Column

اسلام نے عورتوں کو عزت و زندگی بخشی مغرب نے رسوا کیا

علامہ عبدالخالق آفریدی

ہر سال 8مارچ کے دن خواتین حقوق کا عالمی دن منایا جاتا ہے جس کا پس منظر کچھ اس طرح بیان کیا جاتاہے کہ آج سے سوا سو سال قبل امریکہ میں چند ملازم پیش خواتین نے اپنے معاوضوں میں اضافے کیلئے جب اجتماع کیا تھا تو ان پر پولیس کے گھڑ سوار دستوں نے چڑھائی کرکے قتل و غارت گری کے ذریعے اس اجتماع کو کچل دیا اس کے بعد امریکی عوام نے خواتین حقوق کیلئے اجتماعی آواز اٹھائی اور حکومت کو خواتین حقوق کی ادائیگی پر مجبور کردیا جس کے نتیجے میں 1908ء کو امریکی حکومت نے وویمن نیشنل کمیشن قائم کیا۔ آہستہ آہستہ پوری دنیا میں خواتین حقوق کے لئے آوازیں بلند ہونا شروع ہوگئیں اور پہلی مرتبہ برطانیہ سمیت دنیا بھر میں 1913ء کو خواتین کا عالمی دن منایاگیا اور اب تک ہر سال پابندی سے 8مارچ کو خواتین حقوق کا عالمی دن منایا جاتاہے۔ سوال یہ ہے کہ آیا اسلام نے خواتین کو حقوق دیئے ہیں یا ان پر صرف پابندیاں عائد کی ہیں۔ جیسا کہ بعض مغربی ماہرین اور سکالر پراپیگنڈا کرتے اور اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں جب ہم دور جاہلیت کے معاشروں کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے بہت سے مذاہب اور قوموں کے سربراہان نے عورت کو بدی کا اشتہار قرار دے کر اس کے حقوق غصب کرلئے اس کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا اسے ذاتی جائیداد قرار دے دیا۔ اسلام کی آمد سے قبل اکثر معاشروں میں یہ سلسلہ مدت ہائے دراز سے جاری تھا انہوں نے شرافت اور ذلت کے خود ساختہ پیمانے اور معیار قائم کر رکھے تھے۔ اسلام نے ان مصنوعی معیاروں کو ختم کر دیا اور بتایا تخلیق کے اعتبار سے مرد و عورت مساوی ہیں فرق صرف فکر و عمل اور ذمے داریوں کا ہے اور دماغی صلاحیتوں کا ہے۔
ارشاد ربانی ہے ’’ اے لوگو اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جاندار سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑا پیدا کیا اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں تو اس اللہ سے ڈرو جس کے نام سے ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو اور قرابت کا لحاظ رکھو‘‘ ( سورۃ نسائ)۔
رسول اکرم ؐنے فرمایا جو مسلم خاتون پانچوں وقت نماز ادا کرے رمضان المبارک کے روزے رکھے اپنے ستر کی حفاظت کرے اپنے شوہر کی اطاعت کرے اور اپنے من پسند دروازے سے جنت میں داخل ہوگی ( جامع ترمذی)۔
اسلام نے عورت کو ہر سہولت عطا کی کہ وہ اپنی فطری صلاحیتوں میں ترقی کرکے تعمیر تمدن میں اسلامی پابندیوں کے ساتھ اپنے حصے کا کردار ادا کر سکتی ہے جو حقوق اسلام نے عورت کو دیئے ہیں وہ کسی اور مذہب، دھرم یا نظریئے نے نہیں دیئے مثلاً وراثت کا حق، مہر کا حق، نان نفقہ، حسن سلوک تربیت میں مساوات بوقت ضرورت خلع کا حق وراثت کا حق عورت کو صرف اسلام نے دیا۔
قرآن مجید میں ہے اللہ تمہیں اولاد کے متعلق وصیت کرتا ہے کہ لڑکے کا حق لڑکیوں سے دوگنا ہے ( سورۃ نسائ)۔
