ColumnNasir Sherazi

سازش کہ دھمکی … ناصر نقوی

ناصر نقوی

لیجیے صاحب!ابھی سازش بے نقاب نہیں ہو سکی بلکہ یہ بھی ہم پتا نہ لگا سکے کہ سازش ہوئی بھی کہ نہیں، ’’اک نواں پواڑہ‘‘ پڑ گیا ہے۔ وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے فلور آف دی ہائوس کہہ دیا کہ دھمکی دی جارہی ہے فوراً انتخابات کرائو ورنہ مارشل لاء کے لیے تیار ہو جائو۔ یہ بات اگر عسکری قوتوں کی جانب سے کی جا تی تو یقیناً پریشانی کا باعث بنتی لیکن حیران کُن ہرگز نہیں ہوتی اس لیے کہ ہماری تاریخ گواہ ہے کہ پاکستانیوں نے ایک سے زیادہ مرتبہ مارشل لاء بھگتا ہے۔ تاہم یہ حقیقت کھل کر سامنے آ چکی ہے کہ جمہور کی ترقی ، خوشحالی اور فلاح و بہبود کے لیے جمہوریت ہی حقیقی حل ہے۔مارشل لاء کے حکمران خواہ کتنے ہی محب وطن اور باصلاحیت ہوں آئین و قانون کی بالا دستی کا خاتمہ کر کے صفر ہو جاتے ہیں ۔ دنیا ان کی حکمرانی تسلیم بھی کر لیتی ہے لیکن ان کی قدرو منزلت وہ بالکل نہیں ہوتی جو منتخب جمہوری رہنمائوں کی ہوتی ہے کیونکہ وہ زبردستی کے حکمران کہلاتے ہیں۔ ان کا عوامی رابطہ جمہوری حکومت کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور ان کی طاقت قانون کے بجائے دھونس ہی ہوتی ہے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ لمحہ موجود میں مارشل لاء کی دھمکی سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد دے رہے ہیںجو نہ صرف اپنے آپ کو جمہوری چیمپئن سمجھتے ہیں بلکہ ہر مارشل لائی حکومت کے مزے لوٹتے رہے ہیں۔

ایسا لگ رہا ہے کہ ایوان اقتدار کے مزے لوٹنے والوں سے دال کی پلیٹ بھی گِر گئی ہے اور روکھی روٹی کھائی نہیں جا رہی، حالانکہ سمجھداروں اور سیانوں کا انداز مختلف ہوا کرتا تھا ۔ ان کی دال گِر بھی جاتی تووہ روکھی سوکھی کھا کر بھی خوشی کا اظہار کرتے دکھائی دیتے لیکن اب تو تمام روایات رفتہ رفتہ دم توڑتی جا رہی ہیں۔ہم اور آپ ہی نہیں بلکہ تمام سیاستدان جمہوریت اور جمہوری اقدار کا دم بھرتے نہیں تھکتے، پھر بھی اپنے فیصلے کرتے وقت آمر بن جاتے ہیں الیکشن جیت جائیں تو ’’غیر جانبدارانہ‘‘،  ہار جائیں تو دھاندلی اور جانبداری کا ہنگامہ، ملک کی تینوں بڑی پارٹیاں بھی اسی روش پر چل رہی ہیں لیکن پی ٹی آئی دو ہاتھ آگے نکل چکی ہے، اسے اقتدار کیسے ملا؟ عوام سے زیادہ خواص ان کے حامی تھے صرف اس لیے کہ عوامی حلقوں سے پذیرائی نہ ملنے کے باوجود ہر طبقہ فکر میں یہ رائے موجود تھی کہ اب تیسری پارٹی کو چانس دیا جائے ۔ پھر خفیہ ہاتھ اور پس پردہ قوتیں بھی اسی سوچ سے متاثر ہو ئیں اور انہوں نے ’’خان اعظم‘‘ سے ہتھ جوڑی کی، انہوں نے بھی خواہش اقتدار میں اپنے ضدی،اصول پرست اور بانی ارکان کو چھوڑ کر اقتدار کی کرسی سے محبت کر لی۔ یوںاینٹی اسٹیبلشمنٹ، ممتاز ماہرین قانون حامد خان، جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد اور دیگر بانی ارکانِ تحریک انصاف نے اپنے منہ بند کرکے تماشا دیکھنا شروع کر دیا، تاہم اکبر ایس بابر سے عمران خان کے لیے سرکاری سند صادق و امین ہضم نہ ہوئی اور انہوں نے اپنے قائد کی شخصیت کی حقیقی خصوصیات عام کرنے کی ٹھان لی۔
فارن فنڈنگ کیس بھی زبان زدِ عام ہوا لیکن پہلے ’’ریاست مدینہ‘‘ کے والی عمران خان اقتدار کی چھڑی سے بچتے رہے اور پھر قانونی مصلحت پسندی نے ان کی رسی دراز کر دی، رائے عامہ یہی ہموار کی گئی ہے کہ اس حمام میں سب ننگے ہیں لہٰذا صرف ایک کو کیوں پکڑا جائے، اگر یہ معاملات غلط ہیں تو سب کو رگڑا ملنا چاہیے۔ بات تو کسی حد تک درست ہے صرف ایک سے تو جانبداری کا شور برپا ہو جائے گا۔ رعایت کا کوئی مستحق نہیں!
وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں علیحدہ علیحدہ نظریات اور منشور رکھتی ہیں۔ ہم نے مختلف معاملات پر اختلاف رائے کا اظہار بھی کیا اور جمہوریت کی خاطر کوئی غیر آئینی حربہ استعمال نہیں کیا کیونکہ ہم سب متفق ہیں کہ منتخب حکومت کو آئینی مدت پوری کرنی چاہیے ۔ ہم نے نہ چاہتے ہوئے بھی سلیکٹیڈ حکومت کو برداشت کیا لیکن جب ملک کو بحرانوں کی دلدل میں پھنسانے کی سازش دکھائی دی تو اپوزیشن نے تماشائی نہ بننے کا فیصلہ کیا اور نااہل و ناکام سابق حکمرانوں کو جمہوری طریقے سے ہٹایا۔ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ سب اتحادی ایک صف میں ہوں گے۔ پی ڈی ایم سے باہر ہو کر بھی پیپلز پارٹی نے اجتماعی سوچ کا ساتھ دیا۔اس لیے کہ ملک و قوم بحران میں تھے، ملک میں ہنگامی صورت حال تھی لہٰذا جنگ جیسے حالات میں نالائق حکمرانوں کا وزن اپوزیشن نے اپنے کندھوں پر اٹھا لیا، اپوزیشن بنچوں پر بیٹھ کر جو بحران دیکھا، اقتدار میں آ کر اس سے کئی گنا زیادہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سابق حکمرانوں نے اندازے سے زیادہ تباہی کی ہے۔ عمران خان، ڈپٹی سپیکراور صدر پاکستان مسلسل آئین پر حملہ آور ہیں لہٰذا ایک کمیشن ایسا بھی بننا چاہیے جو جائزہ لے کر قوم کو بتائے کہ کس کس نے آئین کی خلاف ورزی کی۔ دوسری جانب صدر پاکستان نے چیف جسٹس آف پاکستان کو خط لکھا ہے کہ بیرونی سازش کے تحقیقاتی کمیشن کی سربراہی وہ خود کریں۔ ہمارے ہاں حکومت کی تبدیلی کی بے شمار مثالیں موجود ہیں لیکن ضروری ہے کہ قومی و اجتماعی مفاد میں صرف سازش کی تحقیقات نہ کی جائیں بلکہ’’ دھمکی ‘‘واردات کا بھی کچھ کچا چٹھا سامنے آنا چاہیے۔ وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ پہلے الیکشن اصلاحات پھر الیکشن، موجودہ حالات کی نزاکت کا اندازہ کرتے ہوئے تمام سیاسی جماعتوں
کو ’’کوڈ آف کنڈکٹ‘‘ پر متفق ہونا چاہیے ۔ ورنہ سازش، دھمکیاں اوربداعتمادی کی فضاء میں انتخابات کے مثبت نتائج نہ نکل سکیں گے اور یہ ’’خونی‘‘ بن جائیں گے۔
بات ماضی کے حوالوں سے ’’خونی انقلاب‘‘ سے شروع ہوئی تھی،مصلحت پسندوںنے’’نرم انقلاب‘‘ کا نعرہ لگایااور تحریک انصاف نے مسلمانوں کے پاکستان میں ’’ریاست مدینہ‘‘کی یقین دہانی کے ساتھ دو نہیں ایک پاکستان کی خوشخبری سنائی، وہ میڈیا کے کندھوں پر سوار ہو کر آئے اور اقتدار سنبھالتے ہی میڈیا کا گلا دبا دیا۔ دنیا بھر سے دانشور، افلاطون ، بقراط اور سقراط اکٹھے کئے لیکن ’’انقلابِ مدینہ‘‘  نہیں لا سکے۔ نیا پاکستان بناتے بناتے پرانے کی شکل بھی بگاڑ دی۔ غریب سر چھپانے کے لیے 50لاکھ گھروں کی امید پر برسوں انتظار کرتے رہے اور نوجوان شب و روز حمایت میں ہلکان ہو کر ایک کروڑ ملازمتوں کے لیے تڑپتے رہے لیکن سب کچھ ’’کرونا‘‘ کے نام پر مشیر و وزیر کھا گئے۔ پس پردہ ہاتھ کھینچے گئے تو اکثریت اقلیت میں بدل گئی اس کے باوجود اناڑی کھلاڑی اپنے غرور، تکبر اور فخر سے باہر نہیں نکلے، اتحادی ناراض ہوئے کیونکہ تین سال انہیں کسی بھی سطح پر نہ اقتدار میں شامل کیا گیا اور نہ ہی عزت دی گئی۔ ردعمل میں اتحادیوں نے منہ موڑ لیا تو منانے کی بجائے ان پر بِکنے اور خطیر رقم لینے کے الزامات لگائے گئے اس طرح عاقبت نااندیشوں اور حکومتی نادان دوستوں نے اپنے اقتدار کے راستوں میں خود ہی بارودی سرنگیں کھود دیں۔ دھماکے شروع ہوئے تو گھبرانے کے باوجود ساتھیوں کو حقیقت حال بتانے کی بجائے نہ گھبرانے کا مشورہ دینے لگے۔
چند وفاداروں کے مشورے پر خان اعظم نے اتحادی جماعتوں کے سربراہوں سے حالات کی بہتری کے لیے دورے بھی فرمائے لیکن انکساری اور مشاورت کا فقدان رہا۔ تکبر اور غرور سے اکڑی گردن نے کسی سے دوستانہ انداز میں بھی تعاون یا حمایت کی بات نہیں کی۔ کیسی بات ہے کہ وزیر باتدبیر فواد چودھری نے صاف صاف بتا دیا کہ اقتدار کے منہ زور گھوڑے نے کسی کی نہیں سنی، حالات بگڑے تو اقتدار کے عرش سے عوامی فرش نشین ہو گئے پھر بھی خان اعظم کا بیانیہ غیر ملکی سازش بنا اور اب وہ ’’غلامی کہ آزادی ‘‘ کے نعرے پر جلسہ جلسہ کھیل رہے ہیں۔پی ٹی آئی کے کارکنوں کی پذیرائی سے مجمع بھی قابل فخر ہے۔ لہٰذا خان اعظم اونچی پرواز پر ہیں۔ ان کے کارِ خاص شیخ رشید احمد للکار رہے ہیں کہ ’’روک سکو تو روک لو‘‘ ہم اسلام آباد میں بیٹھنے جا رہے ہیں۔ ان کی یہ بھی دھمکی ہے کہ ’’لانگ مارچ‘‘ خونی بھی ہو سکتا ہے یعنی اشتعال انگیزی مسلسل جاری ہے۔ خان اعظم کا دعویٰ ہے کہ الیکشن کے اعلان تک اسلام آباد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے جبکہ مردِ حُر آصف زرداری کا کہنا ہے کہ الیکشن اصلاحات کے بغیر الیکشن کا کوئی فائدہ نہیں۔
مسلم لیگ نون جلدی الیکشن کی حامی تھی لیکن اب وہ بھی زرداری صاحب کے مؤقف پر آ چکے ہیں۔ حکومت اپنے ’’گرو ‘‘ میرا مطلب ہے کہ اپنے قائد میاں نواز شریف سے لندن میں ملاقات کر چکی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل کی منصوبہ بندی ایک اور لندن پلان کے مطابق کی جا چکی ہے۔ آئی   ایس پی  آر کے سربراہ میجر جنرل بابر افتخار بار بار یاد دہانی کرا رہے ہیں کہ فوج کو اپنا کام کرنے دیں۔ اسے سیاست میں نہ گھسیٹا جائے کیونکہ وہ غیر جانبدار ہے۔ سیاست یا انتخابات سے اس کا کوئی لینادینا نہیں۔ ہماری، آپ کی بلکہ ہر پاکستانی کی یہی خواہش ہے کہ قومی ادارے اپنی اپنی حدود میں رہ کر کام کریں۔ فوج سیاست میں نہ آئے اسی لیے وہ مارشل لاء پسند نہیں کرتے لیکن آکسفورڈ کے تعلیم یافتہ ہر دلعزیز سابق وزیر اعظم عمران خان نے غیر جانبدار کو نہ صرف ’’جانور‘‘ قرار دے دیا ہے بلکہ تواتر سے یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آپ سب بھی ان کی اس اصطلاح کو تسلیم کریں۔ ایسے میں صرف ایک نہیں، زیادہ تحقیقاتی کمیٹیاں بنانا ہوں گی بلکہ ان کی رپورٹ بھی عام کرنی ہو گی تاکہ سب کو پتہ چل جائے کہ سازش، دھمکی ہی نہیں ’’جانور‘‘ کون ہوتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button