اہم دو الفاظ ہیں: رضا اور مشیت۔ انسانی فکر کے بڑے مباحث انہی دو بنیادی ستونوں پر قائم ہیں۔ اکثر لوگ ان دونوں کو یکساں سمجھ کر استعمال کرتے ہیں، جس سے فکری الجھائو، مذہبی مغالطے اور بعض اوقات شدید روحانی انحراف پیدا ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ علماء اور مفکرین نے صدیوں تک ان دونوں کی فرق اور تعلقات پر غور کیا۔ اس مقالے میں ان اصطلاحات کے حقیقی مفہوم، عوامی غلط فہمیوں اور ان کے اثرات کا علمی و تحقیقی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
عام گفتگو میں اکثر رضا اور مشیت کو مترادف سمجھ لیا جاتا ہے۔ عوامی شعور میں یہ بات راسخ ہے کہ جو کچھ کائنات میں ہو رہا ہے، وہ چونکہ اللہ کی "مرضی” سے ہے، اس لیے اللہ اس پر "راضی” بھی ہے۔ یہاں لفظ ‘مرضی’ کو صرف ‘پسند’ کے معنوں میں لینا وہ ابتدائی لغزش ہے جو آگے چل کر ‘جبر’ کے غلط تصور کو جنم دیتی ہے۔
مشیت کا مادہ ‘شائ’ ہے، جس کے معنی ‘چاہنا’ یا ‘ارادہ کرنا’ کے ہیں۔ یہ اللہ کا وہ تکوینی اذن ہے جس کے بغیر کوئی مادی وجود ممکن نہیں۔
رضا کا تعلق ‘خوشنودی’ اور ‘پسندیدگی’ سے ہے۔ یہ وہ روحانی مقام ہے جہاں اللہ کسی فعل کو پسند فرماتا ہے۔
لسانی اعتبار سے مشیت کا دائرہ "وقوع” (Occurrence) ہے، جب کہ رضا کا دائرہ "اخلاق و پسند” (Value and Approval) ہے۔
ارادہِ الٰہی کو سمجھنے کے لیے محققین نے اسے دو بنیادی حصوں میں تقسیم کیا ہے:
الف) مشیت ( تکوینی امر۔ Cosmic Will): مشیت سے مراد کائناتی سطح پر اللہ کا وہ قانون ہے جس کے تحت عالمِ خلق کا نظام چل رہا ہے۔ اس میں خیر و شر دونوں کے وقوع کی اجازت شامل ہے تاکہ امتحان کا مقصد پورا ہو۔ ارشادِ باری تعالیٰ کے مطابق انسان کی قوتِ ارادی بھی اللہ کی عطا کردہ مشیت کے تابع ہے ۔ یہ وہ طاقت ہے جو کافر کو کفر کرنے اور مومن کو سجدہ کرنے کے لیے یکساں فراہم کی جاتی ہے۔
ب) رضا ( تشریعی امر ۔ Moral Approval): رضا کا تعلق اللہ کی اخلاقی پسند سے ہے۔ اللہ عدل اور تقویٰ پر راضی ہے، مگر ظلم اور فساد سے راضی نہیں۔ قرآن میں واضح ہے: ’’ وہ اپنے بندوں کے لیے کفر کو پسند نہیں کرتا‘‘۔
یہ وہ مقام ہے جہاں شریعت، نبوت اور اخلاق کا دائرہ شروع ہوتا ہے۔ مشیت اور رضا کے درمیان ‘تلازم’ ( لازم و ملزوم ہونا) نہیں ہے ۔ اسے ہم چار صورتوں سے سمجھ سکتے ہیں:
مشیت اور رضا کا اجتماع: جیسے انبیاء کی اطاعت اور نیک اعمال۔ اللہ نے انہیں کرنے کی طاقت بھی دی اور انہیں پسند بھی فرمایا۔
مشیت ہے مگر رضا نہیں: جیسے فرعون کا تکبر یا یزید کا ظلم۔ یہ واقعات کائنات میں ہوئے ( مشیت کے اذن سے)، مگر اللہ ان پر ہرگز راضی نہیں تھا۔
