Column

چیف جسٹس کی طرف سے لارجر بینچ بنانے کا معاملہ 

طارق خان ترین
چیف جسٹس آف پاکستان نے چھ ججز کی طرف سے لکھے جانے والے خط پر سپریم کورٹ کا سات رکنی لارجر بینچ بنا دیا ۔ حیران کن طور پر یہ سات رکنی بینچ سپریم کورٹ اور وزیر اعظم کی طرف سے رضا مندی کے بعد ایک رکنی کمیشن بنانے کے صرف دو دن کے بعد بنایا دِیا گیا جبکہ اس سے پہلے چیف جسٹس اور وزیراعظم کے مابین معاملات طے پا جانے کے بعد ایک رکنی کمیشن جسٹس تصدق جیلانی پر مشتمل بنا دیا گیا تھا۔ اب تصدق حسین جیلانی نے استعفیٰ دے دیا، اور ان کے استعفیٰ پر کچھ ناسمجھ سیاسی افراد اپنے سیاسی مقاصد کی تکمیل کے لئے اسے کامیابی قرار دے رہے ہیں جبکہ لارجر بینچ بننے کے بعد کمیشن کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہتی، تصدق حسین جیلانی کو تب فوری طور پر اپنے خط کے ذریعے معذرت کرنی چاہیے تھی جب لارجر بینچ نہیں بنا تھا۔ اس کمیشن کی تعیناتی کے فوری بعد سپریم کورٹ نے باقاعدہ پریس ریلیز ایشو کی تھی اور اس معاملے پر اچھی طرح سے بیان دیا کہ اس معاملے کے اندر کیا کیا ٹرمز آف ریفرنس (ToR) کو شامل کیا جائے گا اور کن کن معاملات پر تصدق جیلانی والا کمیشن اپنی انکوائری کرے گا اور ثبوتوں کی روشنی میں حقائق کو سامنے لے کر آئے گا۔
وزیراعظم اور چیف جسٹس کی ملاقات کے بعد تمام ماہرین اور عوام یہ سمجھ رہے تھے کہ چھ ججز کی جانب سے حساس ادارے پر سنگین الزامات لگائے جانے کے بعد یہ معاملہ اب اپنے منطقی انجام تک پہنچ جائے گا کیونکہ کمیشن کے ٹی آرز جو کہ گورنمنٹ اف پاکستان نے ایشو کیے ان میں یہ لکھا ہوا تھا کہ اس معاملے کی مکمل چھان بین کی جائے گی اور  چھ ججز جنہوں نے یہ الزامات لگائے ہیں ان کو ثبوت پیش کرنے پڑیں گے۔
گزشتہ روز اچانک چیف جسٹس سپریم کورٹ کی طرف سے سات رکنی لارجر بینچ بنانے کے اعلان کے بعد جو ایک بات بہت واضح طور پر مختلف حلقوں میں سامنے آرہی ہے وہ یہ ہے کہ اس لارجر بینچ بنانے کا مقصد ان چھ ججز کو ریلیف دینا مقصود ہے کیونکہ جو ایک رکنی کمیشن تھااُس کے سامنے اِن تمام چھ ججز کو پیش ہونا تھا اور پیش ہونے کے ساتھ ساتھ ان تمام ججز نے جو اپنے خط کے اندر الزامات لگائے تھے ان کو ثابت کرنا تھا لیکن اب چونکہ ایک لارجر بینچ سپریم کورٹ کا بنا دیا گیا ہے جہاں پر عمومی بات چیت کی جائیگی اور یہ خدشہ ہے کہ لارجر بینچ کی ہیئرنگ میں خط کے اندر لگائے گئے وہ مخصوص الزامات جو کہ ان چھ ججز نے لگائے ہیں ان کی کوئی خاطرخواہ انویسٹی گیشن نہیں کی جا سکے گی اور نہ ہی ان ججز کو ثبوت دینے کے لیے مجبور کیا جائے گا۔
ایک طرح سے یہ واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ نے یہ لارجر بینچ تشکیل صرف اس لیے کیا ہے کہ اپنے چھ ججز کو کوئی ریلیف دیا جائے کیونکہ کمیشن کے سامنے ان ججز کو ثبوت پیش کرنا ان کی مجبوری تھی اور ثبوت پیش کیے بغیر ان کے خلاف سخت ایکشن لیا جا سکتا تھا لیکن اب آپ یہ دیکھیں گے کہ اس لارجر بینچ کی تشکیل کے بعد کوئی ثبوت نہیں مانگے جائیں گے اور اس کا جو فیصلہ ہوگا وہ بھی موٹی موٹی باتیں کر کے اس کیس کو دفتر داخل کر  کے بھگتا دیا جائے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ جن ججز نے ریاستی اداروں پر الزامات لگائے ہیں ان کی ہر طرح سے انویسٹی گیشن ہونی چاہیے، اگر تو یہ الزامات سچ ثابت ہوتے ہیں تو ملوث افراد کے خلاف کارروائی ہونی ضرور چاہیے وگرنہ ان ججز کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور پتہ کرنا چاہیے کہ ایسے کون سے عوامل ہیں کہ جنہوں نے ملک میں جاری پروپیگنڈوں کی بھرمار کو مزید تقویت بخشی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button