تازہ ترینخبریںدلچسپ و حیرت انگیز

دجال کے رہنے کی جگہ کا سراغ مل گیا

بحرالکاہل کے ’ڈیول سی‘ یا شیطانی سمندر اور بحر اوقیانوس کے ’برمودا ٹرائی اینگل‘ میں کئی خصوصیات کے اعتبار سے مماثلت پائی جاتی ہے جو یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ دونوں میں ایسا تعلق ضرور ہے جو دنیا کی نظر سے پوشیدہ ہے۔

کہا جاتا ہے کہ اس پُراسرار جگہ پر بےشمار حادثے رونما ہوچکے ہیں، یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ دنیا میں یہ دو جگہیں ایسی ہیں جہاں قطب نما کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔

دونوں میں ہی متعدد بحری اور ہوائی جہاز غائب ہوچکے ہیں، اور تو اور ان علاقوں میں ایسے جہازوں کو بھی سفر کرتے دیکھا گیا جو برسوں پہلے غرق ہوچکے ہیں۔

دونوں میں ہی ایسی برقی لہریں اور مقناطیسی کشش بھی موجود ہے جو بڑے بڑے جہازوں کو تروڑ مروڑ کر رکھ دیتی ہیں۔

امریکی میڈیا کے مطابق ان ہی جگہوں پر خلائی اور دیگر حقائق سامنے لانے والوں کو قتل بھی کیا جا چکا ہے۔

کیا دجال برمودا ٹرائی اینگل میں رہتا ہے؟

رسول اکرم ﷺ کی ایک حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آج سے چودہ سو سال پہلے ہی دجال پیدا ہوچکا تھا اور اب وہ اپنی رہائی کا منتظر ہے۔

دجال کے رہنے کی جگہ ایک غیرآباد جزیرہ ہے، اس کے کارندے لمحہ با لمحہ دنیا اور انسانوں سے آگاہ کرتے رہتے ہیں، دجال کو غیر معمولی طاقتیں دی جائیں گی۔

صحیح مسلم کی حدیث کے مطابق حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ ’جان لو کہ دجال نہ شام کے سمندر میں ہے اور نہ ہی یمن کے سمندر میں، وہ مشرق میں ہے۔‘

اب عرب سے مشرق کی جانب دیکھا جائے تو ’ڈیول سی‘ یا شیطانی سمندر اور بحر اوقیانوس کے ’برمودا ٹرائی اینگل‘ ہی وہ دو جگہیں جنہیں یہودی بھی جہنم کا دروازہ مانتے ہیں۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ دونوں جگہوں کا ہی آخری سرا امریکا سے جا کر ملتا ہے۔

مصری محقق عیسیٰ داؤد نے اپنی کتاب ’مثلث برمودا‘ میں کہا کہ ’دجال بحر الکاہل کے ان غیرآباد اور ویران جزائر میں تھا، اور حضور ﷺ کے وصال تک وہ بیڑیوں میں جکڑا تھا، مگر آخری رسول ﷺ کے وصال کے بعد اسکی بیڑیاں ٹوٹ گئیں، اور وہ آزاد ہوگیا، مگر اسے خروج کی اجازت نہیں تھی، لہذا اب وہ ’ڈیول سے‘ سے ’برمودا ٹرائی اینگل تک رابطے میں ہے، جس کے قریب شیطانی تہذیب پروان چڑھ کر نقطہ عروج کو پہنچنے والی ہے۔‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button