Column

’’ سوشل میڈیا نوجوانوں کی ذمہ داری ایک جائزہ

’’ سوشل میڈیا نوجوانوں کی ذمہ داری ایک جائزہ‘‘
تحریر: میاں محمد توقیرحفیظ
ہمارے معاشرے کے لیے سوشل میڈیا کے فائدے کم اور نقصانات زیادہ ہوگئے ہیں اس وقت بے حیائی ، ایک دوسرے کی کردار کشی، جھوٹ بہتان تراشی کی بہتات ہے۔ سوشل میڈیا کے فوائد ( جیسے معلومات تک آسان رسائی) جیسے معاملات ہوتے ہیں۔ نوجوان اس کا استعمال مثبت طریقے سے کر سکتا ہے کیونکہ کس انسان کی جس قسم کی سوچ ہوگی اسی طرح سے اس پلیٹ فارم کا استعمال کرے گا۔ذاتی ذمہ داری کا کردار ایک تحقیق نے نشاندہی کی ہے کہ عام طور پر سوشل میڈیا کے نقصان کو انفرادی ذمہ داری پر زیادہ ٹھنکا جاتا ہے۔ نوجوانوں کو احتیاط اور خود کنٹرول کی ضرورت ہے۔ سوشل میڈیا کے منفی اثرات پر خبردار کرنے والی رپورٹیں تحقیق اور تجزیے بتاتے ہیں کہ سوشل میڈیا کا غلط استعمال نوجوانوں کی ذہنی صحت، وقت کے استعمال اور توجہ پر منفی اثر ڈال سکتا ہی، جس کے لیے ذمہ دارانہ صارف رویے کی ضرورت ہے۔
بچوں اور نو عمروں کے سوشل میڈیا استعمال پر سوشل میڈیا پر نوجوانوں کی ذمہ داری ایک قومی و سماجی ضرورت ہے۔ ڈیجیٹل دور میں سوشل میڈیا نوجوانوں کی زندگی کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے۔ فیس بک، انسٹاگرام، ایکس ( ٹوئٹر) ، ٹک ٹاک اور یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز نے جہاں اظہارِ رائے، تعلیم، روزگار اور معلومات کے بے شمار مواقع فراہم کیے ہیں، وہیں ان کے غیر ذمہ دارانہ استعمال نے نوجوان نسل کے لیے سنگین سماجی، اخلاقی اور نفسیاتی مسائل بھی پیدا کر دیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس صورتحال میں نوجوانوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سوشل میڈیا کو مثبت اور تعمیری مقاصد کے لیے استعمال کریں۔
ذمہ دارانہ استعمال کی اہمیتتعلیمی ماہرین اور سماجی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کا غیر ضروری اور حد سے زیادہ استعمال نوجوانوں کی ذہنی صحت، تعلیمی کارکردگی اور سماجی رویوں کو متاثر کر رہا ہے۔ جھوٹی خبروں، منفی پراپیگنڈے، سائبر بُلنگ اور غیر اخلاقی مواد تک آسان رسائی نوجوانوں کے لیے خطرناک ثابت ہو رہی ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے غلیظ زبان کا استعمال ایک دوسرے کی کردار کشی بہتان تراشی جیسے واقعات دیکھنے اور سننے کو بھی ملتے ہیں اس تناظر میں ضروری ہے کہ نوجوان ہر خبر، تصویر یا ویڈیو کو شیئر کرنے سے پہلے اس کی تصدیق لازمی کریں اور اپنی قومی، اخلاقی، دینی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔
سوشل میڈیا پر بغیر تحقیق کے معلومات پھیلانا معاشرے میں انتشار، غلط فہمی اور نفرت کو جنم دیتا ہے۔ ماہرین کے مطابق نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ کسی بھی حساس، مذہبی، سیاسی یا سماجی معاملے پر رائے دیتے وقت شائستگی، برداشت، اخلاقیات اور دلیل کو ملحوظِ خاطر رکھیں۔ نفرت انگیز زبان، کردار کشی اور ذاتی حملوں سے گریز ہی ایک مہذب ڈیجیٹل معاشرے کی بنیاد ہے۔ ذہنی صحت اور وقت کا درست استعمال دوسری طرف نفسیاتی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا کا مسلسل اور طویل استعمال نوجوانوں میں اضطراب، ڈپریشن اور احساسِ محرومی کو بڑھا رہا ہے۔ اس لیے وقت کی منصوبہ بندی، حقیقی زندگی کے تعلقات کو ترجیح دینا اور مثبت سرگرمیوں میں حصہ لینا نہایت ضروری ہے۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ سوشل میڈیا کو اپنی زندگی پر حاوی ہونے کے بجائے ایک معاون ذریعہ کے طور پر استعمال کریں۔ تعمیری اور مثبت کردار سوشل میڈیا نوجوانوں کے لیے اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے، سماجی مسائل پر آگاہی پھیلانے اور مثبت تبدیلی لانے کا ایک موثر ذریعہ بھی ہے۔ اگر نوجوان اس پلیٹ فارم کو تعلیم، تحقیق، کاروبار اور سماجی خدمت کے لیے استعمال کریں تو یہی سوشل میڈیا معاشرے کی ترقی کا ضامن بن سکتا ہے۔ خاندان اور اداروں کا کردار اگرچہ نوجوانوں کی ذاتی ذمہ داری بنیادی حیثیت رکھتی ہے، تاہم والدین، اساتذہ علمائے کرام اور تعلیمی اداروں پر بھی لازم ہے کہ وہ نوجوانوں کی مثبت اور عمدہ ٹریننگ کریں، انہیں ڈیجیٹل دینی سماجی فلاحی اخلاقیات سکھائیں اور سوشل میڈیا کے فوائد و نقصانات سے آگاہ کریں۔ حکومت، ریاست اور سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی ایسے قوانین اور پالیسیاں متعارف کرانے کی ضرورت ہے جو نوجوانوں کو نقصان دہ مواد سے محفوظ رکھیں اور ایسا مواد پیش کریں جس سے ہمارے معاشرے اور بالخصوص نوجوان طبقے کی ذہنی معاشی تربیت ہو۔
نتیجہ: ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ سوشل میڈیا نہ مکمل طور پر نقصان دہ ہے اور نہ ہی مکمل طور پر فائدہ مند، بلکہ اس کا انحصار صارف کے طرزِ استعمال پر ہے۔ اگر نوجوان شعور، اخلاق اور ذمہ داری کے ساتھ سوشل میڈیا استعمال کریں تو یہ نہ صرف ان کی ذاتی ترقی بلکہ پورے معاشرے کے لیے مثبت تبدیلی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ موجودہ حالات میں سوشل میڈیا پر نوجوانوں کی ذمہ داری ایک فرد کا نہیں بلکہ ایک قومی تقاضا بن چکی ہے۔

جواب دیں

Back to top button