لڑکی کے سنگل حق پر بہت سے مغربی مفکرین اعتراض کرتے ہیں حالانکہ ان کے معاشرے میں لڑکی کیلئے وراثت میں کوئی حصہ سرے سے نہیں جبکہ اسلام میں اس حق کے ساتھ ساتھ نان نفقہ حق مہر بھی اسے ملتاہے اور تربیت کے باب میں اسے مقام بلند حاصل ہے۔
حدیث نبویؐ ہے جس نے دو بیٹیوں کی تعلیم و تربیت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا اور فرمایا جو اپنی بہن یا بیٹی کو زندہ درگور نہ کرے اس کی توہین نہ کرے اور لڑکوں کو اس پر ترجیح نہ دے اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل فرمائے گا۔ ( ابو دائود)۔
عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کا حکم بھی اسلام میں واضح طور پر موجود ہے ارشاد نبویؐ ہے تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہل کیلئے بہتر ہے اور میں اپنے اہل کیلئے اچھا ہوں بحیثیت بیوی اور زوجہ اعلیٰ درجے کے حسن سلوک کا حق عورت کو دیا گیا رسول اکرمؐ نے فرمایا عورتوں کے ساتھ بھلائی کرو کیونکہ وہ پسلی سے پیدا کی گئی ہیں اور پسلی میں سب سے اوپر والی ہے اگر تم اسے سیدھا کرنا چاہو گے تو اسے توڑ دو گے عورتوں کے ساتھ حسن سکول کرو ( مسلم)۔ رسول اکرمؐ نے اپنی امت کو ان فرامین کے ذریعے یہ بات سمجھائی کہ جذبات کی فراوانی اور حسیات کی نزاکت انتہا پسندی کی طرف میلان عورتوں کی فطرت میں اسی فطرت پر اللہ تعالیٰ نے اسے پیدا فرمایا ہے اور جذبات کو عورت کی فطرت سے نکالنا ناممکن نہیں تو بہت مشکل ہے اس میں عورت کا کوئی قصور نہیں خالق کی مرضی اور حکمت عملی ہے عورت کے ساتھ تعلق اور روابط میں ان تمام چیزوں کو سامنے رکھنا چاہے آج جو لوگ عورتوں کی آزادی کے نعرے لگا رہے ہیں۔ وہ ان کے حقوق کیلئے مخلص نہیں بلکہ وہ انہیں بے حیائی کا اشتہار اپنی مصنوعات کی فروخت کیلئے ایڈورٹائز منٹ کا مہرہ بنانا چاہتے ہیں ان کی عورت کے مقام و مرتبے یا اس کی عزت و آبرو کے تحفظ کی بالکل پرواہ نہیں صرف وہ اسے جنسی تسکین کا بے باکانہ ذریعہ سمجھتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ اسلام نے عورت کو باوقار حیثیت دینے کیلئے جو پابندیاں عائد کی ہیں ان کو ختم کرکے اسلامی معاشرے کو تتر بتر کر دیں لیکن خواتین اسلام کو یہ بات اچھی طرح سمجھنا ہوگی کہ اسلام نے ان کی جان و مال عزت و آبرو کے تحفظ کے اصول بنائے ان کو معاشی و تمدنی حقوق دیئے ان کو ایسا مقام دیا کہ کوئی ان پر ظلم اور دست درازی نہ کر سکے اگر آج ہم مغربی سوچ و فکر کو بلا سوچے سمجھے قبول کر لیں گے تو ہمارا خاندانی نظام تباہ و برباد ہوجائے جیسا کہ مغرب میں ہوچکا ہے ارباب اختیار کی ذمے داری ہے وہ معاشرے کو بچانے خاندانی نظام کو مضبوط و مستحکم کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔
اسلام کا پیغام یہ ہے
تعلیم عورتوں کی ضروری تو ہے
مگر وہ خاتون خانہ ہوں سبھا کی پری نہ ہوں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button