تازہ ترینتحریک عدم اعتمادخبریں

نومنتخب وزیراعلیٰ پنجاب تاحال حلف نہ اٹھا سکے

پنجاب کے نومنتخب وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز کے گورنر ہاؤس میں حلف اٹھانے کی افواہیں گزشتہ روز اس وقت دم توڑ گئیں جب صدر عارف علوی نے ٹوئٹ کیا کہ لاہور ہائی کورٹ کے حکم سے متعلق وزیر اعظم کی سمری زیر غور ہے۔

لاہور ہائی کورٹ نے حمزہ شہباز کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے صدر پاکستان کو نومنتخب وزیر اعلیٰ پنجاب سے حلف لینے کے لیے نمائندہ مقرر کرنے کی ہدایت کی تھی، اس لیے ٹی وی چینلز پر ایسی کئی افواہیں چل رہی تھیں کہ سینیٹ چیئرمین یا صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی خود اس مقصد کے لیے لاہور پہنچیں گے۔

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی اسلام آباد میں ایوان صدر میں ڈاکٹر علوی سے ملاقات کے بعد صدر کی جانب سے یہ ذمہ داری ادا کرنے کی افواہوں کا رخ تبدیل ہوگیا اور سوشل میڈیا پر یہ اطلاعات گردش کرنے لگیں کہ یہ آئینی ذمہ داری ادا کرنے کے لیے صادق سنجرانی جلد لاہور پہنچ جائیں گے۔

تاہم یہ اطلاعات بھی اس وقت دم توڑ گئیں جب صدر پاکستان کے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل کی جانب سے کہا گیا کہ ’لاہور ہائی کورٹ کے 22 اپریل کو منظور ہونے والے حکم نامے کے حوالے سے 23 اپریل کو وزیر اعظم آفس سے موصول ہونے والی سمری اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے مطابق معزز صدر کے زیر غور ہے‘۔

حمزہ شہباز کے بطور وزیراعلیٰ پنجاب کی باگ ڈور سنبھالنے کے لیے بے چین مسلم لیگ (ن) کے لیے آئینی بحران تاحال برقرار ہے، پارٹی رہنما یہ اس بات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ اس وقت چیف ایگزیکٹو اور کابینہ کے بغیر ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل عطا تارڑ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ’یکم اپریل سے شروع ہونے والا آئینی بحران اب تک جاری ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ نے ہدایت کی تھی کہ حلف برداری میں تاخیر نہ کی جائے لیکن گورنر نے آئین پر عمل نہیں کیا اور مبینہ طور پر اپنے پارٹی رہنما کی ہدایت پر خود کو ہسپتال میں داخل کرا لیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button