Columnعبدالرشید مرزا

سود پر وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ …. عبدالرشید مرزا

عبدالرشید مرزا

جہاں وطن عزیز میں سرمایہ دارانہ نظام اور سیکولرازم کی جڑیں مضبوط ہورہی ہوں، وہاں ٹھنڈی اور معطر ہوا کا جھونکا ویرانے میں بہار آنے سے کم محسوس نہیں ہوتا۔ آخر کار جماعت اسلامی پاکستان کی محنت رنگ لے آئی اور سود کی حرمت سے متعلق وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ 19سال بعد سنا دیا گیا ہے، کیونکہ سود کے بارے میں قرآن پاک اور احادیث سے بڑی سخت وعید ملتی ہے، اللہ تعالی نے فرمایا جو لوگ سود کھاتے ہیں،ان کا حال اس شخص جیسا ہوتا ہے، جسے شیطان نے چھوکر خبطی بنادیا ہو اور اس حالت میں ان کے مبتلا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں، تجارت بھی تو آخر سود ہی جیسی چیز ہے۔ حالاں کہ اللہ نے تجارت کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام۔لہٰذا جس شخص کو اس کے رب کی طرف سے یہ نصیحت پہنچے اور آئندہ کے لیے وہ سود خوری سے باز آ جائے تو جو کچھ وہ پہلے کھا چکا، سو کھا چکا،اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے اور جو اس حکم کے بعد پھر اسی حرکت کا اعادہ کرے، وہ جہنمی ہے، جہاں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا اور صدقات کو بڑھاتا ہے اور اللہ کسی ناشکرے بدعمل انسان کو پسند نہیں کرتا۔ اے ایمان والو، اللہ سے ڈرتے رہو اور اگر واقعی تم مومن ہوتو جو سود باقی رہ گیا ہے، اسے چھوڑدو اور اگر تم نے ایسا نہیں کیا تو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی جانب سے تمہارے خلاف اعلان جنگ ہے اور اگر توبہ کرلو تو تم اپنے اصل سرمائے کے حق دار ہو، نہ تم ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے(سورۃ البقرہ)حضور اکرمﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر سود کی حرمت کا اعلان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ (آج کے دن) جاہلیت کا سود چھوڑ دیا گیاہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ آج کے دن میں اُن کا سود جو دوسرے لوگوں کے ذمہ ہے، وہ ختم کرتا ہوں۔(صحیح مسلم ، باب حجۃ النبی ﷺ) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایاکہ ربا کے ستر اجزا ہیں۔

