ColumnNasir Naqvi

معصوم لوگوں کے چالاک لیڈر … ناصر نقوی

ناصر نقوی

مشہور بات ہے کہ جہاں بجتی ہے شہنائی وہاں ماتم بھی ہوتا ہے، لیکن آدم زادے کب ان باتوں کاخیال رکھتے ہیں، جو خوش ہیں وقت جن کا ساتھ دیتا ہے وہ سمجھتے ہیں سب کچھ ان کا ہے کسی دوسرے کی فکر کی ضرورت نہیں ،اللہ نے عزت ومقام دیا ہے اسے انجوائے کرو، جو غم و مایوسی میں مبتلا ہو جاتے ہیں ان کا خیال ہوتا ہے کہ شاید ان سے کوئی ایسی غلطی سرزد ہو گئی ہے جس کے باعث غم نصیب بن گئے ، لیکن ایک طبقہ اور بھی ہے جو خوشی ہے کہ غم ہر حال میں مست رہتا ہے اور ہر دو صورت میں جدو جہد ، لگن اور خلوص سے نہ صرف شکر خدا ادا کرتا ہے بلکہ مستقبل کے لیے کچھ نہ کچھ سوچتا ہے اسے اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کی فکر بھی لاحق ہوتی ہے وہ اپنی خوشی میں دوسروںکو شامل ہی نہیں رکھتا بلکہ ان کے غموں میں بھی رنجیدہ ہوتا ہے کیونکہ اس کے اچھے برُے اصولوں نے یہ سمجھا رکھا ہے کہ وقت ایک سا کبھی نہیں رہتا، مالک کائنات کبھی کچھ دے کر امتحان لیتا ہے تو کبھی کچھ چھین کر، لیکن جن لوگوں کو قدرت کے اس نظام کو سمجھنا چاہیے وہ اسے سمجھنے کے لیے رضا مند نہیں، موجودہ دور میں تبدیلی سرکار کی تبدیلی پر کھلاڑی پریشان اور جیالے و متوالے خوش ہیں ان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے طویل جدو جہد کرکے سلیکٹڈ حکومت کو گھربھیجا ہے نہ تجربہ کار حکمران ملک وقوم کے لیے نقصان دہ تھے،

انہوں نے قرضے نہ لینے کا وعدہ کر کے پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ قرضے لیے، معاون اور مشیر امریکہ برطانیہ سے درآمد کیے پھر بھی مسائل پر نہ قابو پاسکے اور نہ ہی اپنے وعدوں کے مطابق غریب عوام کو گھر و روزگار دے سکے ، کھلاڑی کہتے ہیں خان اعظم نے مشکل وقت گزار لیا اور جب ان کی حکومت کے اچھے دن آنے لگے تو بین الاقوامی سازش کے تحت مقامی سہولت کاروں کی مدد سے حکومت گرادی گئی،اس طرح عمران حکومت کی تمام تر محنت اور حکمت عملی ضائع ہوگئی ، اب پھر چوروں اور ڈاکوئوں کو اقتدار مل گیا ہے اور وہ پھر ماضی کی کہانی دوہرائیں گے، انہیں یہ نہیں پتہ کہ ان کی حکومت زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ سال کی مہمان ہے، آئین اور قانون کے تحت ہر قیمت پر انتخابات میں جانا پڑے گا پھر ہر طرف کھلاڑیوں کا راج ہوگا کہ ہر شخص اپنے نظریات اور لیڈروں کاپابند ہوتا ہے
لیکن بات اس قدر بڑھی کہ
پاکستانی قوم کے معصوم لوگ واضح طور پر دوحصوں میں تقسیم ہو چکے ہیں، مدینہ منورہ میں جو واقعہ پیش آیا اس بارے میں دو نہیں روزانہ کی بنیاد پر مختلف آراء سے میڈیا اور سوشل میڈیا سچے دکھائی دیتے ہیں، ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے ابھی انگریز کی سیاست کا اصول چل رہا ہے کہ تقسیم کرو اور حکومت کرو۔ دونوں گروپوں کے حمایتی اپنی اپنی ہانک کر ہر کسی کو قائل کرنا چاہتے ہیں چونکہ رواداری اور برداشت کا خاتمہ ہو چکا ہے اس لیے تصادم کی فضا بنتی نظر آرہی ہے جو ملک و ملت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے پھر چالاک لیڈر جذبات کی آگ بھڑکانا چاہتے ہیں ۔
