تازہ ترینخبریںپاکستان سے

عثمان بزدار آج باضابطہ طور پر مستعفی ہوگئے

عثمان بزدار ساڑھے تین سال سے زائد عرصے تک وزارت اعلیٰ کےعہدے پر رہنےکےبعد آج باضابطہ طورپرمستعفی ہوگئے۔ان کا استعفیٰ  گورنر پنجاب نے منظورکرلیا۔

جمعہ یکم اپریل کو گورنر پنجاب نے وزيراعلیٰ پنجاب کا استعفی منظورکیا۔پنجاب اسمبلی کا اجلاس 2 اپريل کو طلب کرلیا گیا۔اجلاس کے ایجنڈے میں نئے وزیر اعلی کا انتخاب شامل ہے۔عثمان بزدار کا استعفیٰ منظورہونےکے بعد تحريک عدم اعتماد غيرموثر ہوگئی ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے جمعرات کو راولپنڈی میں آخری سرکاری تقریب میں شرکت کی تھی۔ عثمان بزدار نےاپنا سرکاری دفترجمعرات کوخالی کردیا تھا۔

وزيراعلیٰ پنجاب کے استعفیٰ کی منظوری کے بعد گورنرہاؤس نےاسمبلی سيکرٹريٹ کوآگاہ کردیاہے۔

واضح رہے کہ عثمان بزدارنے3روزقبل استعفیٰ وزيراعظم عمران خان کوپيش کيا تھا۔ عثمان بزدار کے مستعفیٰ ہونے پر اسپیکرپنجاب اسمبلی پرویز الہیٰ کو پی ٹی آئی کی جانب سے نیا وزیراعلیٰ پنجاب نامزد کیا گیا۔

تیس مارچ بروز بدھ کوعلیم خان گروپ نے (ق) لیگ کو وزیراعلیٰ پنجاب کا ووٹ دینے سے انکار کردیا۔

علیم خان گروپ کے ترجمان میاں خالد محمودنےبتایا تھا کہ عمران خان جن القابات سے پرویز الہی کو بلاتے تھے ہم تو انہیں دہرانے کی جسارت بھی نہیں کرسکتے۔

انھوں نے کہا کہ پہلے 4سال ایک بے ایمان اور نکمے شخص عثمان بزدار کو مسلط رکھا اور اب پرویز الہی کو نامزد کردیا۔

علیم خان گروپ نے سوال اٹھایا کہ وہ پی ٹی آئی جانثار جنہوں نے نئے پاکستان میں عمران خان کا ساتھ دیا،کیا اُن میں سے 184 ارکان میں سے ایک بھی وزیراعلیٰ بننے کا اہل نہیں تھا؟۔ تحریک انصاف کے ہر مخلص کارکن کو پرویزالہی کی نامزدگی پر اعتراض ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button