جن میں سے سب سے ہلکا یہ ہے کہ آدمی اپنی ماں سے نکاح کرے (مشکوۃ باب الربوا، ص:246)اور یہ وطن عزیز اسلام کے بعد بننے والی دوسری اسلامی ریاست ہے اس لیے حضرت قائد اعظم محمد علی جناح نے سنہ 1948 میں اسٹیٹ بنک کا افتتاح کرتے ہوئے فرمایاتھا کہ ہمارے معاشی ماہرین سود سے پاک اسلامی معاشی نظام کے لیے کام کریں کیونکہ مغرب کا نظام ناکام ہےوفاقی شرعی عدالت کی طرف سے حکومت کو سودی نظام ختم کرنے کے لیے پانچ سال کی مہلت دی گئی ہے۔ 19 برس بعد جاری فیصلے کے مطابق خلاف شریعت قرار دئیے گئے تمام قوانین یکم جون 2022
سے ختم ہو جائیں گے۔
وفاقی شرعی عدالت نے وفاقی حکومت کو پانچ سال کے عرصے میں سود کے مکمل خاتمے اور سود سے پاک بینکاری نظام نافذ کرنے کا حکم دیا ہے۔ وفاقی شرعی عدالت پاکستان کی ایک آئینی عدالت ہے جو ملکی قوانین کا اسلامی شریعت كے مطابق ہونے کا تعین کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔ وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ جماعت اسلامی کی جہد مسلسل کا نتیجہ ہے، وفاقی شرعی عدالت نے سود کے بارے میں سہولت کاری کرنے والی تمام قوانین اور شقوں کو غیر شرعی قراردیایوں خلاف شریعت قرار دئیے گئے تمام قوانین پاکستان میں یکم جون2022 سے ختم ہو جائیں گے۔ عدالت نے فیصلے میں پانچ سال میں 31 دسمبر 2027 تک تمام قوانین کو اسلامی  اور سود سے پاک اصولوں میں ڈھالنے کا حکم دیا۔ شرعی عدالت نے انٹرسٹ ایکٹ 1839 اور یکم جون 2022 سے سود سے متعلق تمام شقوں کو غیر شرعی قرار دیا اور اپنے فیصلے میں کہا کہ معاشی نظام سے سود کا خاتمہ شرعی اور قانونی ذمہ داری ہے۔ ملک سے رباکا ہر صورت میں خاتمہ کرنا ہو گا۔
وطن عزیزمیں ربا کا خاتمہ اسلام کے بنیادی اصولوں میں سے ہے۔ شرعی عدالت کے جسٹس سید محمد انور نے فیصلے میں کہا ہے کہ بینکوں کا قرض کی رقم سے زیادہ وصول کرنا ربا کے زمرے میں آتا ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ 2 دہائیاں گزرنے کے بعد بھی سود سے پاک معاشی نظام کے لیے حکومت کا وقت مانگنا سمجھ سے
بالاتر ہے۔
جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کا اِس معاملے پر کہنا تھا کہ وفاقی شرعی عدالت نے پاکستان میں سود پر پابندی لگائی ہے جو پہلے سے آئین کا تقاضہ تھا۔ سراج الحق نے بتایا کہ وفاقی شرعی عدالت نے 1991 میں بھی اس پابندی کا فیصلہ دیا تھا لیکن اس وقت کی وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ جا کر شرعی عدالت کے فیصلے پر سٹے آرڈر لے لیا تھا۔ آج شرعی عدالت کے ججز نے سود کے خلاف متفقہ فیصلہ دیا ہے۔اگرچہ فیصلے میں حکومت کو تمام قوانین کو بہتر بنانے کے لیے پانچ سال دیے گئے ہیں لیکن ہم چاہتے ہیں ایسا جلد سے جلد کیا جائے۔عدالت عالیہ کے فیصلہ میں اہم بات یہ ہے کہ پانچ سال کے اندر تمام شعبوں میں ہر طرح سے سود کو ختم کیا جائے گا۔ سود کا متبادل نظام تجویز کیا جائے گا۔
وطن عزیز میں سرمایہ دارانہ نظام کی جڑیں کافی گہری ہوچکی ہیں، سود کے خاتمے کے ساتھ اسلامی معاشی نظام کو نافذ العمل کرنے کی جدوجہد کا آغاز بھی ضروری ہے۔ یہ بات بہت اہم ہے کہ پانچ سال بعد جب بغیرسودی نظام نافذ العمل ہو گا تو کیا غربت ختم ہو جائے گی؟اسٹیٹ بنک کا کردار کیا ہوگا، مانیٹری پالیسی کس طرح مرتب کی جائے گی، کائیبور کا متبادل کیا ہوگا، نئے نوٹ جاری کرنے کا پیمانہ کیا ہوگا؟پاکستان میں موجودہ اسلامک بینکنگ سسٹم ہی متبادل نظام کے طور پر لیا جائے گا۔ اگر جواب ہاں میں ہے تو موجودہ اسلامک بینکنگ سسٹم کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ میری یہ رائے ہے کہ پانچ سال بعد پاکستان کے تمام بینک موجودہ اسلامک بینکنگ سسٹم میں تبدیل ہوجائیں گے۔ اس وقت ہمارا ملک51ٹریلین روپے کا مقروض ہے جس میں ملکی اور غیر ملکی ادارے شامل ہیں ان اداروں کو غیر سودی نظام میں سود کی ادائیگی کس طرح ہوگی؟
سٹاک مارکیٹ انڈیکس دوبارہ سے مرتب کرنے کی ضرورت ہے مارجن، فیوچر فائنانسنگ اور شارٹ سیلنگ کو ختم کرتے ہوے متبادل نظام پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ پراجیکٹس کے لیے ہم ایشین ڈویلپمنٹ بنک، ورلڈ بنک سے قرض لیتے ہیں جن سے منصوبے مکمل ہوتے ہیں۔ کیا ہم قرض کی جگہ پر ایکوئٹی سے منصوبوں کو مکمل کریں گے۔ اگر ہم اگلے پانچ سال تک اسی طرح بیل آؤٹ پیکیج آئی ایم ایف سے لیتے رہے تو خدانخواستہ ملک دیوالیہ ہو جائے گا، اگر ملک دیوالیہ نہیں ہوتا تو سوال پھر یہ پیدا ہوتا ہے ملک کی معیشت اتنی مضبوط ہو جائے گی جس سے ہمیں قرض لینے کی ضرورت نہیں پڑے گی؟ اگر قرض لینا پڑے گا تو اس پر سود کا متبادل کیا ہوگا۔ اس لیے سود سے بچنے کے لیے اگلے پانچ سال میں معیشت کا مضبوط ہونا ضروری ہے؟ اس فیصلے کو سیاسی محاذ پر جماعت اسلامی کو لڑنا پڑے گا ورنہ پچھلے فیصلے میں ڈھائی سال کی مہلت دی گئی تھی تاہم اب 30 سال گزر چکے ہیں، اب بھی لگتا ایسا ہے کہ اس میں توسیع لیتے رہیں گے۔ اگر کام کرنے کی نیت ہو تو 5 سال میں پورے نظام کو غیر سودی کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اگر سہولت کے ساتھ بھی کرنا ہے تو سالانہ 25 فیصد کا ٹارگٹ مقرر کیا جائے، 4 سال میں شفٹ ہوجائیں گے، پھر بھی ایک سال ہوگا جس میں اس دوران کوئی کمی بیشی ہوگی وہ پوری ہوجائے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button