رضا ہے مگر مشیت نہیں: اللہ چاہتا ہے کہ تمام انسان ہدایت یافتہ ہوں ( رضا)، لیکن اس نے اپنی مشیت کے تحت انسان کو مجبور نہیں کیا تاکہ ‘اختیار’ کا مادہ برقرار رہے۔
نہ مشیت نہ رضا: وہ برائی جو کائنات میں وجود ہی نہیں رکھتی۔
قرآنِ حکیم کی ان آیات پر غور کریں جہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے ‘ارادے’ کا ذکر کیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: "اللہ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے اور سختی نہیں چاہتا "۔ اگر کائنات میں ہونے والی ہر سختی اللہ کی رضا ہوتی تو یہ آیت تضاد کا شکار ہو جاتی۔ حقیقت یہ ہے کہ مشیت کے تحت اللہ نے اسباب و علل کی دنیا میں سختی اور آسانی دونوں رکھی ہیں، مگر اس کی ‘پسند’ (رضا) صرف آسانی اور خیر کے ساتھ ہے۔
رائی کا خالق ( وجود دینے والا) اللہ ہے ( مشیت کے تحت)، مگر اس کا فاعل ( کرنے والا) انسان ہے، اور جزا و سزا کا دارومدار اسی فعل پر ہے۔
تاریخِ اسلام میں دو بڑے مکاتبِ فکر نے ان اصطلاحات کو سمجھنے میں غلو سے کام لیا: جبریہ نے مشیت اور رضا کو یکساں سمجھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ظالم حکمرانوں نے اپنے مظالم کو "رضائے الٰہی” کہہ کر عوامی ردعمل کو دبایا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ چونکہ ہر فعل اللہ کی مشیت سے ہے، اس لیے انسان مجبور ہے اور جو کچھ ہو رہا ہے وہ اللہ کی رضا ہے۔ معتزلہ نے انسان کے اختیار کو بچانے کے لیے مشیتِ الٰہی کو محدود کرنے کی کوشش کی، جس سے توحیدِ افعالی کے تصور کو ٹھیس پہنچی۔
تصوف کے بعض سلسلوں نے "لا فاعل الا اللہ” کو غلط رنگ دیا، جس سے عملی زندگی میں بے عملی اور اخلاقی پستی نے جنم لیا۔
رضا اور مشیت کے خلط ملط ہونے سے معاشرے میں ایک خاص قسم کی نفسیاتی مایوسی جنم لیتی ہے۔ جب انسان اپنی سستی کو "اللہ کی مرضی” قرار دیتا ہے، تو وہ اپنی ذمہ داری سے فرار اختیار کرتا ہے۔ حقیقی مومن وہ ہے جو جانتا ہے کہ بیماری قانونِ فطرت ( مشیت) سے آئی ہے، مگر اس پر صبر کرنا اور علاج کرنا اللہ کی رضا ہے۔ رضا کا مقام ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنا نہیں، بلکہ تمام تر انسانی کوششیں بروئے کار لانے کے بعد نتیجے کو اللہ کے سپرد کر دینا ہے۔
امر بین الامرین امام جعفر صادقؒ کا قول اس بحث کا حاصل ہے: "نہ جبر ہے نہ تفویض، بلکہ ان دونوں کے درمیان ایک راستہ ہے”۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ فعل کی تخلیق (Creation)اللہ کی مشیت ہے، لیکن اس کا انتخاب (Selection)انسان کا اپنا ہے۔ اللہ نے انسان کو طاقت دی ( مشیت)، لیکن اس سے کسی کی مدد کرنا یا نقصان پہنچانا انسان کا اپنا فیصلہ ہی۔ جزا و سزا کا دارومدار اسی ‘انتخاب’ پر ہے، کیوں کہ اللہ نے پہلے ہی بتا دیا ہے کہ وہ کس کام پر راضی ہے اور کس پر ناراض۔
