Column

 انسانی صحت کے قاتل …. امتیاز احمد شاد

امتیاز احمد شاد

اِس وقت معاشرے میں اگر کسی طبقے کی اجارہ داری نظر آتی ہے تو وہ ملاوٹ کرنے والوں کی ہے جوبددیانتی، دھوکے بازی، انسانی صحت کے قاتل اور نسل کشی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اِس جرم کے ذریعے نہ صرف انسانی جانوں سے کھیلا جاتا ہے بلکہ آنے والی نسلوں کو نئی بیماریوں کا پیدائشی تحفہ بھی دیا جاتا ہے تاکہ وہ کسی صورت معاشرے میں تندرست و توانا کردار ادا نہ کر سکیں۔بد قسمتی یہ ہے کہ ہمارے معاشرے کا ملاوٹ کرنے والوں کے خلاف ردعمل بھی افسوس ناک ہے۔پورا معاشرہ بے حس ہو چکا ورنہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ہمارے ارد گرد جعلی اشیا بنانے والے کارخانے موجود ہوں،اِن جعلی کارخانوں کے مالک وسیع و عریض گھروں میں رہ رہے ہوں، بڑی بڑی گاڑیوں پر پھر رہے ہوں اور معاشرہ اُن کو عزت واحترام سے اپنے درمیان قبول کر رہا ہو۔