سیاسی پنڈت سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد برملا ایک ٹی وی پروگرام میں کہہ چکے تھے کہ سعودی عرب جانے والے حکمرانوں کی مدینہ میں اچھی خاطر تواضح ہو گی جسے یہ ساری عمر یاد رکھیں گے ان کا یہ جارحانہ بیان ریکارڈ پرہی نہیں بلکہ سوشل میڈیا کی بھی زینت بنا ہوا ہے، اسی بنیادپر اتحادی حکومت کے رہنما اور مسلم لیگی متوالے یہ الزام لگاتے ہیں کہ واقعہ مدینہ ،اتفاقیہ ہر گز نہیں، وہ تبدیلی سرکار اور خان اعظم کی حکمت عملی سے رونماہوا کیوں کہ وہاں پی ٹی آئی کے وفادار جہانگیر چیکو موجود تھے جو بلوائیوں کو ٹکٹ اور اخراجات دے کر لائے تھے، اسی طرح واقعے کی ویڈیو شیخ رشید احمد کے بھتیجے صاحب بنا بنا کر لوڈ کر رہے تھے، یقیناً اسے بائی چانس نہیں کہا جاسکتا،دوسری جانب کھلاڑیوں اور ان کے چاہنے والوں نے یہ بیانیہ عام کیا کہ واقعہ مقدس جگہ پر نہیں ہوا، چور چور کے نعرے بازار میں پاکستانیوں نے لگائے ، وہاں دیکھا جاسکتا ہے کہ لوگ چپل پہن کر پھر رہے ہیں جب اس بیانیے کو ضرورت کے مطابق پذیرائی نہیں ملی تو پھر قائد کی یوٹرن پالیسی کا سہارا لے کر یہ کہا گیا کہ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب اور زین بگٹی نے ایڈوانس فیک ویڈیو بنوا کر واویلا کیا تاکہ جب ان کے دیگر اہم لوگ نکلیں تو انہیں خصوصی سکیورٹی میسر آجائے ، یہی نہیں اپنی بات کی نفی بھی کر دی کہ غیر ملکی وفود کے وی آئی پی انتظامات کیے جاتے ہیں جہاں چڑیا پر نہیں مار سکتی ،
مریم اور زین جان بوجھ کر سیکنڈل بنانے کے لیے وفد سے الگ ہو کر بازار میں آئے۔ ہم اور آپ اس معاملے میں یقیناً غیر جانبدار ہیں اور وہاں موجود نہیں تھے اس لیے دونوں بیانوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ جب سیاسی مخالفت ہو تو اسی قسم کی باتیں عام ہوتی ہیں، حقیقی واقعہ میں سب اپنی اپنی خواہش میں ہمت کے مطابق ملاوٹ کرلیتے ہیں لیکن بات یہ ہے کہ واقعہ ہوابلکہ اجتماعی مفاد میں سانحہ بھی کہا جاسکتا ہے واقعہ منصوبہ بندی سے کیا گیا کہ اچانک رونماہوگیا بہر کیف قوم کی سبکی ہوئی ، اَب یہ بحث چل رہی ہے کہ لوگ پکڑے گئے انہیں سزائیں ہوئیں کہ نہیں، متضاد بیانات اس سلسلے میں بھی پائے جاتے ہیں سابق وزیر اعظم عمران خان نے رواں ماہ کے آخری ہفتے کے لیے اسلام آبادمارچ کی کال بھی دے دی اور دعویٰ بھی کر دیا کہ میرا ایمان ہے کہ اسلام آباد میں عوام کا تاریخی سمندر ہو گا تخت اقتدار لرز جائے گا ۔اس سے پہلے خان اعظم نے عید الفطر پر گلے ملتے ہوئے امپورٹڈ حکومت نامنظور کہنے کا مشورہ دیا اس پر خان اعظم کے فرمان کے مطابق عمل نہیں ہوا لیکن ذرائع کا دعویٰ ہے کہ عید کی خوشیوں میں بدمزگی کے واقعات دیکھنے کو ملے اس لیے کوئی بھی اپنے مذہبی تہوار کو سیاسی بنانے کو تیار نہیں ، اسی طرح چاند رات کو نوجوانوں کو جھنڈے پکڑ کر نکلنے کا حکم بھی دیا گیا جو سکیورٹی انتظامات اور ناکوں کی موجودگی میں کسی حد تک کامیاب نہیں ہو سکا تاہم سابق وزیر داخلہ شیخ رشید ابھی بھی تیسری طاقت کی دھمکی دے رہے ہیں وہ دعویدار ہیں اور دبے لفظوں میں خانہ جنگی کا پیغام دے رہے ہیں اس ہنگامہ آرائی پر فیصل آباد میں ایف آئی آر درج ہوئی اور اس کے ویڈیومیکر بھتیجے راشد شفیق اسلام آباد ائیر پورٹ پر گرفتار بھی کر لیے گئے۔
