تازہ ترینحالات حاضرہخبریںروس یوکرین تنازع

اقوام متحدہ میں روس کےمندوب نےفوجی کارروائی کوجائز قرار دیدیا

اقوام متحدہ میں روس کے مندوب واسیلی نیبنزیا نے یوکرین میں روس کی جانب سے فوجی کارروائی کو اقوام متحدہ چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت جائز قرار دیا ہے۔

غیر ملکی خبر ایجنسی دی گارجین کے مطابق اقوام متحدہ کے چارٹر کا آرٹیکل 51 روس کو ’’اپنے دفاع‘‘ کی اجازت دیتا ہے۔

اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں واسیلی نیبنزیا نے مشرقی یوکرین کے خطے ڈونباس میں فوجی کارروائی سے متعلق روس کے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔

نیوز ایجنسی رائٹرز کے مطابق واسیلی نیبنزیا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو روسی صدر کے مشرقی یوکرین میں خصوصی فوجی آپریشن کے اعلان کے بارے میں بتایا۔

روسی مندوب نے کہا کہ ملٹری آپریشن کا ذمہ دار یوکرین خود ہے کیونکہ یوکرین کئی سالوں سے اپنے فرائض کو سبوتاژ کرتا آیا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ روسی آپریشن کا مقصد مشرقی یوکرین کے روسی حمایت یافتہ علیحدگی پسند علاقوں میں رہنے والوں کی حفاظت کرنا ہے، جو آٹھ سالوں سے یوکرین کی گولہ باری سے خوفزدہ ہیں۔

روسی مندوب نے مزید کہا کہ ’’ڈونباس میں یوکرین نے اشتعال انگیزی صرف جاری نہیں رکھی بلکہ اس میں اضافہ کیا اور اس وجہ سے ڈونیسک اور لوہانسک کے علیحدگی پسند رہنماؤں نے روس سے مدد کی درخواست کی‘‘۔

اقوام متحدہ میں یوکرین کے سفیر نے جواب میں کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے ’’ہمارے ملک پر جنگ‘‘ کا اعلان کیا ہے۔

واضح رہے کہ روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے یوکرین میں فوجی آپریشن کا اعلان کر دیا ہے جس کے بعد یوکرین سے موصول اطلاعات کے مطابق یوکرین کے دارالحکومت کیف میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button