استاد اور شاگرد کی مثال یہاں بہترین ہے: استاد چاہتا ہے کہ شاگرد پاس ہو ( رضا) ۔ وہ اسے قلم اور پرچہ دیتا ہے ( مشیت) ۔ اگر شاگرد غلط جواب لکھے تو استاد اسے روکتا نہیں تاکہ امتحان کا مقصد رہے، مگر وہ اس غلط جواب پر راضی نہیں ہوتا۔ نتیجہ فیل ہونے کی صورت میں نکلتا ہے۔
حکیم الامت علامہ اقبالؒ اور مولانا رومیؒ نے بھی اسی توازن کو بیان کیا ہے۔ رومی کے نزدیک مشیت قدرت ہے اور رضا رہنمائی۔
اقبالؒ کی ہاں رضا کا مقام یہ ہے کہ بندہ اپنی چاہت کو رب کی چاہت کے سانچے میں ڈھال دے۔
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
آج کے مادی دور میں یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ اگر خدا خیر کا منبع ہے تو دنیا میں شر کیوں ہے؟ اس کا جواب رضا اور مشیت کے فرق میں ہے۔ شر کا وجود اللہ کی مشیت ( تکوینی ضرورت) ہے تاکہ اضداد کے ذریعے چیزوں کی پہچان ہو سکے، مگر اللہ اس شر سے راضی نہیں ہے۔ اس نے انسان کو عقل اور وحی دی تاکہ وہ شر کے اس سمندر میں مشیتِ الٰہی کے قوانین کو استعمال کرتے ہوئے رضائے الٰہی کے ساحل تک پہنچے۔
حاصلِ بحث یہ ہے کہ مشیتِ الٰہی وہ وسیع کینوس ہے جس پر کائنات کی تصویر گری کی گئی ہے، جبکہ رضا وہ رنگ ہے جس سے انسان کو اپنی زندگی کا شاہکار مکمل کرنا ہے۔ قیامت کے دن ہم سے "مشیت” کے بارے میں سوال نہیں ہو گا، کیونکہ سورج کا نکلنا یا موت کا آنا ہمارے اختیار میں نہ تھا۔ ہم سے سوال "رضا” کے بارے میں ہوگا کہ جب تمہیں خیر اور شر کے درمیان انتخاب کا حق دیا گیا، تو کیا تم نے اس راستے کو چنا جس سے تمہارا رب راضی تھا؟انسان کی عظمت کا راز اس بات میں نہیں کہ وہ مشیتِ خداوندی کو بدل دے، بلکہ اس میں ہے کہ وہ اپنی مشیت کو رضائے الٰہی کے تابع کر دے۔ جس دن انسان کی اپنی خواہش اللہ کی رضا کے سانچے میں ڈھل گئی، اسی دن ‘نفسِ مطمئنہ’ کی وہ منزل حاصل ہوگی جہاں بندہ اپنے رب سے راضی ہوگا اور رب اپنے بندے سے۔ حقیقی معرفت یہی ہے کہ انسان مشیتِ الٰہی کے سمندر میں رضا کی کشتی پر سوار ہو کر منزلِ مقصود تک پہنچے۔
اب آخری بات کہ ہر حرکت خالق کی مشیت کے تابع ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ ہر حرکت میں اللہ کی رضا بھی ہو۔ دوسرے لفظوں میں”ہر حرکت خالق کی مشیت کی قید میں ہے، مگر ہر حرکت میں اس کی رضا نہیں بستی”۔
ایک اور انداز سے عرض ہے "ہر فعل مشیتِ الٰہی کے تابع ہے، مگر صرف وہی عمل اللہ کی رضا کا حامل ہوتا ہے جو انسان کے اختیار سے نیکی کے سانچے میں ڈھلا ہو”۔

جواب دیں

Back to top button