خان اعظم عمران خان کا دعویٰ ہے کہ متحدہ اپوزیشن نے بیرونی سازش میں سہولت کار کا کردار ادا کر کے اقتدار پر قبضہ کیا جبکہ دنیا جانتی ہے کہ ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد آئی جس کی وہ دعا مانگا کرتے تھے اور اس کا دلیر نڈر وزیر اعظم نے سامنا نہیں کیا البتہ ان کے کھلاڑیوں نے ٹف ٹائم دیا اور رکن قومی اسمبلی علی محمد خان قابل داد ہیں جنہوں نے انتہائی کشیدہ حالات میں وہ دھواں دار تقریر کی جس کی امید عمران خان سے کی جاری تھی، آئین اور قانون کی پاسداری میں خان صاحب کے وفادار اسد قیصر سپیکر شپ چھوڑ کر چلے گئے اس لیے کہ آدھی رات کو گرفتاری کے لیے قیدی وین آچکی تھی ان کے آخری وقت کے استعفے نے دوہرا فائدہ پہنچایاخود بھی بچ گئے اور پارٹی قیادت سے وفاداری بھی نبھالی اسے کہتے ہیں چالاک لیڈر ، تاہم اس سارے سیاسی کھیل تماشے کے بعد آئینی بحران نے پنجاب کا رخ اختیار کر لیا یہاں بھی کھلاڑی خوب لڑے یہ الگ بات ہے کہ قانو ن کے ہاتھ لمبے ہوتے ہیں لہٰذا گورنر پنجاب عمر سر فراز چیمہ اپنے قانونی مشیروں کی مشاورت پر ایوان صدر سے خط و کتابت کا کھیل کھیلتے کھیلتے عثمان بزدار اور کابینہ کی بحالی کے باوجود ہاتھ ملتے رہ گئے ۔ چیف سیکرٹری پنجاب اور سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف آئے حمزہ شہباز شریف سے وزیر اعلیٰ کا حلف لیا اور حمزہ شہباز 21 ویں وزیر اعلیٰ پنجاب بن گئے، عام اور معصوم لوگوں کا خیال ہے کہ آئینی بحران ختم ہو گیا لیکن چالاک سیاستدان اور لیڈر کہتے ہیں کہ ابھی سیاست کے امتحان اور بھی ہیں پی ٹی آئی عدالت چلی گئی اور انٹرا کورٹ اپیل سماعت کے لیے منظور ہو گئی پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ حمزہ منتخب وزیر اعلیٰ نہیں ، نہ ہی ان کاحلف درست ہے لہٰذا نوٹیفکیشن معطل کیا جائے ۔ سابق صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان کہتے ہیں ابھی تو حکومت کوشدید بحران کا سامنا کرناپڑے گا سب کچھ غیر آئینی ہے، حمزہ شہباز اعتماد کا ووٹ کیسے لیں گے منحرف ارکان تو فارغ ہو جائیں گے۔
اگر موجودہ آئینی بحران اور سیاست کا تفصیلی جائزہ لیا جائے توڈر لگتا ہے کہ ہم قومی یکجہتی کا نعرہ تو لگاتے ہیں لیکن ہماری سیاست مسائل کے حل اور لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی بجائے دوریاں پیدا کر رہی ہے، دعویٰ سب کا ہے کہ وہ فلاحی معاشرے کی تشکیل چاہتے ہیں پھر بھی ہمارے عملی اقدام باہمی تفریق اور بے ادبی کی صورت حال سے دوچار ہیں سنجیدہ لوگ بھی سوشل میڈیا پر اپنی تکرار میں مگن ہیں کیونکہ لوگ معصوم اور لیڈر چالاک ہیں ۔ سیاست میں دست و گریباں ہونے کا کلچر آچکا ہے آئینی لڑائی پارلیمنٹ اور عدالتوں میں ہونی چاہیے ۔اس لیے کہ کسی سیاسی یا مذہبی لیڈر کے نظریات پر دوستوں اور رشتہ داروں سے تعلق داری خراب نہیں ہونی چاہیے کیونکہ یہ چالاک لیڈر آج کہیں ، کل کہیں اور کے قائل ہیں لہٰذاہمیں سوچنا ہوگا کہ دنیا داری میں شخصیت پرستی جہالت کی وہ قسم ہے جو اچھے بھلے شخص کی عقل پر پردہ ڈال دیتی ہے اس لیے احتیاط ضروری ہے کیونکہ معصوم لوگ ہیں اور لیڈر چالاک۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button