تازہ ترینخبریںپاکستان سے

ملک میں شدید گرمی برقرار، شہریوں اور تعلیمی اداروں کو ایڈوائزری جاری

وزارتِ قومی صحت (این ایچ ایس) اور قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) نے علیحدہ علیحدہ ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے عوام اور تعلیمی اداروں کو متعدد اقدامات کرنے کی ہدایت دی ہیں تاکہ وہ خود کو ملک میں جاری ہیٹ ویو کے اثرات سے بچا سکیں، کیونکہ ملک کے کچھ حصوں میں درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی ریکارڈ کیا گیا ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق راولپنڈی اور اسلام آباد میں ہفتے کو پارہ 43 ڈگری ریکارڈ کیا گیا تھا، جبکہ گرمی کی شدید لہر 18 مئی تک جاری رہنے کا امکان ہے۔

اس ایڈوائزری کا مقصد متعلقہ حکام اور تعلیمی اداروں کو احساس دلانا ہے کہ وہ ہیٹ ویو سے بچنے کی تیاری اور ان سے متعلقہ علاقوں میں ہیٹ اسٹروک کے واقعات سے نمٹنے لیے مناسب اقدامات کریں۔

این آئی ایچ نے اپنی ایڈوائزری میں تعلیمی اداروں کے طلبہ کو شدید گرمی کے اثرات کم کرنے، گرمی سے متعلقہ بیماریوں کو کم کرنے اور اسکولوں کو گرم موسم کی شدت کے خطرات سے تیار رہنے کے لیے اقدامات تجویز کیے ہیں۔

ایڈوائزری میں بتایا گیا ہے کہ بچے اور نوجوان گرمی سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں لہٰذا اسکولوں کو انتہائی گرم موسم سے تیار اور اس سے متعلقہ خطرات سے نبردآزما ہونے کے لیے اقدامات کرنا چاہئیں۔

اسکولوں کے طلبہ کو گرمی سے متعلقہ بیماریوں سے بچانے کے لیے متعدد اقدامات پر زور دیا گیا۔

ایڈوائزری میں بتایا گیا کہ گرمی سے متعلقہ بیماریوں سے بچانے کے لیے طلبہ کو ٹھنڈے اندرونی ماحول میں رکھنا سب سے مؤثر طریقہ ہے، جبکہ شدید گرمی کے دوران سرگرمیوں کے لیے اندرونی جگہوں کا استعمال کرنا طلبہ کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے۔

مزید کہا گیا کہ بیرونی کھیل کی جگہوں کو ڈھکنے کے لیے مصنوعی شیڈز جیسا کہ ٹینٹس، چھتری اور ترپال کا استعمال کیا جانا چاہیے۔

تعلیمی اداروں کو پانی کے کولروں کی تعداد میں اضافے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

ایڈوائزری میں مزید کہا گیا ہے کہ بجلی کے پنکھوں کی بھی چلنے والی حالت میں رکھنے کو یقینی بنایا جانا چاہیے، پینے کے پانی کی وافر دستیابی طلبہ کو ہائیڈرڈ رکھنے میں مدد فراہم کرے گی۔

ایڈوائزری کے مطابق موسم سے مطابقت کے لیے مشق کرنے سے جسم میں تبدیلی رونما ہوتی ہے اور بار بار گرمی کا سامنا کرنے سے جسم اس ماحول کو اپنا لیتا ہے۔

موسم سے مطابقت کی مشق کرنے سے گرمی سے کم متاثر ہونے کے مضبوط شواہد ہیں۔

وزارت قومی صحت نے صحت سے متعلقہ ایجنسوں کو جاری کردہ ایڈوائزری میں بتایا ہے کہ ہیٹ اسٹروک سے بچاؤ کے لیے بَروقت اور مناسب اقدامات لیے جائیں۔

وزیر صحت عبدالقادر پٹیل نے لوگوں کو بیماریوں سے بچانے کے لیے مربوط اور مؤثر اقدامات اٹھانے کی تجویز دی۔

انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جارہے ہیں۔

وزارت قومی صحت کی ایڈوائزری کے مطابق ہیٹ اسٹروک ایسی طبی صورتحال پیش آتی ہے جو بَروقت علاج نہ کرنے کی صورت میں جان لیوا بھی ہوسکتی ہے۔

ایڈوائزری میں مزید بتایا گیا کہ اس کی علامات میں گرم اور خشک جلد، کمزوری، سستی، بخار، سردرد اور دل کی دھڑکن کا تیز ہونا شامل ہے۔