ملاوٹ دراصل کسی شے میں اِس جنس کی کسی ناقص، کمتر یا کسی دوسری چیز کی آمیزش کا نام ہے۔ اِس لعنت سے ہماری جان چھوٹ جائے تو آدھے سے زیادہ بیماریاں خودبخود ختم ہو جائیں۔ دین متین نے ملاوٹ کی سختی سے ممانعت کی ہے۔ جامع ترمذی میں صحیح حدیث شریف منقول ہے کہ ”حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں، رسول اللہﷺ غلے کے ایک ڈھیر پر سے گزرے تو آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ اِس میں داخل فرما دیا، آپ ﷺ کی مبارک انگلیاں تر ہو گئیں تو استفسار فرمایا۔ یہ کیا ہے؟ غلے والے نے عرض کیا، یا رسول اللہﷺ بارش سے بھیگ گیا ہے، آپﷺ نے فرمایا اِسے اوپر کیوں نہیں کر دیا کہ لوگ دیکھ سکیں؟ پھر آپ ﷺنے فرمایا، جو دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں“ حدیث مبارکہ کی روشنی میں اگر من حیث القوم ہم اپنا جائزہ لیں تو کیا سوائے شرمندگی اور اِس وعید کے ہمارے ہاتھ کچھ آئے گا کہ ”ہم میں سے نہیں“؟ آج کیا نہیں ہو رہاہے؟دودھ تو کیا، کوئی شے بھی خالص دکھائی نہیں دیتی۔ حتیٰ کہ سبزیوں تک کو غلیظ اور کیمیکل زدہ پانی سے اُگا کر زہر آلود کر دیا گیا ہے۔ بچوں کے لیے جنک فوڈ بنانے کی فیکٹریاں گلی محلوں میں قائم ہیں جو اپنی ٹافیوں اور کینڈیز کے لیے مہنگا فوڈ کلر استعمال کرنے کی سکت نہیں رکھتیں تو کپڑے رنگنے والے رنگ کا استعمال کرکے نئی نسل کی رگوں میں سنکھیا بھر رہی ہیں۔ ملاوٹ زدہ اشیائے خورونوش کا مکمل احاطہ کرنے کی کوشش کی جائے تو ایک دفتر درکار ہے۔ اِس سے زیادہ بے حسی ایک مسلم معاشرے میں کیا ہوگی کہ بھینسوں کو انجکشن لگا کر زیادہ دودھ حاصل کیا جاتا ہے جسے پینے والے بچے بچیاں اپنی عمر سے بہت پہلے بالغ ہوتے جا رہے ہیں۔ اناج غیرخالص، گوشت میں پانی کے انجکشن لگا کر وزن بڑھایا جا رہا ہے، شہریوں کو مردہ جانوروں اور گدھوں تک کا گوشت تو کھلا دیا گیا، پیچھے کیا رہ جاتا ہے۔ مغرب میں ہزار برائیاں سہی لیکن ملاوٹ وہاں ایک جرم عظیم ہے جس پر قانون کی گرفت سے کوئی نہیں بچ سکتا،ہمارے ہاں کوئی قانون کی گرفت میں آتا نہیں تو کیا ہمارے ہاں قوانین موجود نہیں؟
ایسا ہرگز نہیں وطن عزیز میں اشیائے خورونوش سے متعلق 60سے زائد قوانین موجود ہیں اِس نوعیت کے دیگر قوانین کو بھی شامل کر لیا جائے تو تعداد 104تک جا پہنچتی ہے۔ اِس کے باوجود پوری قوم زہر خورانی کا شکار ہے۔ اِس پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔زیادہ سے زیادہ نفع کمانے اور راتوں رات امیر بننے کی دوڑ میں ہم اچھے برے کی تمیز بھولتے جا رہے ہیں۔ اصل مسئلہ دولت کے انبار لگانا ہے خواہ اِس کے لیے انسانی صحت اور انسان ہی قربان کیوں نہ کرنا پڑیں۔مردہ ضمیری کی انتہا ہے کہ مرچوں میں لکڑی کا برادہ رنگ کرکے ملایا جا رہا ہے۔ عام آدمی کھانے پینے کی روزانہ کی اشیاء کو معمول کے مطابق استعمال کرتا ہے کہ اِس سے اِس کی اور اہل خانہ کی صحت بہتر رہے گی لیکن اگر وہی اشیاء ملاوٹ شدہ ہیں تو وہ انسانی صحت کو تباہ کر دیں گی۔ دیکھا جائے تو ملاوٹ کا گھناؤنا کاروبار ظہور اسلام سے پہلے سے چلا آ رہا ہے مگر دین اسلام نے اِس سلسلے میں واضح ہدایات دی ہیں۔ جس کے بعد واضح کر دیا گیا ہے کہ کسی مسلمان کے ہاتھوں دوسرے مسلمان بھائی کو نقصان نہیں پہنچنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ معاشرے میں کوئی فرد چوری، ملاوٹ اور ناانصافی جیسے کام نہ کرے بلکہ ایک دوسرے کو فائدہ پہنچائے۔ کارو بار زندگی میں اگر کوئی چیز جس میں ذرا سا بھی نقص ہو وہ بھی اگر کسی کو بیچنی ہو تو وہ گاہک کو پہلے اِس کی خامی سے آگاہ کرے۔ملاوٹ کرنے والوں کے خلاف قانون بھی موجود ہے اور وقتاً فوقتاً متعلقہ ادارے ملاوٹ کرنے والوں کے خلاف کارروائی بھی کرتے رہتے ہیں مگر”مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی“کے مصداق ملاوٹ کرنے والوں میں کمی کی بجائے اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا ہے۔ کوئی ایسی شے نہیں جو ملاوٹ سے پاک قرار دی جا سکے۔ مردہ ضمیر لوگ چند پیسوں کے لالچ میں انسانی زندگیوں سے کھیل رہے ہوتے ہیں۔ اکثر حکومتی اداروں کی طرف سے اعلانات بھی سامنے آتے ہیں کہ فلاں تاریخ تک ملاوٹ کرنے والے اپنے آپ کو درست کر لیں ورنہ اِن کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور اِن کو جرمانہ کے علاوہ سزا بھی دی جائے گی۔ مگر اِن اعلانات پر عملدرآمد کم کم ہی دکھائی دیتا ہے۔
آج بھی شہروں، دیہاتوں میں ہر جگہ ملاوٹ والی اشیاء کھلے عام فروخت ہو رہی ہیں۔ اِس سے زیادہ فکر انگیز بات اور کیا ہو گی کہ تھوک فروش ہو یا پرچون والا اِس سے ایک ہی شے کی مختلف اقسام اور اِن کی مختلف قیمتیں وصول کی جا رہی ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر دکاندار سے سرخ مرچ، ہلدی، گرم مصالحے، دالیں، بیسن، طلب کرنے پر گاہک سے پوچھا جاتا ہے کہ کونسی اشیاء چاہئے، کتنے روپے کلو والی چاہئے اور دکاندار اِن کی دو تین قسمیں بھی بتا دیتا ہے۔ اب خریدار پر منحصر ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق کون سی چیز خریدتا ہے۔ دنیا بھر میں عموماً کھانے پینے کی اشیاء خالص اور اِن کے نرخ یکساں ہوتے ہیں مگر بدقسمتی سے وطن عزیز میں معاملہ اِس کے برعکس ہے اور دکاندار گاہک کو فخر سے بتاتا ہے کہ ہمارے پاس ہر قسم اور ہر معیارکی اشیاء موجود ہیں، خالص بھی اور ملاوٹ والی  بھی۔ ذرا غور کیجئے، کیا ایسی سوچ اور شعور کے ساتھ پروان چڑھنے والا معاشرہ اقوام عالم کی امامت کا خواب دیکھ سکتا ہے؟ مہنگائی،بے روزگاری،لوٹ مار،رشوت،بے حیائی ایسے معاملات ایک طرف(ان پر بحث چلتی رہے گی)خدا را ملاوٹ کرنے والوں کو انجام تک پہنچانا اور ملاوٹ کا سد باب نکالنا حکومت وقت کے ساتھ معاشرے کے تمام افراد کی ذمہ داری ہے تاکہ اپنی نسلوں کو ایسے درد ناک انجام سے محفوظ رکھیں جس کا نتیجہ سوائے تباہی کے کچھ نہیں۔ایسے بد بخت عناصر کے خلاف حکومت کو سخت ترین کریک ڈاؤن کرنا ہو گا،یقینا اِس نیک عمل میں ہر شخص حکومت کا ساتھ دے گا۔یاد رہے حضور اکرم ﷺ نے واضح فرما دیا کہ ملاوٹ کرنے والوں کا تعلق نہ تو اسلام سے ہے اور نہ ہی انسانیت سے تو ایسے کرداروں کو انجام تک پہنچانے میں ہی ہماری عافیت ہے۔اگر ملک و قوم کے لیے اور کچھ نہیں کر سکتے تو کم از کم نسلوں کی بقا کے لیے ملاوٹ کے خاتمے پر تو سب متفق ہو کر اِس جہاد میں بھر پور حصہ لیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button