Columnمحمد مبشر انوار

بے نقاب

بے نقاب
محمد مبشر انوار
اقتدار کا نشہ انسان سے کیسے کیسے کام کراتا ہے، اس کا مظاہرہ حالیہ تاریخ میں ہی کئی ایک ممالک میں دیکھ چکے ہیں، اس کے باوجود جب انسان طاقت کے نشے میں چور، بدمست ہاتھی کی طرح بروئے کار آتا ہے تو پھر وہ کسی اصول، قاعدے، قانون کو خاطر میں نہیں لاتا۔ ایسی ہی صورتحال کا سامنا اس وقت بھی ایک طرف غزہ کے نہتے مسلمانوں کو درپیش ہے تو دوسری طرف ایسی ہی سختی کا سامنا یوکرین کو ہے البتہ غزہ میں ہونے والی جارحیت اور یوکرین میں جاری جنگ میں زمین آسمان کا فرق ہے کہ کم از کم یوکرین جوابی جارحیت کرنی کی کچھ نہ کچھ صلاحیت رکھتا ہے جبکہ غزہ میں محبوس مسلمانوں کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ اسرائیلی سرزمین، جو پہلے فلسطینیوں کی اپنی سرزمین تھی، اس پر جوابی کارروائی کر سکیں۔ اس کی وجہ انتہائی سادہ ہے کہ فلسطینیوں کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ وہ اسرائیلی جدید ترین ہتھیاروں کا حصار توڑ سکیں البتہ اپنے طور پر جو کچھ بھی فلسطینی کر پاتے ہیں، وہ اس سے پیچھے ہٹنے کے لئے بھی تیار نہیں، اور فلسطینیوں کی اتنی سی جرات کے سامنے بھی اسرائیلی افواج تاحال بری طرح ناکام ہی دکھائی دیتی ہیں کہ غزہ میں عمارتوں کو ملبے کا ڈھیر بنا دینا کبھی بھی اسرائیل کی ترجیح نہیں رہی ہے۔ دوسری طرف یوکرین کی جنگ کے پیچھے بہرطور یوکرین کے اپنے فیصلوں کا بڑا عمل دخل ہے کہ روس اور امریکہ کے مابین ایک معاہدہ تو موجود ہے کہ امریکہ نیٹو کو روس کی سرحدوں پر نہیں لائے گا اور دونوں ممالک ایک دوسرے سے دور رہیں گے مگر یوکرین کے صدر نے اس ریڈ لائن کو کراس کرنے کے اپنے طور پر کوشش کی، اپنے قد سے اوپر اٹھنے کی کوشش کے نتیجہ میں نہ صرف اپنے ملک کو دائو پر لگا رکھا ہے بلکہ پوری دنیا کا امن اس وقت دائو پر لگا ہوا ہے۔ گو کہ جنگ بندی کے معاہدے کے لئے مسلسل کاوشیں جاری ہیں لیکن نجانے پس پردہ کون سے عوامل ہیں کہ زیلنسکی ایک طرف معاملات کو نپٹانے کی غرض سے کبھی یورپ تو کبھی امریکہ کا قصد کرتے ہیں، وہاں ان کی کوشش جنگ بندی کے لئے ہوتی ہے لیکن وطن واپسی پر پھر کسی نہ کسی نئی جارحیت کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں اور معاملہ مزید طول پکڑ جاتا ہے۔ روس کے لئے یقینی طورپر یہ کسی صورت قابل قبول نہیں کہ اس کی سرحدیں کسی ایسی ریاست کے ساتھ جا ملیں، جو براہ راست امریکی آشیرباد کے تحت ہو اور کسی ایسے معاہدے میں ہو کہ جس کی بنیاد پر کسی بھی چھیڑ خوانی کی صورت، امریکہ و روس دو بدو ہو جائیں۔ تاہم اس کے باوجود اس وقت تک جو لائحہ عمل امریکہ کی جانب سے دیکھنے کو مل رہا ہے، اس میں زیادہ امکانات یہی نظر آ رہے ہیں کہ نیٹو جیسا اتحاد اپنی طبعی عمر پوری کر چکا ہے اور صدر ٹرمپ بھی اس سے بہت حد تک نالاں دکھائی دیتے ہیں لیکن اس کے باوجود نیٹو کا وجود بہرطور موجود ہے اور روس کسی بھی صورت اس سے صرف نظر نہیں کر سکتا۔ البتہ یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ یوکرین کی درگت کے بعد، امریکی نئی ترجیحات کو مد نظر رکھتے ہوئے، اگر امریکہ ازخود نیٹو سے الگ ہو جاتا ہے یا بوجوہ نیٹو کا کردار ختم کر دیتا ہے، تو کیا روس اپنی پیش قدمی روک سکتا ہے یا موجودہ جارحیت کو ختم کر سکتا ہے؟ اس سوال کا جواب اتنا آسان نہیں کہ حتمی طور پر کچھ کہا جا سکے اس لئے اس پر کچھ کہنے کی بجائے، وقت کا انتظار زیادہ مناسب ہے اور اس سے بھی زیادہ پس پردہ کھیلی جانے والی چالیں جب تک آشکار نہ ہو جائیں، اس کی متعلق کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا۔ جبکہ روس کی جانب سے نیٹو خطرہ ٹلنے کے بعد، اس امر کی کون ضمانت دے سکتا ہے کہ روس صرف یوکرین تک ہی محدود رہے گا اور اس کی پشت پناہی کرنے والے یورپی ممالک سے اپنا حساب چکتا نہیں کرے گا بالخصوص اگر ان پر سے نیٹو کا سایہ بھی ہٹ جاتا ہے؟ لہذا عالمی سیاست کے متعلق، اتنی آسانی سے کچھ کہنا ممکن نہیں تو دوسری طرف صدر ٹرمپ کی غیر یقینی شخصیت کی موجودگی میں کوئی بھی حتمی رائے قائم کرنا ممکن نہیں ۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے جو معاملات سامنے آ رہے ہیں، ان میں تازہ ترین تو وینزویلا کی حقیقت ہے کہ ایک طرف صدر ٹرمپ، اپنے انتخابی منشور کے مطابق دنیا سے جنگیں ختم کرانے کے لئے اقتدار میں آئے ہیں جبکہ دوسری طرف، اسرائیل و روس جیسی ریاستوں کے سامنے، ان کے تمام اقدامات و احکامات ردی کی ٹوکری میں نظر آتے ہیں، البتہ کمزور ممالک کی فہرست پر نظر دوڑائیں تو یقینی طور پر پاک بھارت معاملہ ہی ایسا ہے، جس میں صدر ٹرمپ کے ایک فون نے جنگ رکوا دی۔ پاک بھارت جنگ بندی کے پس پردہ جو عوامل رہے ہیں، ان سے انکار بھی ممکن نہیں کہ اولا دونوں ریاستیں ’’ ایٹمی طاقتیں‘‘ ہیں تو دوسری طرف بہرطور یہ دونوں ریاستیں امریکی دبائو میں رہتی ہیں، پاکستان اپنے اندرونی سیاسی عدم استحکام و معاشی معاملات کے باعث جبکہ بھارت اپنی جگ ہنسائی سے بچنے کی خاطر، جنگ بندی پر مجبور ہوا حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ بھارت اس وقت جس طرح پیچ و تاب کھا رہا ہے اور ہر قیمت پر اس ہزیمت کا بدلہ چکانے کے لئے اتاولا ہورہا ہے، اس سے ہر کوئی بخوبی واقف ہے لیکن پاکستان کا خوف انتہائی بری طرح بھارت اور اس کی افواج پر اثر انداز ہو چکا ہے اور بھارت کے لئے اس سے فوری طورپر نکلنا اتنا آسان نہیں۔ بہرکیف جو اقدام صدر ٹرمپ کی جانب وینزویلا میں دیکھنے میں آیا ہے، خواہ امریکی تحفظات کتنے ہی حقیقی کیوں نہ ہو، ایک عالمی طاقت کے شایان شان ہرگز نہیں کہلوائے جا سکتے کہ بطور عالمی طاقت امریکہ ایک طرف عالمی قوانین کی پاسداری کی تبلیغ کرتا دکھائی دیتا ہے تو دوسری طرف امریکہ کی جانب سے ایسے اقدامات، اس کے قول و فعل کے تضاد کو بری طرح آشکار کرتے ہیں۔ اہم ترین بات یہ ہے کہ امریکی اس اقدام نے، امریکی عالمی طاقت کا بھرم سر بازار کھول کر رکھ دیا ہے کہ کسی بھی عالمی طاقت کا بھرم ہی اس کی اصل طاقت سمجھا جاتا ہے اور اگر عالمی طاقت مقامی غنڈوں کی طرح روبہ عمل آنا شروع ہو جائے، تو اس کی اوقات کیا ہو گی یا کیا ہو سکتی ہے؟ ایک ریاست کے منتخب صدر کا یوں ببانگ دہل اغوا، عالمی قوانین و تعلقات میں کس حیثیت میں لکھا جائے گا، کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں حالانکہ یہ حقیقت ہے کہ امریکہ دوسری ریاستوں میں ’’ رجیم چینج‘‘ آپریشن دہائیوں سے کرتا آ رہا ہے لیکن اس کا طریقہ کار ہمیشہ مختلف رہا ہے اور وہ ریاست کی حزب اختلاف کے ساتھ مل کر رجیم چینج آپریشن کرتا رہا ہے، جیسا اس نے کئی بار پاکستان میں بھی کیا ہے لیکن اس طرح کی براہ راست مداخلت، کسی بھی ریاست کی سالمیت و خود مختاری پر براہ راست حملہ تصور ہوتی ہے، جو کسی بھی وقت جنگ کے شعلے بھڑکانے کا سبب بن سکتی ہے۔ تاہم وینزویلا میں حقائق کسی اور طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ عبوری صدر کی جانب سے اولا یہ اعلان تو ہوا کہ ان کے صدر نکولس میدورو ہی ہیں اور وینزویلا ان کی فوری رہائی چاہتا ہے لیکن بعد ازاں نائب صدر ڈیلسی نے، آئین کے مطابق صدر کا حلف اٹھا لیا ہے اور شنید یہ ہے کہ وہ ایسے راستے پر چلنے کو ہیں کہ جس کے آگے کنواں اور پیچھے کھائی ہے۔ وینزویلا کی فوج، اپنے صدر کی حفاظت تو نہیں کر پائی البتہ عبوری صدر ڈیلسی کے لئے خطرات پیدا کرنے کے بھرپور تیاری میں دکھائی دیتی ہے، جبکہ مغوی صدر کی بازیابی کے لئے، فوج کا کوئی پلان تاحال سامنے نہیں آیا اور نہ ہی ایسے کوئی آثار دکھائی دیتے ہیں کہ وہ امریکہ کے ساتھ نبردآزما ہونے کو تیار ہیں، وینزویلا کے گوریلوں کی بات البتہ الگ ہے، جنہوں نے طویل عرصہ تک گوریلا جنگ لڑی ہے، امریکی جارحیت کی صورت میں، فوج کی بجائے، یہی گوریلے بروئے کار آتے دکھائی دیتے ہیں۔ صدر ٹرمپ کے وینزویلا میں اس براہ راست اقدام کے بعد اور اقتدار سنبھالتے ہی غزہ پر للچائی نظروں سے قبضہ جمانے کی خواہش کے علاوہ گرین لینڈ کا حصول یا کینیڈا کو اپنی ریاست کہنا، یہ تمام اقدامات، درحقیقت امریکی عزائم کو آشکار کرتے ہیں اور وہ لوگ جو صدر ٹرمپ کے متعلق یہ خام خیالی رکھتے تھے کہ وہ جنگیں بند کرائیں گے، نہ صرف ختم ہوتی نظر آرہی ہیں بلکہ صدر ٹرمپ نے اپنے چہرے پر لگایا امن پسندی کا نقاب بھی اپنے ان اقدامات سے الٹ دیا ہے اور بری طرح بے نقاب ہو چکے ہیں۔

جواب دیں

Back to top button