ہیٹ اسٹروک کا صحیح علاج نہ کیا جائے تو اس سے موت واقع ہوسکتی ہے، یہ اعضا کو خراب اور معذوری کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

ایڈوائزری کے مطابق شیرخوار بچے، 65 سال سے زائد شہری، بُلند فشار خون (بلڈ پریشر) اور ذیابیطس کے مریض، ایتھلیٹس اور باہر کام کرنے والے مزدوروں میں ہیٹ اسٹروک سے متاثر ہونے کے زیادہ خطرات ہیں۔

ایڈوائزری میں گرمی کے موسم میں زیادہ پانی پینا، سورج کے نیچے براہ راست یا زیادہ درجہ حرارت والی جگہوں پر جانے سے گریز کرنا، اپنے سروں کو کور کرنا اور ہلکے رنگ کے ڈھیلے ڈھالے کپڑے پہننے کی تجویز دی گئی ہے۔

سورج کے نیچے کام کرنے والے مزدوروں کو بہت زیادہ پانی پینا چاہیے۔

محکمہ موسمیات نے بتایا کہ ملک کے بیشتر حصوں کا ہیٹ ویو کی لپیٹ میں رہنے کا امکان ہے تاہم کچھ جگہوں پر 14 مئی سے 18 مئی کے دوران گرمی میں کچھ کمی آسکتی ہے۔

ملک کے مختلف مقامات پر گردآلود یا تیز ہوائیں، طوفانی بارشیں ہونے کی توقع ہے۔ دن کے اوقات میں درجہ حرارت میں 18 مئی سے مزید اضافے کا امکان ہے۔

ملک میں جاری گرم اور خشک موسم سے پانی کے ذخائر، فصلوں، سبزیوں اور باغات پر دباؤ ہوسکتا ہے، جبکہ گرمی میں اضافے سے بجلی اور پانی کی طلب میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے اسی لیے ان کا استعمال ضرورت کے مطابق کیا جائے۔

اس کے علاوہ گرم سورج اور نمی نے جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد میں لوگوں کو گھروں میں رہنے پر مجبور کر دیا۔

ہیٹ ویو کی مستقل لہر کے باعث درجنوں لوگ بے ہوش ہوگئے جنہیں ہسپتالوں میں داخل کرا دیا گیا، تاہم ڈاکٹروں نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ سڑکوں پر ڈھابوں سے کھانا کھانے سے گریز کریں۔

انہوں نے لوگوں کو اُبلا ہوا پانی پینے کا مشورہ دیا تاکہ ڈائریا سمیت دیگر بیماریوں سے بچا جاسکے۔

بجلی کی لوڈشیڈنگ

شہر کے تقریباً تمام علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے۔

مختلف علاقوں خاص طور پر بےنظیر بھٹو انٹرنیشنل پارک کے اردگرد رہنے والے لوگوں کو 6 سے 8 گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں فیصل کالونی، گلریز کالونی بھی شامل ہیں۔ صدر اور راجا بازار کے رہائشیوں نے بھی بجلی معطلی کی شکایات کی ہیں۔

فیصل کالونی کے رہائشی محمد نسیم نے بتایا کہ اس گرم موسم میں جمعرات کی رات 2 بجے سے صبح 11 بجے تک بجلی کے بغیر گزارنی پڑی جبکہ اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئی ای ایس سی او) نے کال بھی اٹینڈ نہیں کی۔

متعدد لوگوں نے کہا کہ رات کو نیند پوری نہ ہونے کے سبب ہمارا روزمرہ کا معمول متاثر ہوا ہے جبکہ دن میں ہمیں گرم موسم کی حدت برداشت کرنا پڑتی ہے۔

آئیسکو راولپنڈی ضلع کے اہلکار نے رابطے کرنے پر بتایا کہ گرم موسم کے باعث بجلی کی طلب میں بےتحاشہ اضافہ ہوچکا ہے جس کے سبب ٹرانسفارمرز میں نقائص پیدا ہوئے جنہیں تبدیل کرنے کے لیے وقت درکار ہے۔

انہوں نے کہا کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ نہیں ہورہی، بجلی کی معطلی فالٹس کے باعث ہوئی ہے۔

حتیٰ کہ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال میں جمعہ اور ہفتے کی شب بجلی نہیں تھی۔

زیادہ تر مریضوں کو ہسپتال کے لان میں منتقل کیا گیا تھا۔

راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد عمر نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ ہسپتال میں شارٹ سرکٹ کا مسئلہ تھا جسے انتظامیہ کی جانب سے بعد میں حل کردیا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button