تازہ ترینخبریںسپورٹس

سدھو کو قتل کے مجرموں کے ساتھ کیوں رکھا جا رہا ہے؟

سال 1988 کے روڈ ریج کیس میں گرفتار ہونے والے کانگریس رہنما اور سابق بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو کو میڈیکل چیک اپ کے بعد گزشتہ روز پٹیالہ جیل بھیج دیا گیا۔

پنجاب کانگریس کے سابق صدر نوجوت سنگھ سدھو نے گزشتہ روز پٹیالہ جیل میں پہلی رات گُزاری جہاں اب وہ قیدی نمبر 241383 بن گئے ہیں۔

جیل کے اندر جانے کے بعد، سدھو کو ایک قیدی نمبر الاٹ کیا گیا اور بیرک نمبر 10 میں منتقل کر دیا گیا، جہاں وہ قتل کی سزا کاٹنے والے 8 قیدیوں کے ساتھ سیل شیئر کریں گے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ایک ذرائع نے بتایا کہ بیرک میں سدھو سیمنٹ سے بنے بستر پر سوئیں گے۔

رپورٹ کے مطابق سدھو کو جیل میں گزشتہ شام 7 بجکر 15 منٹ دال اور روٹی دی گئی۔ تاہم، انہوں نے خراب صحت کا حوالہ دیتے ہوئے وہ کھانے سے انکار کیا اور صرف سلاد اور کچھ پھل کھائے۔

دوسری جانب سدھو کے میڈیا ایڈوائزر نے کہا کہ ’سدھو کو گندم سے الرجی ہے اور جگر کا مسئلہ ہے اس لیے انہوں نے خصوصی خوراک کا کہا ہے، وہ کافی عرصے سے روٹی نہیں کھا رہے اور اُنہوں نے جیل منتقلی سے قبل ہونے والے طبی معائنے کے دوران بھی اس کے بارے میں معلومات دی تھیں۔‘

بھارتی میڈیا کے مطابق نوجوت سنگھ سدھو کو سفید کُرتا پاجامے کے چار سیٹ، ایک کرسی میز، ایک الماری، دو پگڑیاں، ایک کمبل، ایک بیڈ، ایک بنیان، دو تولیےاور ایک مچھر دانی فراہم کی گئی ہے اور ساتھ ہی کاپی، ایک قلم، جوتوں کا ایک جوڑا، دو بیڈ کور اور دو تکیے کے کور بھی دیے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ نوجوت سنگھ سدھو کو 1988 کے روڈ ریج کیس میں ایک سال قید کی سزا سنائی گئی۔

روڈ ریج مقدمے میں یہ الزام شامل ہے کہ 27 دسمبر 1988 کو سدھو نے گرنام سنگھ کے سر پر مکّامارا تھا جس سے ان کی موت ہوئی تھی۔

اس سے قبل بھارتی سپریم کورٹ نے سدھو پر 1000روپے جرمانہ عائد کرکے انہیں رہا کردیا تھا، تاہم اس حوالے سے ہلاک ہونے والے شخص کے خاندان نے نظرثانی درخواست دائر کی تھی، جس میں ان کو سزا سنائی گئی۔

سدھو نے بھارتی سپریم کورٹ کے پہلے کے حکم کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے خلاف روڈ ریج کیس کا دائرہ بڑھانے کی درخواست کی مخالفت کی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ گرنام سنگھ کی موت ضرب لگنے سے ہوئی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button